آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
Poet: محمداویس مغل By: محمداویس مغل, Faisalabadرُسوائی میں تو نا تھاجینا دشوار مگر
تیری جُدائی میں پل پل میں مرتا ہوں
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
ہو دن کا اُجالا یا ہو تاریکی شب
جی نہیں سکتابن تیرےمیں اب
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
ہنستا ہوں روتا ہوں مگر سب سہتا ہوں
جب بھی ذکر تیرا کسی سے میں کہتا ہوں
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
توں ہے سمندر یادوں کا میری
بن کےساغرجب میں تجھ میں بہتا ہوں
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
خالی دل کومیرے یادوں سے تیری میں بھرتا ہوں
توں بھی جانےہےکہ محبت میں تجھی سےکرتاہوں
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
بیٹھا ہوں بچھائے نظریں میں راہ میں تیری
توں جولوٹ آئے پھر سےتم کوکھونےسےڈرتاہوں
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
آنکھوں سےدل میں اتارا تھا تم کو ہم نے
دُعا میں اپنی مانگا کے تم کو نا کوئی غم دے
آتی ہو تم یاد بہت جب بھی
ذکر محبت کا میں کرتا ہوں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






