تم میرے کیا ہو
Poet: Irfan Ali By: Irfan Ali, Rawalpindiمیں بھی تو حق رکھتاہوں
کہ تجھے اپنا کہوں
تجھے چاہوں تجھ سے بولوں
تجھے وفا کہوں
سحر کہوں شبنم کہوں
یا صبا کہوں
تجھے پھول کہوں
اپنے آنگن میں لگاؤں
تجھے دیکھوں تجھے چھوؤں
سینے سے لگاؤں
سورج کی نرم کرنوں کی طرح
دھیمی سی دستک ہو تم
اپنے در و دیوار کو
ان کرنوں سے سجاوں
چودھویں کی رات گھر کی چھت پہ
اے چاند! تیری چاندنی میں نہاؤں
تجھے چاند کہوں یا
چاندنی سمجھوں
جسم و جاں سمجھوں
روح کی طرح سمجھوں
سینے میں اٹھے طوفاں کیوں؟
جذبات میں آئے یہ ہیجان کیوں؟
میں بھی تو حق رکھتا ہوں
تجھے کوئی نام دے دوں
تجھ سے بولوں
کوئی بات کروں
تجھے آواز دوں
کوئی پیغام دے دو
کیا اب بھی نہ سمجھو گے
تم میرے کیا ہو!
مجھے جواب دو!!
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL








