تم یاد آتے ہو

Poet: محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ By: Mohammed Masood, Nottingham

جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو
خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو

رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر
کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو

کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے
سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو

لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے
وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو

ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک
اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو

کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر
جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو

کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا
نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو

مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی
رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو

Rate it:
Views: 1
18 Sep, 2026
More Sad Poetry