اب کہ ہر موسم ہی رضا، موسم ِ غم لگتا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadہرشخص جسے دیکھو یہاں شعلہ چشم لگتا ہے
اب دنیا میں تیری سانس لینا بھی جرم لگتا ہے
لذتِ غم ایسی ہے کہ احساس سے عاری ہے بدن
اب کہ ہرعارضہ مجھ کوتیرا لُطف و کرم لگتا ہے
ہر رستہ ہے پرُخار، ہرشب شبِ درد ہو جیسے
اذیت کی امر بیل پر ہر روز نیا زخم لگتا ہے
گریزاں ہیں سبھی مجھ سے کہیں ایسا تو نہیں
کچھ مجھ میں کمی ہوگی کچھ مجھ میں سقم لگتا ہے
ساتھ رہنے کی میرے، اُٹھا رکھی ہو قسم جیسے
یہ ہجر کا غم بھی میری طرح پُختہ عزم لگتا ہے
یہ زیست ِ لاحاصل اُس کی دہلیز پہ گزری ہے
کیا پوچھتے ہو میرا کیا وہ پتھرکا صنم لگتا ہے
لگتا ہے ٹوٹ کے بکھرے ہو بڑی شدت سے
لہجے میں بڑاکرب، باتوں میں بڑا دم لگتا ہے
کچھ عجب سی ہوا چلی ہے دل کےآنگن میں
اب کہ ہر موسم ہی رضا، موسم ِ غم لگتا ہے
تیری یاد میری آنکھوںمیں جھلماےئی ہے
آج پھر ٹوٹ کے برسے گا یہ ابرِکرم لگتا ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






