الوداع اے دوست
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Muhammad Zia Siddiqui, IslamAbadتیری دوستی میں فنا ہو رہے ہیں
تڑپتا ہے دل کہ جدا ہو رہے ہیں
کرائی زمانے کی ہے سیر مجھ کو
کبھی تو نے سمجھا نہیں غیر مجھ کو
یہی سوچ کر بے بہارو رہے ہیں
تڑپتا ہے دل کہ جدا ہو رہے ہیں
زمانے کے جھنجھٹ سے لڑنا سکھایا
مجھے ہر برائی سے کس نے بچایا
تیرے نام پہ ہم فدا ہو رہے ہیں
تڑپتا ہے دل کہ جدا ہو رہے ہیں
تیری ہر ادا کو میں کیسے بھلاؤں
تجھے آج ساجن میں کیسے اٹھاؤں
یہ میت نہیں دلربا سو رہے ہیں
تڑپتا ہے دل کہ جدا ہو رہے ہیں
جگر آب ہیں ساعتیں الوداع کی
یہیں تک تھے ہمراہ یہ مرضی خدا کی
صدیقی تو اہل وفا کھو رہے ہیں
تڑپتا ہے دل کہ جدا ہو رہے ہیں
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL








