Poetries by Mohib Khan Mohib
کیسے سجدہ کروں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیرت سے آنکھ نہ جپھک سکا بت مدتوں میں
یہ سجدہ کیوں نہ حیران کرے بت کدوں میں
جب سے پڑی ہے ان کے شکنیں جبیں پہ نظر
کھو گیا ھوں بس یونہی ھاتھ کی لکیروں میں
کیسے سجدہ کروں میں رب کے حضور
وہ بت کی مانند سما گئی ہے نظروں میں
طبیعت پھر مچل پڑی نظر ان کی آجانے سے
آجاتی ہے چاند سے طغیانی دریاوں میں
پوچھا کیا ہے بزم میں محب کے واسطے
کھو گئے فرشتے تقدیر کی کتابوں میں
Mohib
یہ سجدہ کیوں نہ حیران کرے بت کدوں میں
جب سے پڑی ہے ان کے شکنیں جبیں پہ نظر
کھو گیا ھوں بس یونہی ھاتھ کی لکیروں میں
کیسے سجدہ کروں میں رب کے حضور
وہ بت کی مانند سما گئی ہے نظروں میں
طبیعت پھر مچل پڑی نظر ان کی آجانے سے
آجاتی ہے چاند سے طغیانی دریاوں میں
پوچھا کیا ہے بزم میں محب کے واسطے
کھو گئے فرشتے تقدیر کی کتابوں میں
Mohib