Poetries by Ghulam Mustafa sagar from ajnianwala
بزدلی خرام خرام جب سے آشنا ہونے لگے ہیں
محوِ بے خودی ہے ہوش تک کھونے لگے ہیں
عجب اندازِ محبت ہے،عجب ہے احساسِ جستجو
موت کے سوداگر بھی اب زندگی کو چھونے لگے ہیں
عزت شہرت،سب یہ کام کہاں اب ہے
پرواز عروج بھی اب تو پرندے بھی کھونے لگے ہیں
سر تیغ سے کٹتے تھے اف تک نہ ہوتی تھی
کانٹے کی چبھن پر اب عرصہ تک رونے لگے ہیں
چرخِ کہن بھی ساگر جن کی دہشت سے لرزتا تھا
شجاعت ختم ہو گئی بذدل سے ہونے لگے ہیں Ghulam Mustafa sagar
محوِ بے خودی ہے ہوش تک کھونے لگے ہیں
عجب اندازِ محبت ہے،عجب ہے احساسِ جستجو
موت کے سوداگر بھی اب زندگی کو چھونے لگے ہیں
عزت شہرت،سب یہ کام کہاں اب ہے
پرواز عروج بھی اب تو پرندے بھی کھونے لگے ہیں
سر تیغ سے کٹتے تھے اف تک نہ ہوتی تھی
کانٹے کی چبھن پر اب عرصہ تک رونے لگے ہیں
چرخِ کہن بھی ساگر جن کی دہشت سے لرزتا تھا
شجاعت ختم ہو گئی بذدل سے ہونے لگے ہیں Ghulam Mustafa sagar
نادان دوست افسوس کہ تجھے اندازِ محبت نبھانا نا آیا
ہم تو یونہی روٹھے تھے تجھے منانا نا آیا
کیا کرو گے سارے شہر کو روشن کر کے
خود تیرے گھر میں اندھیرا ہے دیا جلانا نا آیا
جرمِ محبت میں برسا رہا تھا سارا شہر پتھر
ارے تیرے ہاتھ میں بھی تھا پتھر مگر برسانا نا آیا
میری چیخوں سے تڑپ اٹھتے ہیں ساگر شہر کے باسی
مگر اس بے وفا کو دل پہ مرہم لگانا نا آیا Ghulam Mustafa sagar from ajnianwala
ہم تو یونہی روٹھے تھے تجھے منانا نا آیا
کیا کرو گے سارے شہر کو روشن کر کے
خود تیرے گھر میں اندھیرا ہے دیا جلانا نا آیا
جرمِ محبت میں برسا رہا تھا سارا شہر پتھر
ارے تیرے ہاتھ میں بھی تھا پتھر مگر برسانا نا آیا
میری چیخوں سے تڑپ اٹھتے ہیں ساگر شہر کے باسی
مگر اس بے وفا کو دل پہ مرہم لگانا نا آیا Ghulam Mustafa sagar from ajnianwala