ایک بے حس لڑکی
Poet: By: Sumera Ataria, GUDDUاسے کچھ لوگ کہتے ھیں ۔ ۔
بہت بے حس سی لڑکی ھے،
سدا خاموش رھتی ھے
بہت کم مسکراتی ھے
نمی آنکھوں میں رھتی ھے
بھت سوچوں میں رھتی ھے
بسی آنکھوں میں ویرانی
چھپی چہر ے پہ حیرانی
اگر کوئی جو کچھ پوچھے
جوابی بات کہکر ۔ ۔ پھر
یونہی خامو ش رھتی ھے
بڑی بے حس سی لڑکی ھے
خود ھی میں گم ھی رھتی ھے
یہ کچھ مغرور لڑکی ھے ۔ ۔ ۔
یہ باتیں سنکے اس لڑکی کو
پھر کچھ یاد آتا ھے ۔ ۔ ۔ ۔
کبھی یہ لوگ کہتے تھے ۔ ۔
بڑی چنچل سی لڑکی ھے
ھمیشہ مسکراتی ھے ۔ ۔
اور اکثر گنگناتی ھے ۔ ۔
چمکتا چاند سا چہرہ
کھنکتا شو خ سالہجہ
دیے جلتے ھیں آنکھوں میں
بڑی شوخی ھے باتوں میں
فضائیں دیکھ کر اسکو
خوشی سے جھوم جاتی ھیں
چمکتی رات اسکے نین میں
سپنے جگاتی ھے ۔ ۔ ۔
تمازت دھوپ کی چہر ے پہ اسکے
گل کھلاتی ھے ۔ ۔ ۔
کبھی بارش کے موسم میں
سہانے کھیل کشتی کے
کبھی گڑیوں کی شادی ھو
کبھی گیتوں کی بازی ھو
یہ ھر دم پیش رھتی ھے
بڑی الہّڑ سی لڑکی ھے
یہ کتنی شو خ لڑکی ھے ؟
.............
مگر اب لوگ کہتے ھیں ۔ ۔
عجب بے حس سی لڑکی ھے
بہت کم مسکراتی ھے ،
سدا خاموش رھتی ھے
..........
انہیں معلوم کیسے ھو ؟
وفا کے قید خانے میں ۔ ۔
فرائض کے نبھانے میں
جو لڑکی دار چڑھتی ھے
جسے سپنوں کے بننے کی
سزائیں وقت نے دی ھو ں
جو رسموں اور رواجوں کے
الاؤ میں سلگتی ھو ۔ ۔ ۔
لبوں کی نوک پر جسکے ۔ ۔
گلے بے جان ھوتے ھوں
جسم کی قید میں ۔ ۔ ۔
جب روح اکثر پھڑپھڑاتی ھو
تو اک کمزور سی لڑکی ۔ ۔
یونہی بے موت مرتی ھے
تو پھر یوں لوگ کہتے ھیں ۔ ۔
بہت سنجیدگی اوڑھے ۔ ۔
عجب بے حس سی لڑکی ھے
بھت کم مسکراتی ھے ۔ ۔
سدا خاموش رھتی ھے ۔
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






