اسی زمیں سے نمود میری، اسی زمیں پر حساب میرا
Poet: امجد اسلام امجد By: Muhammad Shoaib Awan, Karachiاسی زمیں سے نمود میری، اسی زمیں پر حساب میرا
میں پچھلی نسلوں کا خواب بن کر گزرتے لمحوں میں جاگتا ہوں
میں آنے والے دنوں کی آہٹ ہوں، ان زمانوں کو دیکھتا ہوں
جو سارے سینوں میں خواہشوں کے لباس پہنے اُبھر رہے ہیں
میں آنے والی رُتوں کے دامن میں ایسے پھولوں کو سونگھتا ہوں
ابھی تلک جو کِھلے نہیں ہیں
میں ایسے الفاظ سُن رہا ہوں جنہیں مطالب ملے نہیں ہیں
خزاں میں پُھوٹی ہیں میری کلیاں، اُگا ہے خوں میں گلاب میرا
اسی زمیں سے نمود میری، اسی زمیں پر حساب میرا
ستم رسیدوں کی بستیوں کو یری طرف سے نوید پہنچے
ابھرنے والا ہے اب وطن کی زمیں سے ہی آفتاب میرا
کہ میری آنکھوں پہ اُن کے فردا کا حال ظاہر ہے
میں نے دیکھا ہے، وہ شکم کی عظیم دوزخ کو بھرتے رہنے کی
داستاں کو بدل رہے ہیں
کرن کرن جو ترس رہے تھے، اب ان دریچوں سے دُکھ کے سایوں
کو قتل کر کے ضیاء کے لشکر نکل رہے ہیں
میں بادلوں کی نمی ہواؤں کے خشک جھونکوں میں چُھو رہا ہوں
میں جانتا ہوں اب ان زمینوں پہ آنے والے ہیں ایسے موسم
جو خواب جیسے حسین ہیں لیکن حقیقتوں کے لباس میں ہیں
میری طرف سے ستم رسیدوں کی بستیوں کو نوید پہنچے
کہ آنے والے دنوں کے دامن میں اُن کی خوشیاں بسی ہوئی ہیں
میں ان کو مژدہ سُنا رہا ہوں
کہ اُن کی قصے کا ہی تسلسل ہے باب میرا
گلاب بن کر مہکنے والا ہے اب زمانے میں خواب میرا
سلام تجھ کو طلوعِ فردا، ہراول انقلاب میرا
اسی زمیں سے نمود میری، اس زمیں پر حساب میرا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






