امید نو

Poet: Rizwana Waqar By: Rizwana Waqar, Lahore

سال تو ہر سال بدلے گا
دیکھنا تو یہ ہے کہ کیا
رنگ بدلے گا روپ بدلے گا
چال بدلے گی ڈھال بدلے گا

ہم وہی تم وہی
قصے وہی وہ ہی کہانی
ڈھارس نئی امنگ تو نئی ہے
شاید اب کے حال بدلے گا

پھر سوچتی ہوں
تم وہی میں وہی تو
تو پھر کس طرح
یہ سال بدلے گا

وہی ملا وہی پنڈت
شور وہی ،وہی شرابہ
خانہ وہی، وہی خرابہ
کیوں کر حال بدلے گا

لٹنےوالے وہی لٹیرےوہی
حکومت وہی وڈیرے وہی
گو بدل گیا حکمراں
حال عوام کا بدلے گا

Rate it:
Views: 726
31 Dec, 2018
More Political Poetry