اٹھائے پھرتا کہاں تک تیرے نشیلے ہاتھ
Poet: Rafiq Sandeelvi By: Rashid Sandeelvi, islamabadاٹھائے پھرتا کہاں تک تیرے نشیلے ہاتھ
خود اپنے جسم پہ تھے بوجھ میرے ڈھیلے ہاتھ
سدا محیط رہیں بستیوں پہ خشک رتیں
کسی بھی سر پہ نہ رکھے ہوا نے گیلے ہاتھ
عجب نہیں کہ یہ رسم حنا بھی اٹھ جائے
حنوط کر کےرکھو دلہنوں کے پیلے ہاتھ
گرا زمین پہ پرچم تو علم تک نہ ہوا
محاذ جنگ پہ گنتے رہے قبیلے ہاتھ
افق پہ آج کوئی چودھویں کا چاند نہیں
بلا رہے ہیں کسے پانیوں کے نیلے ہاتھ
More General Poetry







