ایک خواہش ہے بس زمانے کی

Poet: ابھیشیک کمار امبر By: Shaman, Rawalpindi

ایک خواہش ہے بس زمانے کی
تیری آنکھوں میں ڈوب جانے کی

ساتھ جب تم نبھا نہیں پاتے
کیا ضرورت تھی دل لگانے کی

آج جب آس چھوڑ دی میں نے
تم کو فرصت ملی ہے آنے کی

تیری ہر چال میں سمجھتا ہوں
تجھ کو عادت ہے دل دکھانے کی

ہم تو خانہ بدوش ہیں لوگو
ہم سے مت پوچھئے ٹھکانے کی

Rate it:
Views: 477
11 Sep, 2021
More Sad Poetry