اب میں کیسے زندہ رہوں تمہارے بغیر لکی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمین کتنی خوش تھی کہ
تم ساتھ تھے میرے
چاہیں دور سہی پر اک
تم ہی تو ہم راض تھے میرے
نا کوئی تفصیل کبھی تم سے مانگی
نا کوئی دلایل کبھی تم سے مانگی
پھر بھی یر موڑ پے دیتے رہے سزا
جسے کوئی انجانا گناہ تھے تم میرے
نجانے میں کیسے
سوار ہو گئی کشتی میں تمہاری
جو مجھے تنہا چھوڑ گیے
جسے کوئی ادھورا خوب تھے تم میرے
تمہارے جانے کے بعد بھی
نا بدلی میری زندگی
اور نا ہی بدلی میں
پھر تم اتنی جلدی کیسے بدل گئے
جسے کوئی اچھے حالات تھے تم میرے
کیوں چھین لیا ؟ مجھے سے ذوق بھی میرا
جانتے ہو کیا ؟ ان چھپے لفطوں میں
اک تم ہی تو عنواں تھے میرے
کبھی چل کر تو دیکھنا تھا
ُان لفظوں پے جہاں قدم قدم پے
اشعار تھے تم میرے
میں ابھی تک بھولی نہیں تمہاری آواز کو
جسے دل کی دھڑکنوں کے ساز تھے تم میرے
اب میں کیسے زندہ رہوں تمہارے بغیر لکی
کہ اک تم ہی تو جینے ہی وجہ تھے میرے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







