انا کے ہاتھوں مجبور تھا
Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khanانا کے ہاتھوں مجبور تھا بہت کھل کہ رویا نہ ہوگا
تنہائی کا درد اسپہ منکشف نہ تھا رات بھر سویا نہ ہوگا
میرے آنچل سے ڈھانپ دیا تھا اسکے چہرے کو
ایسا شریر جھونکا اس بام پہ پھر آیا ہوگا
میری چوڑیوں کی کھنک سے بن جاتی تھی شہنائی سی رات
خاموش رتجگوں میں کیسے دل بہلاتا ہوگا
جدا کرکے خود سے لوٹتے وقت اک نظر مڑ کر مجھے دیکھا تو ہوگا
کیوں صفائی کاحق نہیں دیا اسے خود پہ چلایا ہوگا
ناٹ لگاتے ہوئے نکٹائی کو میرا لمس محسوس کرتا تو ہوگا
دیکھ کر تروتازہ سرخ گلاب میرے جوڑےکا حسن یادآیا تو ہوگا
یوں تو تنہائی کے زخم سے گھائل ہے دل میرا مرہم اس نے بھی لگایا نہ ہوگا
بھول کر گاڑی کی چابی اپنی ہی جیب میں جانے کہاں کہاں سر کھپایا ہوگا
دھندلا نہ جاے عکس ماضی کی گرد سے میری تصویر عروسی کو چوماتو ہوگا
بچھڑکر کس حال میں ہو گی اس خیال سے دل گھبرایا ہوگا
کیسے ممکن ہو کہ لوٹ آئے وہ انگنت ترکیبوں سے لجھاہوگا
مجھ سے بچھڑنے کی کتنی جلدی تھیاسے لمحں کی طوالت نے سمجھایا ہوگا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






