Poetries by Saleem Nasir

چلو قدم سے قدم ملا کر آؤ مل کے یہ سوچتے ہیں کیوں اپنی حالت ہوئی ہے خستہ
کیوں زندگی اب ہے بوجھ لگتی کیوں ہوئے ہم ہیں دل شکستہ
انسان تو ہے خطا کا پُتلا آؤ اتنا تو احساس کر لیں
جہاں تھم جائیں اشک اپنے وہیں سے ملے گا کوئی رستہ
بنیں سہارا نہ کیوں دوسرے کا کہ آگے رستہ بھی پُر خطر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کیوں نہ آج ہم یہ بھی سوچیں کہ دل میں غصہ کیوں اب تلک ہے
زمیں پہ چلنا ہوا کیوں مشکل کیوں اب بھی دشمن یہ فلک ہے
کیوں اپنے خوابوں پہ اب قائم کیوں نہیں زندگی پھر سے دائم
ضرورت اب تک ہے کیونکر باقی کسی کی مُسکاتی اک جھلک ہے
کیا نہیں تمہیں اتنا لگتا کسی نظر بد کا یہ کوئی اثر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں ہمیں ہے بڑھنا محبتوں کے عَلم لے کر
ہے کاٹنا ساری نفرتوں کو ہتھیار اپنا قلم لے کر
بہت کچھ ابھی ہے کرنا ہے نئے خوابوں میں رنگ بھرنا
نکلیں اپنے حصار سے ہم من میں نیا اک حَلم لے کر
دور ہے بہت اپنی منزل نظر میں کسی اور کا یہ گھر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
آؤ سوچیں فروغ دینا ہے ہمیں نئی رفاقتوں کو
پھر سے مَن میں ہیں پھول بھرنا ہے یاد رکھنا نفاستوں کو
آؤ سوچیں کریں گے جذبوں کو نئے رنگوں سے آشنا ہم
ہے دوستی کا خیال رکھنا ہے جاننا نئے راستوں کو
تھا جو ہونا وہ ہو چکا بھلا کس چیز کا اب کوئی ڈر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں کہ دل کی باتیں ہمیں ہے اک دوسرے سے کہنا
منزل پانے کے راستے میں آنے والا ہے ہر دکھ سہنا
بے شک ہم کو ہے آگے بڑھنا نئے جذبوں کا جوش لے کر
ہے اپنا بھی ہمیں خیال کرنا مگر ہمیں ہے مل کے رہنا
اَن تھک محنت ہمیں ہے کرنا کہ دُور جانا کسی نگر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کرو یہ وعدہ کہ آج سے ہم اک نئے رشتے کو جوڑتے ہیں
گئے دنوں کی تمام تلخی ہر ایک خفت کو چھوڑتے ہیں
کیا کہاں کب ہوا تھا کیسے کون تھا خطا وار کتنا
گلے شکوے بھلا کے سارے رخ اپنی سوچوں کا موڑتے ہیں
مدد آپ اپنی کرو جو ناصر نہیں دُور پھر کوئی بھی نصر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
Saleem Nasir
ہم انکار کرتی ہیں آج چند حقیقتیں میں بھی بتانا چاہتی ہوں
کون کتنے پانی میں ہے یہ سمجھانا چاہتی ہوں
ان لڑکوں کی اصلی صورت سب کو دکھانا چاہتی ہوں
یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ ہم اظہار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
آجکل کے لڑکے بھی تو گھٹیا پن کو مانتے ہیں
یہ بھی تو صرف اپنے مطلب کو پہچانتے ہیں
بے شک یہ بھی ہر قسمی میک اپ کرنا جانتے ہیں
کچھ فرق نمایاں کرنے کو ہم سنگھار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ، ہم انکار کرتی ہیں
سچ ہے یہ ، ان کو بھی عزت راس نہیں
ہم اسی لیے تو ڈالتی ان کو گھاس نہیں
کہتے ہیں یہ ہم بیٹھتی ان کے پاس نہیں
ان کی یہ ہی باتیں تو ہمیں بیزار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم کیوں خواہ مخواہ ان سے ملاقات کریں
ہماری اپنی زندگی ہے جس سے چاہیں بات کریں
انہیں کون کہتا ہے کہ خراب اپنی عادات کریں
یہ بتائیں کونسی ہم بات بیکار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم اگر شیطان ہیں تو بےشک شر کی بات کریں
کون کیسی لگتی ہے خشک و تر کی بات کریں
ان کی مائیں بہنیں بھی ہیں اپنے گھر کی بات کریں
اپنی پاک دامنی کا ہم اقرار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
یہ اپنی سنگدلی کو چھوڑ کے گوشۂ نرم کی بات کریں
اپنے دامن میں جھانکیں اور پھر دھرم کی بات کریں
ہالی بالی وڈ کو چھوڑ کے کوچۂ حرم کی بات کریں
صنفِ نازک ہو کر بھی ہم سوچ بیچار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم ہر مشکل میں ان کا ساتھ نبھائیں گی
ان کے لیے کلیوں کی سیج سجائیں گی
کچھ کر کے دکھائیں سر آنکھوں پہ بٹھائیں گی
کوئی کسی قابل ہو تو اس سے پیار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
Saleem Nasir
دل تو چاہتا ہے آپ سب کے ذہنوں کو بیدار کرنا چاہتا ہوں
میں چند حقیقتیں آشکار کرنا چاہتا ہوں
کچھ صنف نازک کے بارے اظہار کرنا چاہتا ہوں
مانا کہ یہ ماہر ہیں دو کی سات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
آجکل کی لڑکیاں شوخ ہیں رنگین ہیں
سر تا پا ہیں چاند صورت دلکش دلنشین ہیں
بن سنور کے بےشک لگتی بالکل مہ جبین ہیں
بن میک اپ مترادف ہیں یہ دن میں رات کرنےکو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
یہ حسن کی دیویاں بات پہ اپنی اڑ جاتی ہیں
عزت ان کو راس نہیں خواہ مخواہ سر پہ چڑھ جاتی ہیں
لڑکوں سے آگے ہر شعبے میں جانے کیسے بڑھ جاتی ہیں
جانتی ہیں یہ اپنے حق میں سب حالات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
سب کچھ ہوتا ہے دنیا میں ہر اہلیت تول کے
یہ ہر کام کرا لیتی ہیں کچھ کچھ میٹھا بول کے
نمبر بھی دیتے ہیں ان کو سب ٹیچر دل کھول کے
بےشک بنتی ہیں یہ باعث خراب عادات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
اپنے سوا یہ سب کو بدھو جانتی ہیں
کوئی کچھ بھی کہے یہ کب کسی کی مانتی ہیں
یہ صرف اپنے مطلب کو پہچانتی ہیں
عادی ہیں یہ ہر قسمی خرافات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
ان کے دل میں کوئی گوشہ نرم نہیں
دین و ایمان کا انہیں کوئی بھرم نہیں
انہیں مختصر کپڑے پہنتے آتی شرم نہیں
انہیں فرصت نہیں یاد اپنی روایات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
خود کو ان کے شر سے بچانا مشکل ہے
بےشک ان کا ساتھ نبھانا مشکل ہے
لیکن ان سے دور بھی جانا مشکل ہے
لاکھ یہ قابل نہیں ملاقات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
Saleem Nasir