اے میری ماں
Poet: فرزین ایلی By: فرزین ایلی, Jamshoroاے میری ماں
مت ہو حیراں، نہ ہو پریشان اے میری ماں
مجھ سے پہلے تونے بھی تو سہے تھے یہ
نشان اے میری ماں
میرے زخموں پر تونے مرھم لگائے
تونے مگر کس سے کیے تھے بياں اے میری ماں
تیری دعا نے تو دردِ بوجھ اٹھایے میرے
تیرے درد کیوں نہیں رکتے کیوں ہيں رواں اے میری ماں
چھپا لیا آنچل میں اپنے، پی لیے آنسو بھی میرے
تیرے آنسو مگر ابھی تک ہيں عیاں اے میری ماں
میرے کرب کا بوجھ بھی سہا اپنی ڇاتی پر
جب سے جنمی ہے تب سے چھلنی ہے کس نے نہ دیا
تم پہ دھیان اے میری ماں
آنسو پی کے مسکراتی ہے، کرتی تک شکایت بھی نہیں
رنج دیے ستايا بھی، دی مگر تم نے دعا خدا تیرا نگہبان اے میری ماں
تیری عظمت کا تقدس میں کیا لکھوں، میں کیا جانوں
خدا بھی بنا کے الجھا رہا یہ رشتا نہیں جان سکا تیری شاں اے میری ماں.
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






