تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
Poet: Sahir Ludhianvi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے
میرے دل کی میرے جذبات کی قیمت کیا ھے
الجھے الجھے سے خیالات کی قیمت کیا ھے
میں نے کیوں پیار کیا تم نے نہ کیوں پیار کیا
ان پریشان سوالات کی قیمت کیا ھے
تم جو یہ بھی نہ بتاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے ، میں نے تو محبت کی ھے
زندگی صرف محبت ھی نہیں کچھ اور بھی
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ھے
بھوک اور پیاس کی ماری ھوئی اس دنیا میں
عشق ھی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ھے
تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ھے تم کو
میں نے تم سے ھی نہیں سب سے محبت کی ھے
تم کو دنیا کے غم و درد سے فرصت نہ سہی
سب سے الفت سہی مجھ سے ھی محبت نہ سہی
میں تمھاری ھوں یہی میرے لئے کیا کم ھے
تم میرے ھو کے رھو یہ میری قسمت نہ سہی
اور بھی دل کو جلاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے
تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






