بتاؤ
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہکیا ہوگی مرے خواب کی تعبیر بتاؤ
مشکیں ہے مرے پاؤں میں زنجیر، بتاؤ
یہ ملک مرا روز تنزّل کو رواں ہے
کیا اس کا علاج، اس کی ہے تعمیر، بتاؤ
کی جس کے لیے چوری وہی چور بتائے
کیا ہوگی بھلا ایسوں کی تعزیر بتاؤ
نظروں میں تمہاری جو نہیں ہے نہ سہی پر
اپنی تو ذرا شہر میں توقیر بتاؤ
کیا وجہ کہ ہم دولتِ ایماں سے تہی ہیں
مسلم ہوں سبھی ایک وہ تکبیر بتاؤ
دشمن کو گماں ہم میں تب و تاب نہیں
اب ان کو ذرا جوہرِ شمشیر بتاؤ
جتنا ہو رشیدؔ ان کو رویّے پہ ندامت
لوٹے ہیں کمانوں میں کبھی تیر، بتاؤ؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






