اعتراف
Poet: Ahsan Sailani By: Ahsan Sailani, faisalabadمیں نے مانا کہ زیاں کار ہوں ،ناداں ہوں
تیرے رستے کے سوا اور نہ رستہ پایا
میں نے اقرار کیا ،ظالم و جاہل ہوں میں
میں نے یہ جان لیا ،مان لیا ،مجر م ہوں میں
آگیا یاد مجھے فصل ِ ازل کا منظر
وہ ملاحت میں بسی ،وصل کی پیاری ہستی
بیل بُوٹے ،وہ عجب حُسن ِ ازل کے جلوے
وہ عطر بیز فضاؤ ں میں چٹکتے غنچے
حُسن وش بزم میں بکھر ے ہوئے موتی جیسے
رنگ وہ رنگ کہ آواز میں ڈھلنے والے !
چاند سور ج تھا ،فلک تھا ،نہ ستارے تھے وہاں
ایسی صورت تھی وہاں ،مثل نہ کوئی اُس کی
چاند سور ج کی ،ستار وں کی ،نہ برگِ گُل کی
ایسی تشبیہ کا بہتان نہ باندھوں اُس پر
ظُلمت ِ خاک میں آیا تو میں سب بھول گیا
یاد مجھ کو نہ رہا نُور کی صورت والا
میں نے پھر عقل کو تدبیر کو سب کچھ سمجھا
میں نے سمجھا کہ فقط میں ہوں ،کوئی اور نہیں
میں نے سمجھا تھا کہ تدبیر سے سب کچھ ہوگا
میں نے احسا س کے رنگ کو معنی بخشے
میں نے تو تخت ِ ہوا پر بھی سواری کرلی
آگ کو رقص کے انداز سکھائے میں نے
میں نے خوشبو کو بھی آواز بنا کر دیکھا
میں نے جی کر دیکھا ،میں نے مر کر دیکھا
میں نے رشتوں کی مروت کے تماشے دیکھے
اک محبت تھی ،سو وہ بھی میں نے کر ہی دیکھی
میں محبت کی فصیلوں کو بھی سر کر آیا
میں نے الفاظ کے سینے سے معانی کھینچے
میں نے منطق کے سمند ر سے جواہر رولے
میں کہاں جاؤ ں مرے دل کو سُکوں پھر بھی نہیں
ایک سُنسان جزیرے پہ کھڑا ہوں اب میں
میری تدبیر بنی میرا حجاب ِ اکبر
اے میرے صبح ِ ازل کے میرے نُور ِ مطلق
میں نے اب جان لیا ہے کہ میر ی جان ہے تُو
تیرے محور سے جدا ہوکے کہاں جاؤ ں گا
میرا ظاہر بھی تُو اور میرا باطن بھی
اب میرا کام کہ میں تجھ کو پکارے جاؤں
اب تیرا کام کہ تُو کام بنادے میرے
دریا تیرا ہے تو کشتی بھی حوالے تیرے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






