Poetries by misbah mushtaq
میں پہلی بار اِس جنگل سے گزرا تھا تو سب ایسا نہیں تھا میں پہلی بار اِس جنگل سے گزرا تھا تو سب ایسا نہیں تھا
یہاں کچھ کچھ پرندے بولنے والے تھے ، سناٹا نہیں تھا
محبت نے مجھے قید ِ عناصر سے بہت آگے بُلایا
مگر میں اپنی مٹی کے شکنجے سے نکل پایا نہیں تھا
اِسی نقارخانے سے مجھے تربیت ِ فن مل رہی تھی
میں اپنے شعر کا ڈنکا بجانا سیکھ کر آیا نہیں تھا
یہ تُو نے کس لیے آنچل پہ تازہ خواہشوں کے پھول کاڑھے
ترے پلو سے کیا باندھا ہُوا وہ ریشمی وعدہ نہیں تھا
بقدر ِ آرزو میرا سمندر سے تعلق تھا نہ لیکن
میں اُتھلے پانیوں سے اپنا رشتہ جوڑنے والا نہیں تھا
مری تقدیر میں کُچھ سرفرازی کے ہرے لمحے لکھے تھے
نمو پاتے ہی جو پامال ہو جائے میں وہ سبزہ نہیں تھا
خموشی ، برف کی مانند ہونٹوں پر جمی رہتی تھی یاور
گلابی لفظ کے باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں تھا Misbah Mushtaq
یہاں کچھ کچھ پرندے بولنے والے تھے ، سناٹا نہیں تھا
محبت نے مجھے قید ِ عناصر سے بہت آگے بُلایا
مگر میں اپنی مٹی کے شکنجے سے نکل پایا نہیں تھا
اِسی نقارخانے سے مجھے تربیت ِ فن مل رہی تھی
میں اپنے شعر کا ڈنکا بجانا سیکھ کر آیا نہیں تھا
یہ تُو نے کس لیے آنچل پہ تازہ خواہشوں کے پھول کاڑھے
ترے پلو سے کیا باندھا ہُوا وہ ریشمی وعدہ نہیں تھا
بقدر ِ آرزو میرا سمندر سے تعلق تھا نہ لیکن
میں اُتھلے پانیوں سے اپنا رشتہ جوڑنے والا نہیں تھا
مری تقدیر میں کُچھ سرفرازی کے ہرے لمحے لکھے تھے
نمو پاتے ہی جو پامال ہو جائے میں وہ سبزہ نہیں تھا
خموشی ، برف کی مانند ہونٹوں پر جمی رہتی تھی یاور
گلابی لفظ کے باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں تھا Misbah Mushtaq
تمغہ ء حسنِ نگارش بھی نہیں چاہتے ہیں تمغہ ء حسنِ نگارش بھی نہیں چاہتے ہیں
شعر کہتے ہیں ، ستائش بھی نہیں چاہتے ہیں
گھر کی بنیاد میں رکھتے ہیں خرابی ہم لوگ
در و دیوار میں لرزش بھی نہیں چاہتے ہیں
ہم خداؤں کی پرستش کے نہیں ہیں قائل
ہم اناؤں کی پرستش بھی نہیں چاہتے ہیں
ہمیں روٹی نہیں ملتی یہ کتابیں پڑھ کر
سو یہ بیکار کی دانش بھی نہیں چاہتے ہیں
اپنے ماحول کو سفاک بنا کر ہم لوگ
آگ اور خون کی بارش بھی نہیں چاہتے ہیں
جن پرندوں کو غلامی کا نہیں ہو احساس
اپنی آزادی کی کوشش بھی نہیں چاہتے ہیں
ہمیں آوارگی اچھی نہیں لگتی یاور
مستقل کوئی رہائش بھی نہیں چاہتے ہیں Misbah Mushtaq
شعر کہتے ہیں ، ستائش بھی نہیں چاہتے ہیں
گھر کی بنیاد میں رکھتے ہیں خرابی ہم لوگ
در و دیوار میں لرزش بھی نہیں چاہتے ہیں
ہم خداؤں کی پرستش کے نہیں ہیں قائل
ہم اناؤں کی پرستش بھی نہیں چاہتے ہیں
ہمیں روٹی نہیں ملتی یہ کتابیں پڑھ کر
سو یہ بیکار کی دانش بھی نہیں چاہتے ہیں
اپنے ماحول کو سفاک بنا کر ہم لوگ
آگ اور خون کی بارش بھی نہیں چاہتے ہیں
جن پرندوں کو غلامی کا نہیں ہو احساس
اپنی آزادی کی کوشش بھی نہیں چاہتے ہیں
ہمیں آوارگی اچھی نہیں لگتی یاور
مستقل کوئی رہائش بھی نہیں چاہتے ہیں Misbah Mushtaq
طلوعِ مہرِ خوش آثار دیکھنے کے لئے طلوعِ مہرِ خوش آثار دیکھنے کے لئے
اُٹھا ہوں منظرِ کہسار دیکھنے کے لئے
مری نگاہ نیا آسمان چاہتی ہے
کبوتروں کی نئی ڈار دیکھنے کے لئے
یہ آئنہ کہ مکمل نہیں ہُوا روشن
بہت ہے پرتوِ فنکار دیکھنے کے لئے
فصیلِ شہر پہ لوگوں کی منتظر آنکھیں
مرے غنیم! تری ہار دیکھنے کے لئے
صبا کو کون بناتا ہے خوشبوؤں کی سفیر
چلا ہوں جانبِ گلزار دیکھنے کے لئے
میں شاعری کی رصد گاہ تک چلا آیا
تجھے ستارہ ء اظہار! دیکھنے کے لئے Misbah Mushtaaq
اُٹھا ہوں منظرِ کہسار دیکھنے کے لئے
مری نگاہ نیا آسمان چاہتی ہے
کبوتروں کی نئی ڈار دیکھنے کے لئے
یہ آئنہ کہ مکمل نہیں ہُوا روشن
بہت ہے پرتوِ فنکار دیکھنے کے لئے
فصیلِ شہر پہ لوگوں کی منتظر آنکھیں
مرے غنیم! تری ہار دیکھنے کے لئے
صبا کو کون بناتا ہے خوشبوؤں کی سفیر
چلا ہوں جانبِ گلزار دیکھنے کے لئے
میں شاعری کی رصد گاہ تک چلا آیا
تجھے ستارہ ء اظہار! دیکھنے کے لئے Misbah Mushtaaq
آنکھ سوئے فلک رکھی ہوئی ہے آنکھ سوئے فلک رکھی ہوئی ہے
دل میں کیسی کسک رکھی ہوئی ہے
زندگی کے اجاڑ رستوں میں
حادثوں کی مہک رکھی ہوئی ہے
تُو مجھے ڈھونڈ لے اندھیرے میں
مجھ میں اِتنی چمک رکھی ہوئی ہے
بادلوں سی گداز لڑکی میں
بجلیوں سی کڑک رکھی ہوئی ہے
احتمالِ شکستگی ہے بہت
مجھ میں کم کم لچک رکھی ہوئی ہے
لفظ کو آئنہ بنایا ہے
اِس میں اپنی جھلک رکھی ہوئی ہے
بیت بحثی میں آج یاور سے
جییتنے کی للک رکھی ہوئی ہے Misbah Mushtaaq
دل میں کیسی کسک رکھی ہوئی ہے
زندگی کے اجاڑ رستوں میں
حادثوں کی مہک رکھی ہوئی ہے
تُو مجھے ڈھونڈ لے اندھیرے میں
مجھ میں اِتنی چمک رکھی ہوئی ہے
بادلوں سی گداز لڑکی میں
بجلیوں سی کڑک رکھی ہوئی ہے
احتمالِ شکستگی ہے بہت
مجھ میں کم کم لچک رکھی ہوئی ہے
لفظ کو آئنہ بنایا ہے
اِس میں اپنی جھلک رکھی ہوئی ہے
بیت بحثی میں آج یاور سے
جییتنے کی للک رکھی ہوئی ہے Misbah Mushtaaq
نئے نظام کی جو ابتداء نہیں کرتی نئے نظام کی جو ابتداء نہیں کرتی
وہ قوم اپنا فریضہ ادا نہیں کرتی
میں آسماں سے بغلگیر ہونا چاہتا ہوں
زمین ، اپنی کشش سے رہا نہیں کرتی
جو روشنی ہے تہ ِ حرف ِ مدعا ، موجود
ستارگاں کے لبوں پر کِھلا نہیں کرتی
سو اب لہو سے رقم کی گئی ہے دستاویز
یقین ورنہ یہ خلق ِ خدا نہیں کرتی
دعا کے پاس نہیں ہے کلید ِ بست و کشود
دعا تو باب ِ اجابت کو وا نہیں کرتی
ہرا ہرا مرا مصرع دکھائی دیتا ہے
یہ بات کیا مجھے سب سے جُدا نہیں کرتی
سجا دیا ہے کتابوں کو شیلف میں یاور
مطالعے کی فراغت ملا نہیں کرتی Misbaah Mushtaq
وہ قوم اپنا فریضہ ادا نہیں کرتی
میں آسماں سے بغلگیر ہونا چاہتا ہوں
زمین ، اپنی کشش سے رہا نہیں کرتی
جو روشنی ہے تہ ِ حرف ِ مدعا ، موجود
ستارگاں کے لبوں پر کِھلا نہیں کرتی
سو اب لہو سے رقم کی گئی ہے دستاویز
یقین ورنہ یہ خلق ِ خدا نہیں کرتی
دعا کے پاس نہیں ہے کلید ِ بست و کشود
دعا تو باب ِ اجابت کو وا نہیں کرتی
ہرا ہرا مرا مصرع دکھائی دیتا ہے
یہ بات کیا مجھے سب سے جُدا نہیں کرتی
سجا دیا ہے کتابوں کو شیلف میں یاور
مطالعے کی فراغت ملا نہیں کرتی Misbaah Mushtaq
زخم ، نیلے پھول جیسا دے کے رخصت ہو گیا زخم ، نیلے پھول جیسا دے کے رخصت ہو گیا
جاتے جاتے وہ یہ تحفہ دے کے رخصت ہو گیا
کس کی آہٹ رات بھر مصرع کشی کرتی رہی
کون سناٹوں کو لہجہ دے کے رخصت ہو گیا
صبح کی پہلی کرن کے جاگنے سے پیشتر
چاند پیشانی پہ بوسہ دے کے رخصت ہو گیا
آسماں کی اور جاتا ہوں میں گہری نیند میں
وہ مجھے خوابوں کا زینہ دے کے رخصت ہو گیا
سب مجھے آوارگی سے روکنے والے گئے
آخری پتھر بھی رستہ دے کے رخصت ہو گیا
مجھ کو نفس ِ مطمئنہ کی رہی برسوں تلاش
جانے والا تو دلاسہ دے کے رخصت ہو گیا
وا کیا میں نے قفس کے باب کو یاور عظیم
اور دعا کوئی پرندہ دے کے رخصت ہو گیا
Misbaah mushtaaq
جاتے جاتے وہ یہ تحفہ دے کے رخصت ہو گیا
کس کی آہٹ رات بھر مصرع کشی کرتی رہی
کون سناٹوں کو لہجہ دے کے رخصت ہو گیا
صبح کی پہلی کرن کے جاگنے سے پیشتر
چاند پیشانی پہ بوسہ دے کے رخصت ہو گیا
آسماں کی اور جاتا ہوں میں گہری نیند میں
وہ مجھے خوابوں کا زینہ دے کے رخصت ہو گیا
سب مجھے آوارگی سے روکنے والے گئے
آخری پتھر بھی رستہ دے کے رخصت ہو گیا
مجھ کو نفس ِ مطمئنہ کی رہی برسوں تلاش
جانے والا تو دلاسہ دے کے رخصت ہو گیا
وا کیا میں نے قفس کے باب کو یاور عظیم
اور دعا کوئی پرندہ دے کے رخصت ہو گیا
Misbaah mushtaaq
ہدیہ ء سلام بحضور امام عالی مقام ثنائے سید ِ عالی مقام لکھتا ہوں
میں اپنے خون سے حرف ِ سلام لکھتا ہوں
وہ جن کی مہر ِ شجاعت ہے ثبت صدیوں پر
اُنھیں کے نقش کو نقش ِ دوام لکھتا ہوں
اُسی کی شان میں اُتری ہے آیت ِ تطہیر
میں جس گھرانے کا خود کو غلام لکھتا ہوں
حسین ، فاطمہ زہرا ، حسن ، علی ، احمد
پر ِ ملائکہ لے کر یہ نام لکھتا ہوں
سکوت ِ شام ِ غریباں اُنہیں پکارتا ہے
سو اِس سکوت کو طرز ِ کلام لکھتا ہوں
قیود ِ وقت نہیں اُن کے پاوں کی زنجیر
ہر ایک عصر کا اُن کو امام لکھتا ہوں
سبھی کو رشک ہے یاور مری لکھائی پر
اِس اہتمام سے مولا کا نام لکھتا ہوں Misbaah mushtaq
میں اپنے خون سے حرف ِ سلام لکھتا ہوں
وہ جن کی مہر ِ شجاعت ہے ثبت صدیوں پر
اُنھیں کے نقش کو نقش ِ دوام لکھتا ہوں
اُسی کی شان میں اُتری ہے آیت ِ تطہیر
میں جس گھرانے کا خود کو غلام لکھتا ہوں
حسین ، فاطمہ زہرا ، حسن ، علی ، احمد
پر ِ ملائکہ لے کر یہ نام لکھتا ہوں
سکوت ِ شام ِ غریباں اُنہیں پکارتا ہے
سو اِس سکوت کو طرز ِ کلام لکھتا ہوں
قیود ِ وقت نہیں اُن کے پاوں کی زنجیر
ہر ایک عصر کا اُن کو امام لکھتا ہوں
سبھی کو رشک ہے یاور مری لکھائی پر
اِس اہتمام سے مولا کا نام لکھتا ہوں Misbaah mushtaq
صورت ِ تلخی ِ حالات نکل آتی ہے صورت ِ تلخی ِ حالات نکل آتی ہے
جس کا خدشہ ہو وہی بات نکل آتی ہے
روشنائی کا ذخیرہ میں کہاں سے لاوں
روز اک جوئے عبارات نکل آتی ہے
چاند پھر کیوں نہ پھرے دشت ِ فلک میں تنہا
چاندنی شہر میں ہر رات نکل آتی ہے
جب بھی اٹھتا ہوں میں حالات بدلنے کے لیے
اک نئی صورت ِ حالات نکل آتی ہے
یہ شرف مجھ کو دیا اُن کی عزاداری نے
خلقت ِ شہر مرے ساتھ نکل آتی ہے
جب بھٹکتا ہے سر ِ راہ ِ تمنا یاور
رہ نمائی کو تری ذات نکل آتی ہے misbah mushtaq
جس کا خدشہ ہو وہی بات نکل آتی ہے
روشنائی کا ذخیرہ میں کہاں سے لاوں
روز اک جوئے عبارات نکل آتی ہے
چاند پھر کیوں نہ پھرے دشت ِ فلک میں تنہا
چاندنی شہر میں ہر رات نکل آتی ہے
جب بھی اٹھتا ہوں میں حالات بدلنے کے لیے
اک نئی صورت ِ حالات نکل آتی ہے
یہ شرف مجھ کو دیا اُن کی عزاداری نے
خلقت ِ شہر مرے ساتھ نکل آتی ہے
جب بھٹکتا ہے سر ِ راہ ِ تمنا یاور
رہ نمائی کو تری ذات نکل آتی ہے misbah mushtaq
طوفان مقابل ہے نہ دھارا ہے مقابل طوفان مقابل ہے نہ دھارا ہے مقابل
حیرت ہے کہ خاموش کنارہ ہے مقابل
اِن جشن مناتے ہوئے لوگوں کو خبر کیا
یہ جنگ تو کچھ سوچ کے ہارا ہے مقابل
اِس شہر سے اب ترک ِ سکونت ہی بھلی ہے
اِس شہر کا ہر شخص ہمارا ہے مقابل
اب صرصر ِ حالات کا رُخ تیری طرف ہے
یہ تیری ہزیمت کا اشارہ ہے مقابل
ہرچند کہ وہ دشمن ِ ایماں ہے ہمارا
لیکن ہمیں ہر حال میں پیارا ہے مقابل
تُم جیسے خدوخال کسی اور کے کب ہیں
وہ کون حسیں ہے جو تمہارا ہے مقابل
تسخیر ِ مہ و مہر تو آسان ہے لیکن
یاور مری قسمت کا ستارہ ہے مقابل misbah mushtaq
حیرت ہے کہ خاموش کنارہ ہے مقابل
اِن جشن مناتے ہوئے لوگوں کو خبر کیا
یہ جنگ تو کچھ سوچ کے ہارا ہے مقابل
اِس شہر سے اب ترک ِ سکونت ہی بھلی ہے
اِس شہر کا ہر شخص ہمارا ہے مقابل
اب صرصر ِ حالات کا رُخ تیری طرف ہے
یہ تیری ہزیمت کا اشارہ ہے مقابل
ہرچند کہ وہ دشمن ِ ایماں ہے ہمارا
لیکن ہمیں ہر حال میں پیارا ہے مقابل
تُم جیسے خدوخال کسی اور کے کب ہیں
وہ کون حسیں ہے جو تمہارا ہے مقابل
تسخیر ِ مہ و مہر تو آسان ہے لیکن
یاور مری قسمت کا ستارہ ہے مقابل misbah mushtaq
سر ِ شہر ِ ہُنر ، رنگِ ہُنر تبدیل کر سکتا سر ِ شہر ِ ہُنر ، رنگِ ہُنر تبدیل کر سکتا
اگر تُو اپنا انداز ِ نظر تبدیل کر سکتا
مجھے طوفان کا رُخ موڑتے رہنے کی عادت ھے
مری کشتی کا رُخ کیسے بھنور تبدیل کر سکتا
بھٹکتا کیوں سر ِ راہِ طلب صبح و مسا تنہا
اگر میں اِس مسافت کی ڈگر تبدیل کر سکتا
حق ِ تحریف جو حاصل کبھی ہوتا زمانے کو
زبور ِ وقت کی زیر و زبر تبدیل کر سکتا
مرے جینے کا یہ انداز پھر کُچھ اور ہی ہوتا
کسی صورت اگر شام و سحر تبدیل کر سکتا
ترے کہنے پہ جیسے خود کو پہلی بار بدلا تھا
میں اپنے آپ کو بار ِ دگر تبدیل کر سکتا
محبت کے شجر کو اِس طرح ہم سینچتے یاور
کوئی موسم نہ مقدار ِ ثمر تبدیل کر سکتا misbah mushtaq
اگر تُو اپنا انداز ِ نظر تبدیل کر سکتا
مجھے طوفان کا رُخ موڑتے رہنے کی عادت ھے
مری کشتی کا رُخ کیسے بھنور تبدیل کر سکتا
بھٹکتا کیوں سر ِ راہِ طلب صبح و مسا تنہا
اگر میں اِس مسافت کی ڈگر تبدیل کر سکتا
حق ِ تحریف جو حاصل کبھی ہوتا زمانے کو
زبور ِ وقت کی زیر و زبر تبدیل کر سکتا
مرے جینے کا یہ انداز پھر کُچھ اور ہی ہوتا
کسی صورت اگر شام و سحر تبدیل کر سکتا
ترے کہنے پہ جیسے خود کو پہلی بار بدلا تھا
میں اپنے آپ کو بار ِ دگر تبدیل کر سکتا
محبت کے شجر کو اِس طرح ہم سینچتے یاور
کوئی موسم نہ مقدار ِ ثمر تبدیل کر سکتا misbah mushtaq
پھر پیش ِ نظر صورت ِ مہتاب ھے کوئی پھر پیش ِ نظر صورت ِ مہتاب ھے کوئی
یا میری نگاہوں میں نیا خواب ھے کوئی
یہ بات گراں خواب کو اب کون بتائے
تیرے لیے اِس رات میں بےخواب ھے کوئی
پلکوں پہ جو روشن ھے سر ِ شام ِ تمنا
وہ اشک نہیں گوہر ِ نایاب ھے کوئی
یہ صرف کرشمہ ھے مری چشم ِ طلب کا
صحرا میں کہاں گلشن ِ شاداب ھے کوئی
دنیا کے صحیفے میں مری ذات بھی شاید
آلام و مصائب کا نیا باب ھے کوئی
ناواقف ِ آداب ِ محبت کو خبر کیا
کب سے رہ ِ امید میں بےتاب ھے کوئی
یہ کس کی جدائی میں تری آنکھ سے یاور
دن رات رواں موجہ ء خوناب ھے کوئی misbaah mushtaq
یا میری نگاہوں میں نیا خواب ھے کوئی
یہ بات گراں خواب کو اب کون بتائے
تیرے لیے اِس رات میں بےخواب ھے کوئی
پلکوں پہ جو روشن ھے سر ِ شام ِ تمنا
وہ اشک نہیں گوہر ِ نایاب ھے کوئی
یہ صرف کرشمہ ھے مری چشم ِ طلب کا
صحرا میں کہاں گلشن ِ شاداب ھے کوئی
دنیا کے صحیفے میں مری ذات بھی شاید
آلام و مصائب کا نیا باب ھے کوئی
ناواقف ِ آداب ِ محبت کو خبر کیا
کب سے رہ ِ امید میں بےتاب ھے کوئی
یہ کس کی جدائی میں تری آنکھ سے یاور
دن رات رواں موجہ ء خوناب ھے کوئی misbaah mushtaq
کتنا ہے معتبر یہ حوالہ مرے لیے کتنا ہے معتبر یہ حوالہ مرے لیے
سورج لٹا رہا ہے اجالا مرے لیے
محو ِ خرام ہوں میں سر ِ عرش ِ آرزو
دو گام پر ہے عالم ِ بالا مرے لیے
مجھ کو پکارتی ہے پہاڑوں کی سر زمیں
پلکیں بچھا رہا ہے ہمالہ مرے لیے
ہر بت میں دیکھتا ہوں ترا پرتو ِ جمال
مسجد سے کم نہیں ہے شوالہ مرے لیے
پوری نہ ہو گی چاند کو چھونے کی آرزو
دیوار سا ہے چاند کا ہالہ مرے لیے
ساحل کی ریت پر یہ لکیریں عجیب ہیں
دریا نہ لکھ رہا ہو مقالہ مرے لیے
یاور عظیم ترک ِ مراسم کے باوجود
بےتاب ہے وہ چاہنے والا مرے لیے misbaah mushtaq
سورج لٹا رہا ہے اجالا مرے لیے
محو ِ خرام ہوں میں سر ِ عرش ِ آرزو
دو گام پر ہے عالم ِ بالا مرے لیے
مجھ کو پکارتی ہے پہاڑوں کی سر زمیں
پلکیں بچھا رہا ہے ہمالہ مرے لیے
ہر بت میں دیکھتا ہوں ترا پرتو ِ جمال
مسجد سے کم نہیں ہے شوالہ مرے لیے
پوری نہ ہو گی چاند کو چھونے کی آرزو
دیوار سا ہے چاند کا ہالہ مرے لیے
ساحل کی ریت پر یہ لکیریں عجیب ہیں
دریا نہ لکھ رہا ہو مقالہ مرے لیے
یاور عظیم ترک ِ مراسم کے باوجود
بےتاب ہے وہ چاہنے والا مرے لیے misbaah mushtaq
ہزاروں بار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے ہزاروں بار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
سر ِ بازار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
کبھی جن کی گھنی چھاؤں میں دونوں بیٹھ جاتے تھے
وہ سب اشجار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
میں جب بھی پُوچھتا ہوں اپنے بارے میں خیال اُن کا
تو وہ ہر بار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
بہاریں جب چمن کی محفلوں میں مُسکراتی ہیں
گل و گلزار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
ہمارا راز ِ اُلفت آشکارا ہو گیا کیسے
کہ اب اغیار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
سر ِ محفل جو اپنا حال ِ دل کہتے نہیں یاور
پس ِ دیوار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے Misbaah Mushtaq
سر ِ بازار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
کبھی جن کی گھنی چھاؤں میں دونوں بیٹھ جاتے تھے
وہ سب اشجار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
میں جب بھی پُوچھتا ہوں اپنے بارے میں خیال اُن کا
تو وہ ہر بار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
بہاریں جب چمن کی محفلوں میں مُسکراتی ہیں
گل و گلزار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
ہمارا راز ِ اُلفت آشکارا ہو گیا کیسے
کہ اب اغیار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے
سر ِ محفل جو اپنا حال ِ دل کہتے نہیں یاور
پس ِ دیوار کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے Misbaah Mushtaq
اور کیا کرتا بیان ِ غم تمہارے سامنے اور کیا کرتا بیان ِ غم تمہارے سامنے
میری آنکھیں ہو گئیں پُرنم تمہارے سامنے
ہم جدائی میں تمہاری مر بھی سکتے ہیں مگر
چاہتے یہ ہیں کہ نکلے دم تمہارے سامنے
پھر خدا کی ذات سے کیوں کر تمہیں انکار ھے
ھے اگر تنظیم ِ دوعالم تمہارے سامنے
یہ ملال ِ موسم ِ رفتہ ھے آخر کس لیے
مُسکراتا ھے نیا موسم تمہارے سامنے
جس میں ہم دونوں کے بچپن کی بھی اِک تصویر ھے
ڈھونڈ کر لایا ہوں وہ البم تمہارے سامنے
آتے آتے لب پہ رہ جاتی ہیں دل کی حسرتیں
کھولتے ہیں ہم زباں کم کم تمہارے سامنے
تُم سمندر کی طرح آغوش وا کرتے نہیں
ہم تو بن جاتے ہیں موج ِ یم تمہارے سامنے
کس لیے تُم نیند میں شرما رہے ہو اِس طرح
خواب میں کیا آ گئے ہیں ہم تمہارے سامنے
تُم نے اپنے قد کا اندازہ لگایا ھے غلط
ھے اگر قامت ہماری کم تمہارے سامنے
یہ دلیل ِ گریہء موج ِ صبا یاور نہ ہو
ھے گُل ِ تازہ پہ جو شبنم تمہارے سامنے misbaah mushtaq
میری آنکھیں ہو گئیں پُرنم تمہارے سامنے
ہم جدائی میں تمہاری مر بھی سکتے ہیں مگر
چاہتے یہ ہیں کہ نکلے دم تمہارے سامنے
پھر خدا کی ذات سے کیوں کر تمہیں انکار ھے
ھے اگر تنظیم ِ دوعالم تمہارے سامنے
یہ ملال ِ موسم ِ رفتہ ھے آخر کس لیے
مُسکراتا ھے نیا موسم تمہارے سامنے
جس میں ہم دونوں کے بچپن کی بھی اِک تصویر ھے
ڈھونڈ کر لایا ہوں وہ البم تمہارے سامنے
آتے آتے لب پہ رہ جاتی ہیں دل کی حسرتیں
کھولتے ہیں ہم زباں کم کم تمہارے سامنے
تُم سمندر کی طرح آغوش وا کرتے نہیں
ہم تو بن جاتے ہیں موج ِ یم تمہارے سامنے
کس لیے تُم نیند میں شرما رہے ہو اِس طرح
خواب میں کیا آ گئے ہیں ہم تمہارے سامنے
تُم نے اپنے قد کا اندازہ لگایا ھے غلط
ھے اگر قامت ہماری کم تمہارے سامنے
یہ دلیل ِ گریہء موج ِ صبا یاور نہ ہو
ھے گُل ِ تازہ پہ جو شبنم تمہارے سامنے misbaah mushtaq
جب گزرگاہ ِ محبت نہ کشادہ ہو گی جب گزرگاہ ِ محبت نہ کشادہ ہو گی
جستجو منزل ِ جاناں کی زیادہ ہو گی
دل کے جذبوں پہ اندھیرے ہی مسلط ہوں گے
چاندنی جب نہ سر ِ بام ِ ارادہ ہو گی
رونق ِ محفل ِ بادہ ہے ہمارے دم سے
ہم نہ ہوں گے تو کہاں محفل ِ بادہ ہو گی
جب تلک ڈھانپ نہ لے چادر ِ افلاک مجھے
بے لباسی مرے پیکر کا لبادہ ہو گی
اب اگر لوٹ کے آئیں گے بچھڑنے والے
کوئی آغوش ِ محبت نہ کشادہ ہو گی
میری معصوم نظر ڈھونڈ رہی ہے اُس کو
کوئی لڑکی تو بھرے شہر میں سادہ ہو گی
misbaah mushtaq
جستجو منزل ِ جاناں کی زیادہ ہو گی
دل کے جذبوں پہ اندھیرے ہی مسلط ہوں گے
چاندنی جب نہ سر ِ بام ِ ارادہ ہو گی
رونق ِ محفل ِ بادہ ہے ہمارے دم سے
ہم نہ ہوں گے تو کہاں محفل ِ بادہ ہو گی
جب تلک ڈھانپ نہ لے چادر ِ افلاک مجھے
بے لباسی مرے پیکر کا لبادہ ہو گی
اب اگر لوٹ کے آئیں گے بچھڑنے والے
کوئی آغوش ِ محبت نہ کشادہ ہو گی
میری معصوم نظر ڈھونڈ رہی ہے اُس کو
کوئی لڑکی تو بھرے شہر میں سادہ ہو گی
misbaah mushtaq
در ، کوئی سلامت ہے نہ دیوار سلامت در ، کوئی سلامت ہے نہ دیوار سلامت
حیران ہوں ، کیسے ہے یہ گھربار سلامت
صد شکرکہ اِس دور ِگرانی میں ابھی تک
دل میں ہے تمناوں کا بازار سلامت
ہر وقت جسے اپنی ہزیمت کا ہو خدشہ
رہتا نہیں ، وہ لشکر ِ جرار سلامت
کیوں دل ہوکسی دھوپ کےطوفاں سےہراساں
سر پر ہے مرے سایہ ء اشجار سلامت
یہ کیسے مرے شہر کے حالات ہوئے ہیں
محفوظ ، مسیحا ہے نہ بیمار سلامت
دشمن مجھےمغلوب کبھی کر نہ سکے گا
جب تک ہے مرا جذبہ ء یلغار سلامت
کیوں محفل ِعشرت کی طرب خیزفضا میں
یاور ہے مری روح کا آزار سلامت misbaah mushtaq
حیران ہوں ، کیسے ہے یہ گھربار سلامت
صد شکرکہ اِس دور ِگرانی میں ابھی تک
دل میں ہے تمناوں کا بازار سلامت
ہر وقت جسے اپنی ہزیمت کا ہو خدشہ
رہتا نہیں ، وہ لشکر ِ جرار سلامت
کیوں دل ہوکسی دھوپ کےطوفاں سےہراساں
سر پر ہے مرے سایہ ء اشجار سلامت
یہ کیسے مرے شہر کے حالات ہوئے ہیں
محفوظ ، مسیحا ہے نہ بیمار سلامت
دشمن مجھےمغلوب کبھی کر نہ سکے گا
جب تک ہے مرا جذبہ ء یلغار سلامت
کیوں محفل ِعشرت کی طرب خیزفضا میں
یاور ہے مری روح کا آزار سلامت misbaah mushtaq
چُپ چاپ سر ِ شہر ِ وفا سوچ رہے ہو چُپ چاپ سر ِ شہر ِ وفا سوچ رہے ہو
لگتا ھے کوئی اپنی خطا سوچ رہے ہو
وہ کون ھے گُزرا تھا جو اِس راہگزر سے
کِس کے ہیں نقوش ِ کف ِ پا سوچ رہے ہو
تم سوچتے رہتے ہو کہ کیا دیکھ رہا ہوں
میں دیکھتا رہتا ہوں کہ کیا سوچ رہے ہو
خود اپنے گلستان کے پھولوں کو مسل کر
ناراض ھے کیوں موج ِ صبا سوچ رہے ہو
اِک وہ ہیں جو تکمیل ِ سفر کر بھی چکے ہیں
اِک تم ہو ابھی نام ِ خدا سوچ رہے ہو
یکرنگی ِ افکار کے اِس دور میں یاور
حیران ہوں تم سب سے جدا سوچ رہے ہو
misbaah mushtaq
لگتا ھے کوئی اپنی خطا سوچ رہے ہو
وہ کون ھے گُزرا تھا جو اِس راہگزر سے
کِس کے ہیں نقوش ِ کف ِ پا سوچ رہے ہو
تم سوچتے رہتے ہو کہ کیا دیکھ رہا ہوں
میں دیکھتا رہتا ہوں کہ کیا سوچ رہے ہو
خود اپنے گلستان کے پھولوں کو مسل کر
ناراض ھے کیوں موج ِ صبا سوچ رہے ہو
اِک وہ ہیں جو تکمیل ِ سفر کر بھی چکے ہیں
اِک تم ہو ابھی نام ِ خدا سوچ رہے ہو
یکرنگی ِ افکار کے اِس دور میں یاور
حیران ہوں تم سب سے جدا سوچ رہے ہو
misbaah mushtaq
آنکھوں میں سمایا ھے ترا چاند سا چہرا آنکھوں میں سمایا ھے ترا چاند سا چہرا
قسمت نے دکھایا ھے ترا چاند سا چہرا
اُس خالق ِ مہتاب نے مہتاب سے بڑھ کر
پُرنور بنایا ھے ترا چاند سا چہرا
ھم خود سے ہیں ناراض اِسی بات پہ اب تک
کیوں ھم نے بُھلایا ھے ترا چاند سا چہرا
جس دل میں محبت کی طلب جاگ رہی تھی
اُس دل میں بسایا ھے ترا چاند سا چہرا
یہ رنج کی ظلمت تو مرے ساتھ رہی ھے
پھر کس نے بُجھایا ھے ترا چاند سا چہرا
خواہش ھے کہ دیکھوں ترے چہرے کو مسلسل
اِتنا مجھے بھایا ھے ترا چاند سا چہرا
یادوں کے دریچے میں ترے پیار کی خاطر
یاور نے سجایا ھے ترا چاند سا چہرا misbah mushtaq
قسمت نے دکھایا ھے ترا چاند سا چہرا
اُس خالق ِ مہتاب نے مہتاب سے بڑھ کر
پُرنور بنایا ھے ترا چاند سا چہرا
ھم خود سے ہیں ناراض اِسی بات پہ اب تک
کیوں ھم نے بُھلایا ھے ترا چاند سا چہرا
جس دل میں محبت کی طلب جاگ رہی تھی
اُس دل میں بسایا ھے ترا چاند سا چہرا
یہ رنج کی ظلمت تو مرے ساتھ رہی ھے
پھر کس نے بُجھایا ھے ترا چاند سا چہرا
خواہش ھے کہ دیکھوں ترے چہرے کو مسلسل
اِتنا مجھے بھایا ھے ترا چاند سا چہرا
یادوں کے دریچے میں ترے پیار کی خاطر
یاور نے سجایا ھے ترا چاند سا چہرا misbah mushtaq