ایک تالاب کی کہانی
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIآج دفتر جاتے ہوئے
ایک بچے کو دیکھا
کہ تختی کو بلا بنائے کھڑا تھا
مجھے دیکھتےہی وہ بولا
چلو گیند پھینکو
شہنشاہ ِمعصومیت کے یہ احکام جب میں بجا
لا چکا
تو یکایک میں بچپن کے ماحول میں تھا
میرے ہاتھ میں میری تختی تھی
اور سر پہ بستہ تھا
اور میری صحت بلا کی تھی
ابھی وقت باقی تھا
اور میں خراماں خراماں چلا جا رہا تھا
میرے مدرسے اور مجھ میں فقط ایک تالاب کا
فاصلہ تھا
یہ تالاب کل تک تو بارش کے پانی سے لبریز تھا
آج لیکن نہ پنہاریاں گاگریں بھر رہی تھیں
نہ مرغابیاں تیرتی تھی
فقط ایک شیشہ سا مشرق سے مغرب تلک جگمگاتا تھا
اور ایک دھندلائے سورج کو کتنی ہی موہوم قاشوں
میں بانٹے زمیں پر بچھا تھا
میں کچھ سہما سہما سا کچھ دم بخود سا کھڑا تھا
کہ استاد جی مدرسے جاتے ہوئے مرے پاس ٹھہرے
بڑے پیار سے مجھ سے کہنے لگے
تم نے تالاب کا حال دیکھا؟
گئی رات شدت کی سردی پڑی تھی
سو تالاب کی سطع منجمد ہو کے تالاب کی
ساری صورت بدل دی
ابھی دھوپ تیز ہو گی
تو تالاب کی سطع چٹخے گی
پھر برف کی چادر سی یہاں سے وہاں، تیرتی
اور پگھلتی ہوئی
آخرکار پانی میں گھل جائے گی
اور تالاب نیچے سے اوپر ابھر آئے گا
مجھ کو پانی پہ رحم آگیا
ٹھنڈ سے کانپتے کانپتے اس کا کیا حال ہو گا
اسے برف کے قید خانے سے کیسے رہائی دلائوں
اسے دھوپ میں لا کے کیسے بٹھائوں
یکایک مجھے ہاتھ میں اپنی تختی نظر آگئی
میں نےیخ سطع پر کھنچ کر اس کو مارا
تو برف ایک دم ٹھیکری ٹھیکری ہو گئی
اور نیچے سے پانی نے ایک قہقہ مار کر مجھ سے آنکھیں ملائی
تو جیسے مجھے دوجہاں کی خوشی گھٹریوں گھٹریوں مل گئی!
اب میں دفتر جاتا ہوں
اور اپنی عینک لگی آنکھ سے دیکھتا ہوں
کہ چاروں طرف سطع پر برف چھائی ہوئی ہے
مگر میرےہاتھوں میں تختی نہیں ہے
اُسے میرا علم، اور عمر، اور کتنے کڑے تجربے چھین
کر لے گئے ہیں
میں محبوس پانی کی حالت پہ کڑھتا ہوں
اور صرف کڑھتا ہوں
اور صرف کڑھنے سے سورچ چمکتے نہیں
اور برفیں پگھلتی نہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






