برق الفت جو تجلی سے جلانے نکلے
Poet: دانیال حیدر جعفری By: دانیال حیدر جعفری, Islamabadبرقِ الفت جو تجلی سے جلانے نکلے
تو سرِ راہ محبت کے فسانے نکلے
کل زمانے کو سنائیں گے یہ غزلیں میری
آج جو ہیں میری آواز دبانے نکلے
ہر نظارے میں نمایاں ہوا جلوہ ان کا
حُسن جب حُسن پرستوں سے چھپانے نکلے
آج مارے گئے وہ اپنی انا کے ہاتھوں
جب مجھے برسرِ میدان بچانے نکلے
سنگ ہاتھوں میں لیئے اہلِ زمانے آئے
آئینہ ہم جو زمانے کو دکھانے نکلے
باخدا جان سے جائیں گے یہ دنیا والے
دردِ دل ہم جو انہیں اپنا سنانے نکلے
ایک لمحہ تھا، تیرے وصل کا لمحہ اس میں
تُو نہ سمجھے گا میرے کتنے زمانے نکلے
اُس کو رغبت تھی نئے طرز محبت سے بڑی
میرے اندازِ محبت بھی پرانے نکلے
جب وہ گویا ہوا تب اُس کی زباں سے حیدر
ترکِ الفت کے بھی کیا کیا نہ بہانے نکلے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






