ایک پاگل نظم
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiبس دھواں ہی دھواں
سچ کا چہرہ نہیں
نہ ہی پہچان ہے
بس گماں ہی گماں
لفظ سیال ہیں
جس بھی پیکر میں ڈھالو گے ڈھل جائیں گے
ہر حقیقت کے تیور بدل جائیں گے
آنکھ کی پُتلیوں میں اُترتے مناظر فقط وہم ہیں
جن کو ان پہ یقیں، قابلِ رحم ہیں
ہر نظر ایک خالق
نظارہ محض خواہشوں آرزوؤں کی تخلیق ہے
معتبر کوئی جذبہ نہ احساس ہے
مستند ہوسکا ہے کوئی خواب کب
دل کسے راس آیا، کسے راس ہے
آدمی بس ذہن، معدہ اور دست وپا
دل تو بکواس ہے
روح پر کیا بحث
غور کیوں کیجیے، ہوں سوالات کیا
اس کی وقعت کوئی؟ اس کی اوقات کیا
ضابطے، قاعدے، منطقیں اور بدن
بس یہی ہے ترے آدمی کا شرف!
زندگی کا شرف
جسم، سانسیں سلامت
خوشی رائیگاں
زندگی رائیگاں
تیری پھونکی ہوئی روح بھی رائیگاں
یہ تو تمہید تھی
رات کے ساتھ جو ذات کے شور میں
پھیلتی ہی گئی
جانے کہنا تھا کیا
یاد آتا نہیں
چھوڑیے، پھر سہی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






