اس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
عشقِ بے مہرکی نذرسب کر دیکھا ہے
آگ کا دریا ہےکہیں کانٹوں بھری راہیں
ہررستہ ہی الفت کا پُر خارو خطر دیکھاہے
خزاں چھین لیتی ہے جیسے گلستاں کے رنگ
ہنستے ہوئے چہروں کو یوں چشمِ تر دیکھا ہے
کسی اور ٹھکانے پر اب دل ہی نہیں لگتا ہے
گستاخ نگاہوں نے جب سے تیرا در دیکھا ہے
زمانے بھر سے الجھتا رہا ہوں میں تن تنہا
ہرشخص کے ہاتھوں میں پتھر دیکھا ہے
تیری موجوں کے طلاطم سے اب ڈرنہیں لگتا
اے سمندر میں نے تیرا ہر بھنور دیکھا ہے
تیرے غم نے میرے فن کو جِلا بخشی ہے
میں نے جاگتی آنکھوں خود کو سُخن ور دیکھا ہے
گر ہو سکے تو میرا تماشہ ء قہر بھی دیکھو
اے ستم گر تونے میرا صبر دیکھا ہے
وصال ِ یار کی نہ اک لمحہ کبھی نوبت آئی
زندگی میں کچھ دیکھا ہےتو ہجر دیکھا ہے
عشق نے یہ معجزہ بھی دکھایا ہے رضا
نگاہ ِ یارمیں عقیدت کو منور دیکھا ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






