امّیدکوئی
Poet: پلک محروم By: PALAK MAHROOM, gopalganjﻣﯿﮟ ﺟﯿﺘﺎﮨﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ،ﺟﯿﻼﺗﯽ ﮨﮯ
ﺩﯾﮑﮯﺩﻧﯿﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﻮﺉ
ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎﮨﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻼﺗﯽ ﮨﮯ
ﺁﻧﮑﻬﻮﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﮐﮯﺩﯾﺪﮐﻮﺉ
ﻣﯿﮟ ﺗﻬﮏ ﺟﺎﺗﺎﮨﻮﮞ ﭼﻠﺘﮯﭼﻠﺘﮯ
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﻬﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﭘﻬﺮﻋﺰﻡ ﺳﺘﻮﻥ ﺩﮐﻬﻼﺗﯽ ﮨﮯ
ﻟﺒﻬﺎﺗﯽ ﮨﮯﭘﻬﺮﻋﯿﺪ ﮐﻮﺉ
ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎﺭﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺗﯽ ﮨﮯ
ﭼﻨﭽﻞ ﻧﺪﯾﺎﮞ، ﭼﻨﭽﻞ ﺩﻫﺎﺭﮮ
ﻣﯿﮟ ﺟﮕﺘﺎ ﺭﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺒﻬﮑﮯ ﺗﺎﺭﮮ
ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﻧﮧ ﺭﮨﻮﮞ، ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﺎﺭﮨﻮﮞ
ﮐﮩﺘﮯﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮮﺳﺎﺭﮮ
ﺁﺋﻮ ﮨﻢ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺮﮐﺮﮮ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺒﻬﮑﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ
ﺟﻞ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﯿﮟ،ﺟﻤﮑﻮ ﻧﮩﯿﮟ
ﻧﮧ ﺟﻤﮑﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﻢ ﺳﮍﻭ
ﺍﻣﯿﺪ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯﮐﮧ ﻧﮧ
ﺟﯿﺘﮯﮨﻮﺋﮯ ﺗﻢ ﻣﺮﻭ
ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﻮ
ﭼﻠﺘﮯﭼﻠﺘﮯ
ﺍﻥ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻬﻮ ﺁﺋﻮﮔﮯ
ﻓﻀﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﻣﮧ ﭘﺎﺭﻭﮞ
ﺳﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻬﻮ ﺁﺋﻮﮔﮯ
ﺍﻣﯿﺪ ﺭﮐﻬﻮ، ﺷﮑﺮﮔﺰﺍﺭﺑﻨﻮ
ﻫﺮ ﭼﯿﺞ ﭘﮯﻗﺎﺑﻮﭘﺎﺋﻮﮔﮯ
ﺍﻥ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ، ﺳﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﺍﭘﻨﮯﺍﺭﺩﮔﺮﺩﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﻮﮔﮯ
More Life Poetry
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے "وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے"
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
وشمہ خان وشمہ
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی ماں کی خوشبو سے مہکتا ہے مرا سارا وجود
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
Syed Badi Ur Rehman
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں سردر و کیف ہوں میں، زندگی بھر کی ضرورت ہوں
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں
وشمہ خان وشمہ






