تمہاری یاد آتی ہے
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آبادجب موسم بدلتے ہیں
جب لہجے بدلتے ہیں
جب پھول کھلتے ہیں
جب بادل برستے ہیں
جب دن نکلتا ہے
جب شام ڈھلتی ہے
اداس شام میں اکثر
تمہاری یاد آتی ہے
مجھے اک بات بتاؤ
ذرا یہ تو سمجھاؤ
محبت جنون بن جاۓ
توکیوں حاصل نہیں ہوتی؟
جس کو پانا مشکل ہو
اس سے محبت کیوں ہوتی ہے
اداس شام میں اکثر
تمہاری یاد آتی ہے
جب کوئی محبت ک
وفا کا نام لیتا ہے
جب کوئی جفا میں ٹوٹ جاتا ہے
ساتھ چل کر کوئی
جو رخ موڑ لیتا ہے
دل ء حساس کو ٹھوکر سے
توڑ دیتا ہے
جب چاند مسکراتا ہے
اور ستارے چمکتے ہیں
میں اور تنہائی
جب ہمتنگوش ہوتے ہیں
یادوں کے بند دریچے
ہولے سے جب کھلتے ہیں
جب آنکھ برستی ہے
اداس شام میں اکثر
تمہاری یاد آتی ہے
جب افق پر
دن اور رات ملتے ہیں
جب صبح کے ستارے
چاند سے بچھڑتے ہیں
پھول جب مہکتے ہیں
اور بارش کے پانی میں
جب عکس ڈھلتے ہیں
کسی پھول سے عنبر
جب خوشبو ملتی ہے
اداس شام میں اکثر
تمہاری یاد آتی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






