اچانک عذاب

Poet: محمد زریاب خان By: Muhammad zaryab khan , Islamabad

اُس کے بارے مجھے آج بھی خواب آتے ہیں
جن میں میرے کئی سوالوں کے جواب آتے ہیں

مجھے چھوڑ کر اچھا نہیں کیا تم نے۔تمہاری غلطی
۔مجھے علم ہے اکثر زندگی میں ایسے حالات آتے ہیں

تجھے پانے کی تمنا ہے تو سہی مگر اب چپ ہوں
ورنہ ہنرتو ہم کو بھی بے حساب آتے ہیں

تو نے مجھے تفریق کیا اور ضرب اپنی آنا کو
یہ سب تو مان لیا کیا آپ کو وقت کے حساب آتے ہیں

لاکھ مَنا چکا تمہیں مگر اب نہیں۔تمہاری باری
کیسے روٹھتے ہیں؟ یہ طریقے ہمیں بھی جناب آتے ہیں

میں کوئی جون تو نہ تھا۔تو پھر کیوں زریاب
ہم جیسے شاعروں پر ہی ایسے اچانک عذاب اتے ہیں

Rate it:
Views: 528
02 Jan, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL