Poetries by Tahir Javed Tahir

انٹرنیٹ انٹرنیٹ کا دور ہے لوگ انٹرنیٹ پرباتیں کرنے لگے ہیں
نوجوان لڑکے لڑکیاں انٹرنیٹ پرملاقاتیں کرنے لگے ہیں
شرم و حیاءسرِعام نیلام ہے بے حیائی کا بس کام ہے
ملک کے شرفاءفکر مند ہیں اب اس سے ڈرنے لگے ہیں
جن کی ننگی تہذیب ہے اُن کے لیے کب یہ عجیب ہے
اب لوگوں پر اس کے گندے رنگ چڑھنے لگے ہیں
کچھ ڈھونڈیں پڑھائی کے بہانے کچھ سگائی کے بہانے
چسکوں کی یہ ریل چلی ہے مسافر اس پر چڑھنے لگے ہیں
عریانی یہاں بے حساب ہے اسلیے انٹرنیٹ کامیاب ہے
دیکھ کر اسکے نئے ڈھنگ غیرت مند اب کڑھنے لگے ہیں
کبھی بُری سمجھی جاتی تھی بے حیائی اب فیشن بن کرآئی
ماﺅں بہنوں کے کپڑے جسموں سے سے کڑنے لگے ہیں
دیکھ کر رنگ بھرنگی تصویریں بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہمیشہ چلتے تھے سیدھی راہ پراب وہ اڑنے لگے ہیں
ہر ایک کا اب تو بُرا حال ہے اسے دیکھنے کو بے قرار ہے
برے اسکے اثرات ہیں بچوں کے ذہن بکھرنے لگے ہیں
کچھ لوگ جو ہوتے ہیں مجبورجن کی پہنچ سے ہے یہ دور
دیکھ کر یہ نئے رنگ ڈھنگ اندر ہی اندر سڑنے لگے ہیں
ریٹائیرمنٹ کا بڑا فائدہ ہے وقت بچتا بہت زیادہ ہے
فارغ بوڑھے ان راہوں پر اب چلنے لگے ہیں
اے طاہر تو ہے مجبوراس لیے ہے انٹر نیٹ سے دور
کس لیے تو جلتا ہے’ تجھے اب کیوں ہول’ پڑنے لگے ہیں
Tahir Javed Tahir
بیگم بندر کی طرح مجھے نچاتی ہے میری بیگم
دن میں بھی ستارے دکھاتی ہے میری بیگم
چغلیوں میں لگتاہے ماسٹرز کیا اِس نے
محلے بھر میں آگ لگاتی ہے میری بیگم
پنجابی بولتی ہے انگریزی لب و لہجے میں
یوں سوسائٹی ہائی بناتی ہے میری بیگم
خواب میں ڈر کرجاگ جاتا ہوں اکثر
بغیر میک اپ جب یاد آتی ہے میری بیگم
مجھے دیتی ہے کھانے میں کریلے اور کدُو
خُود ہر روز روسٹ اُڑاتی ہے میری بیگم
ہر موضوع پر بولتی ہے جاہلوں کی طرح
بولنے میں نہیں مات کھاتی ہے میری بیگم
دکھائی دیتی ہے کبھی رفیق تو کبھی فیقا
رات کوجب سوٹا لگاتی ہے میری بیگم
رُونے دھونے میں کوئی نہیں اس کا ثانی
ہر میت پر بُلائی جاتی ہے میری بیگم
بن ٹھن کر جب دیکھتی ہے مجھے پیار سے
پھر جھُوٹ مجھ سے بلواتی ہے میری بیگم
ہر وقت رُونا روتی رہتی ہے مہنگائی کا
لیکن روز بیوٹی پارلر جاتی ہے میری بیگم
جب آتے ہیں اس کے ماں باپ ملنے
ظالم سے مظلوم بن جاتی ہے میری بیگم
ہر فیشن دیکھ کر فلموں میں،ڈراموں میں
درزیوں کی سیل بڑھاتی ہے میر ی بیگم
سسرالی مہمانوں سے ہے اسے خدا کا بیر
بس پانی پر ہی ان کو ٹرخاتی ہے میری بیگم
میکے میں مشہور ہے اس کی مہمان نوازی
اُنکو ناشتے میں پیزا کھلاتی ہے میری بیگم
اپنی زبان سے کہتی ہے حُور ہوں میں
مجھے تو لنگور جیسی نظر آتی ہے میری بیگم
کتنے سہانے گزرتے ہیں اپنے وہ دن
جن دنوں میکے چلی جاتی ہے میری بیگم
اپنے آٹھ بھائیوں کا جب دیتی ہے حوالہ
ایسے دھوتی گیلی کرواتی ہے میری بیگم
طاہر تو اک ادارے میں ہے ادنیٰ ملازم
سب کو سرکاری افسر بتاتی ہے میری بیگم
Tahir Javed Tahir
امیراں توں کُڑی امیراں دی، ابا ترا اے سیاست دان
میں واں مُنڈا غریباں دا ،ابا مرا اے غریب کسان
تری ڈفنس وچ کوٹھی،پورے چار کنالاں اُتے
ساڈا کچی آبادی دے وچ،دو منجیاں دا مکان
تُوں کھاوے روز ہوٹل وچ ، مکڈولنڈ تے پیزا
اسی وڈے ہو گئے آں،کھا کے چھُولے تے نان
تُوں جاوے کلباں وچ، پا کے ادھے لیڑے
اسی نچ لیندے میلایاں وچ،پا کے کچھا ،بنیان
تُوں پھریں ٹھنڈی گڈی وچ،انار کلی تے پینوراما
ساڈی ٹوٹی سائیکل اوتے،لنڈے تک اوڑان
تاڈے وچ بے حیائی،فیشن بن کے ہے آئی
ساڈی تے کُڑی ویکھ کے، نکل جاندی اے جان
تُوں کیتیاںپڑھایاں جا کے ،امریکہ تے جاپان
اسی ٹاٹاں تے پڑھ کے، سنبھالی دادے دی دکان
کھیڈاں اسی کھیڈیاں، گلیاں وچ کھا کے چھتر
تاڈے واسطے حاضر سن، وڈے وڈے میدان
دے کے ڈونیشن ،تیاڈی کالج وچ پکیاں سیٹاں
ساڈی واری شروع ہو جائے، میرٹ دی گردان
تاڈے بچے نہ پڑھ کے ،فوج وچ کرنل،جرنل
ساڈے بچے محنتاں کر کے ،چپڑاسی تے دربان
تیاڈے ویاواں وچ ،درجن ڈشاں تے شراب
سانوں لا کے ون ڈش پابندی،کیتا جے پریشان
آپوں قرضے لے کے،آپوں کر دیندے معاف
بندا ایناں نوں پُوچھے،تاڈے پیو دا اے پاکستان
چل طاہر چُپ کر جا ،ایتھے کسی نے تر ی نہیں سننی
وادوں کھپ پائی تے، تھانے وچ تُوں مہمان
Tahir Javed Tahir