اے ہم نوا تیری صحبت میں رفاقت کا خوب یہ اعزاز رہا
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston کہتے ہیں لوگ عمر بھر میں تنہا رہا
وہ نہیں تو کیا تخیل اسکا پاس رہا
نہیں جانتے وہ ہر پل میرے ساتھ رہا
کیا خوب زندگی یہ انوکھا اپنا ساتھ رہا
اطراف مینں پھیلی خوشبو کا احساس رہا
بس اک وہ اور اک میں کچھ نہ یاد رہا
سانسوں کی سرگوشیوں کا طلسم پاس رہا
اس تنہائ کا غم کیا ہر دم میں شاد رہا
یوں اپنی ملاقات کا ہر دم اک نیا انداز رہا
ربط ہوا نہ اقرار ہوا پر عشق اپنا جاری رہا
اے دوست تیری دوستی پر یوں سدا ناز رہا
مراسم ہوے نہ ہوے پر کشکول اپنا نہ خالی رہا
وہ ہم کلام رہا اپنے درمیاں نہ کوی حجاب رہا
نہ پوچھ مجھ سے شب بھر کون میرے ساتھ رہا
صبح ہوی کب رات گئ میں تو یوں عالم خواب رہا
حسن و عشق کا لطیف امتزاج یہ خوبصورت انتخاب رہا
حیسے مہ ومینا کا محنل میں دور پہ دور چلتا رہا
سلسلہ ہم نشینی کا محفل میں یوں اپنا ساتھ رہا
حیسے ساقی کا محفل میں صبوح پہ ہر پل ہاتھ رہا
وجد طاری رہا خمارعشق یوں دم با دم بڑھتا رہا
ہم جام وہم قلب رہے پر من یوں آبگینہ شفاف رہا
ہونٹوں پے فقط اپنے یوں اک ہی جام ایک ہی نام رہا
عشق میں ہوے ہم چاک گریباں پر دامن اپنا بے داغ رہا
عشق کے دہر میں منفرد یوں اک اپنا ہی مقام رہا
یوں تیرے چرنوں میں رہ کر بھی میں ہی فراز رہا
اے ہم نوا تیری صحبت میں رفاقت کا خوب یہ اعزاز رہا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






