Poetries by Shaista Akbar
مجھے سوچنے کی عادت ہے مجھے سوچنے کی عادت ہے
میں یہ سوچتی ہوں
مجھے کیوں سوچنے کی عادت ہے ؟
وقت کے گرد میں دھند لے چہرے
مجھے سوچنے پر مجبور کرتے ہے
کبھی وہ بھی خوشنما تھے
کبھی وہ بھی ہنستے تھے
مجھے بھی ہنسنے کی عادت تھی
میرے بھی کچھ دوست تھے
جو ہنستے تھے ' کھلکھلاتے تھے
وقت کی دھند میں مجھ سے کھو گۓ
مجھے اپنوں کے رویوں نے
سوچنے پر مجبور کر دیا
میری شوخیاں ' وہ شرارتیں
میری زندہ دلی
اب سوچوں تو
کہیں نظر نہیں آتی
میرے ارد گرد سبھی منظر
پتھر کے ہو گئے ہے
یا پھر
میری سوچنے کی عادت نے
مجھے پتھر بنا دیا ہے..
Shaista Akbar
میں یہ سوچتی ہوں
مجھے کیوں سوچنے کی عادت ہے ؟
وقت کے گرد میں دھند لے چہرے
مجھے سوچنے پر مجبور کرتے ہے
کبھی وہ بھی خوشنما تھے
کبھی وہ بھی ہنستے تھے
مجھے بھی ہنسنے کی عادت تھی
میرے بھی کچھ دوست تھے
جو ہنستے تھے ' کھلکھلاتے تھے
وقت کی دھند میں مجھ سے کھو گۓ
مجھے اپنوں کے رویوں نے
سوچنے پر مجبور کر دیا
میری شوخیاں ' وہ شرارتیں
میری زندہ دلی
اب سوچوں تو
کہیں نظر نہیں آتی
میرے ارد گرد سبھی منظر
پتھر کے ہو گئے ہے
یا پھر
میری سوچنے کی عادت نے
مجھے پتھر بنا دیا ہے..
Shaista Akbar
لٹ رہا ہے میرا ملک کوئی تو سنے لٹ رہا ہے میرا ملک کوئی تو سنے
بکھر رہا ہے میرا چمن کوئی تو سنے
عدل کے اعوانوں میں ہے منافقت
میرے ہم وطنوں کے حال دل کوئی تو سنے
بم دھماکے ‘ بارود اور گولیوں سے چھلنی لوگ
مسیحا بن کر زخمی دلوں کو کوئی تو سنے
ظالموں کب تلک ظلم ڈھاؤ گے
میرے ملک کے لوگ مر رہے ہیں کوئی تو سنے Shaista Akbar
بکھر رہا ہے میرا چمن کوئی تو سنے
عدل کے اعوانوں میں ہے منافقت
میرے ہم وطنوں کے حال دل کوئی تو سنے
بم دھماکے ‘ بارود اور گولیوں سے چھلنی لوگ
مسیحا بن کر زخمی دلوں کو کوئی تو سنے
ظالموں کب تلک ظلم ڈھاؤ گے
میرے ملک کے لوگ مر رہے ہیں کوئی تو سنے Shaista Akbar
اک پیارا سا گھر بنانا چاہئے اک پیارا سا گھر بنانا چاہئے
زندگی کے راہ کو پھولوں سے سجانا چاہئے
جو دل میں ہو وقت کی گرہیں
انہیں دل کی چوکھٹ پہ سلجھانا چاہئے
نہ ہم ان کے ‘ نہ وہ ہمارے
یہ گیت لبوں پر گنگنانا چاہئے
ہم سے نہ پوچھ ہجر کی آزمائشیں
جو دل میں ہے چھپے آنسوں انہیں بہانا چاہئے
زندگی کی راہ میں ہم جن سے بچھڑے شائستہ
غنیمت ہے ‘ انہیں بھلانا چاہئے Shaista Akbar
زندگی کے راہ کو پھولوں سے سجانا چاہئے
جو دل میں ہو وقت کی گرہیں
انہیں دل کی چوکھٹ پہ سلجھانا چاہئے
نہ ہم ان کے ‘ نہ وہ ہمارے
یہ گیت لبوں پر گنگنانا چاہئے
ہم سے نہ پوچھ ہجر کی آزمائشیں
جو دل میں ہے چھپے آنسوں انہیں بہانا چاہئے
زندگی کی راہ میں ہم جن سے بچھڑے شائستہ
غنیمت ہے ‘ انہیں بھلانا چاہئے Shaista Akbar
سنو لوگو ! سنو لوگوں
میں جنہیں اپنا بناتی ہوں
انہیں چھوژا نہیں کرتی
میں خود تو مٹ جاؤں گی
پر ان کے نام اپنے دل سے مٹایا نہیں کرتی
میں جن کے ھاتھ اپنے ھاتھوں میں لیتی ہوں
ان ھاتھوں کو خود سے کبھی جھٹکا نہیں کرتی
میں محبتوں کے حصول میں ہوں شدت پسند
جنہیں اپنا بناتی ہوں ‘ انہیں اپنا بنا کے رکھتی ہوں Shaista Akbar
میں جنہیں اپنا بناتی ہوں
انہیں چھوژا نہیں کرتی
میں خود تو مٹ جاؤں گی
پر ان کے نام اپنے دل سے مٹایا نہیں کرتی
میں جن کے ھاتھ اپنے ھاتھوں میں لیتی ہوں
ان ھاتھوں کو خود سے کبھی جھٹکا نہیں کرتی
میں محبتوں کے حصول میں ہوں شدت پسند
جنہیں اپنا بناتی ہوں ‘ انہیں اپنا بنا کے رکھتی ہوں Shaista Akbar