Poetries by Haji Abul Barkat

معاف کرنا عید سے پہلے ذرا سا مسکرا دینا عید سے پہلے پہلے
ہر اک غم بھلا دینا عید سے پہلے پہلے
نہ سوچنا تمہارا دل کس کس نے دکھایا ہے
سب کو معاف کر دینا عید سے پہلے پہلے
کیا پتہ پھر موقع ملے نہ ملے تم کو دنیا میں
اس لئے دل صاف کر لینا عید سے پہلے پہلے
ہو سکتا ہے ہم رہیں نہ رہیں دنیا میں
کہتا ہوں “ عید مبارک “ عید سے پہلے پہلے
یہ “ الجھاوے جہاں کے“ ہم جس میں الجھے ہیں
چند لمحوں کیلئے سب بھلا دینا عید سے پہلے پہلے
گرے ہیں آسمانوں سے تو اٹکے ہیں کھجوروں میں
نہ الجھنے دو دامن، بچا لینا عید سے پہلے پہلے
خلش دل پے آجائے کبھی، تو رہتی ہے ہم میں
مگر اسکو دل سے ہٹا دینا عید سے پہلے پہلے
خیر خواہی و بدخواہی، یارو! دستور دنیا ہے
سبہوں کو دل سے دعا دینا عید سے پہلے پہلے
نہ جانے کتنی گردشیں آئیں ہمارے زمانے میں
دوست و دشمن کو دعا دینا عید سے پہلے پہلے
نویدِ عشق لے کر آپڑے اگر دشمن در پے برکات
اسے سینے سے لگا لینا عید سے پہلے پہلے
یہ نظم عید سعید سے قبل دنیا میں امن و محبت کو
پھیلانے کے لئے آپ سب کی نذر “ ہمارہ ویب“ کے سیٹ لائٹ
کے ذریعہ مسلمانوں و غیر مسلموں کے لئے کرتا ہوں۔خوب شئیر
کریں۔
Haji Abul Barkat
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ،پائندہ ہے ،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
کبھی کسی نے مڑ کر نہ دیکھا، کہاں گرا کوئی بدنصیب
ایک تھے بھٹو جنہوں نے دیکھا، بلکتا، سسکتا مزدور غریب
جینے کا سہارا کچھ پایا، ہوگئے جب ہم انکے قریب
غریب و مزدور کو گلے لگا کر بولے سن لو میرے حبیب
جو اس دم رہبر ہے تیرا ،تیرے گھر کا باشندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے،پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
ہر نفس وطن کا ہے میرا وجود،اپنی راہ رخ سمت صعود
اعلیٰ ادنیٰ سب شانہ بشانہ، نہ کوئی ایاز نہ محمود
میں ہوں بھٹو میرا وعدہ جہد و جدت تا حد و جود
سچی محنت،سچی لگن ہو،نہ چاہئے جھوٹا نام و نمود
ہر دم میری آنکھوں میں، مسکان تمہارا رقصندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
خیر خدا کی مرضی تھی،یا دنیا کی خود غرضی تھی
وہ عہد مکمل کر نہ سکے،نہ جانے کس کی مرضی تھی
بعد میں چل کر بھید کھلا، وہ ظالم عدالت کی مرضی تھی
پھانسی کے تخت پے آکر بھی، معصوم کی بس یہ مرضی تھی
مایوس نہ ہو ائے ہم وطنو! کچھ آس ابھی آئندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
وہ آس شہید بے نظیر بنی، دنیا کے لئے مہابیر بنی
چوک نہ تھی نشانے مین، وہ ایسی کمان کی تیر بنی
ہر صوبے کو باندھ لیا، کیا خوب عجب زنجیر بنی
جب وقت شہادت آپہنچا،ہائے کیسی نحس تدبیر بنی
نہ رہیں اگرچہ دنیا مین، پر نام انکا رخشندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
بھٹو اپنے تھے ذوالفقار، بے نظیر بنی تھیں انکی دھار
ہر سو جلوہ چھایا تھا،تھی آئی پھولوں پے نکھار
نہ آسکا رونق دوبارہ،آئی گئی جانے کتنی سرکار
اب بھی ہم مایوس نہیں، مل جائے روٹی،کپڑا و گھربار
زرداری کی کوشش ہے، مقصد کا خدا دہندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
5 ویں برسی پر خراج عقیدت
Haji Abul Barkat,Poet/Columnist