Poetries by Saleem Nasir
میں نہیں مانتا وہ بھي خائف نہيں تختہ دار سے
ميں بھي منصور ہوں کہ دو اغيار سے
کيوں ڈراتے ہو زنداں کي ديوار سے
ظلم کي بات کو جہل کي رات کو
ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا
تم نے لوٹا ہے صديوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر ميں تمہيں کس طرح سے کہوں
ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا
ديپ جس کا محلات ہي ميں جلے
چند لوگوں کي خوشيوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے ميں ہر مصلحت کے پلے
ايسے دستور کو صبح ِ بے نور کو
ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Saleem Nasir
ميں بھي منصور ہوں کہ دو اغيار سے
کيوں ڈراتے ہو زنداں کي ديوار سے
ظلم کي بات کو جہل کي رات کو
ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا
تم نے لوٹا ہے صديوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر ميں تمہيں کس طرح سے کہوں
ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا
ديپ جس کا محلات ہي ميں جلے
چند لوگوں کي خوشيوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے ميں ہر مصلحت کے پلے
ايسے دستور کو صبح ِ بے نور کو
ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Saleem Nasir
اب وقت نہیں ملتا اُس کی بزم میں جانے کو، اب وقت نہیں ملتا
کوئی بھی وعدہ نبھانے کو، اب وقت نہیں ملتا
کرنے کو مجھے اور، بڑی باتیں ہیں کرنا
ہر بات بتانے کو، اب وقت نہیں ملتا
سنا ہے محبت میں، ہیں رسمیں ضروری
ہمیں رسمیں نبھانے کو، اب وقت نہیں ملتا
نفرت کے جال میں، اِس طور سے ہوں الجھا
کہ آنسو بھی بہانے کو، اب وقت نہیں ملتا
غمِ دوراں میں اُلجھا ہوں، اب کے اِس طرح
اُسے ملنے ملانے کو، اب وقت نہیں ملتا
سنتے ہیں کہ ممکن ہے، انساں کا سنبھلنا
ہمیں دل اپنا بہلانے کو ، اب وقت نہیں ملتا
جو روٹھ کے ہم سے، کہیں اور جا چکے ہیں
اُنہیں پھر سے منانے کو، اب وقت نہیں ملتا
تنہا کسی محفل میں، کیا ناصر اب جائے
اسے اپنے بھی گھر جانے کو، اب وقت نہیں ملتا Saleem Nasir
کوئی بھی وعدہ نبھانے کو، اب وقت نہیں ملتا
کرنے کو مجھے اور، بڑی باتیں ہیں کرنا
ہر بات بتانے کو، اب وقت نہیں ملتا
سنا ہے محبت میں، ہیں رسمیں ضروری
ہمیں رسمیں نبھانے کو، اب وقت نہیں ملتا
نفرت کے جال میں، اِس طور سے ہوں الجھا
کہ آنسو بھی بہانے کو، اب وقت نہیں ملتا
غمِ دوراں میں اُلجھا ہوں، اب کے اِس طرح
اُسے ملنے ملانے کو، اب وقت نہیں ملتا
سنتے ہیں کہ ممکن ہے، انساں کا سنبھلنا
ہمیں دل اپنا بہلانے کو ، اب وقت نہیں ملتا
جو روٹھ کے ہم سے، کہیں اور جا چکے ہیں
اُنہیں پھر سے منانے کو، اب وقت نہیں ملتا
تنہا کسی محفل میں، کیا ناصر اب جائے
اسے اپنے بھی گھر جانے کو، اب وقت نہیں ملتا Saleem Nasir
اگر انکار نہ کرتا اب اصرار کرتا ہوں
کہ زندگی ادھوری ہے
کہ دکھ ہے نا رسائیوں کا
کہ رشتے بے ثبات ہیں
کہ بگڑے اب حالات ہیں
کہ خالی میرے ہاتھ ہیں
کہ اپنی زندگی میں اب
کئی اب مشکلات ہیں
کہ میرا ساتھ دینے میں
کئی برسوں کی دُوری ہے
کہ ہر داستاں اب تک
رہی کیونکر ادھوری ہے
کہ اب جگ ہنسائیوں کا
کہ ساری بے اعتنائیوں کا
میں یوسف نہیں پھر بھی
ذکر کرتا ہوں بھائیوں کا
کہ میں اقرار کرتا ہوں
مجھے اپنوں نے لوٹا ہے
یہی اظہار کرتا ہوں
اپنے دل کے جذبوں پہ
اگر اعتبار نہ کرتا
کبھی اِک ہاں جو کہہ دیتا
کوئی اصرار نہ کرتا
تو ہوتی مختلف زندگی
اگر انکار نہ کرتا Saleem Nasir
کہ زندگی ادھوری ہے
کہ دکھ ہے نا رسائیوں کا
کہ رشتے بے ثبات ہیں
کہ بگڑے اب حالات ہیں
کہ خالی میرے ہاتھ ہیں
کہ اپنی زندگی میں اب
کئی اب مشکلات ہیں
کہ میرا ساتھ دینے میں
کئی برسوں کی دُوری ہے
کہ ہر داستاں اب تک
رہی کیونکر ادھوری ہے
کہ اب جگ ہنسائیوں کا
کہ ساری بے اعتنائیوں کا
میں یوسف نہیں پھر بھی
ذکر کرتا ہوں بھائیوں کا
کہ میں اقرار کرتا ہوں
مجھے اپنوں نے لوٹا ہے
یہی اظہار کرتا ہوں
اپنے دل کے جذبوں پہ
اگر اعتبار نہ کرتا
کبھی اِک ہاں جو کہہ دیتا
کوئی اصرار نہ کرتا
تو ہوتی مختلف زندگی
اگر انکار نہ کرتا Saleem Nasir
منظر سے پسِ منظر میں منظر سے پسِ منظر میں
جانا کیوں ضروری ہے
کچھ خوابوں کو پانے میں
کئی خوابوں کو کچھ عرصہ
چھپانا کیوں ضروری ہے
بتانا کیوں ضروری ہے کہ
اب کی بار میں خود بھی
اپنی کسی تمنا کو
یکسر بھول جانے کی
کیوں کوشش میں رہتا ہوں
سوچتا ہوں کہ
لَوٹ آئیں گے
شاید وہ لمحے اب بھی
میں جن سے روشنی لے کر
نئی راہوں کو پا لوں گا
سجا لوں گا نئے خوابوں کو
اپنی ساکت آنکھوں پر
جو ہیں قید میں اب تک
انہی بیتے لمحوں کی
جہاں پہ خواب ٹوٹے تھے
جہاں پہ مان ٹوٹا تھا
میرے پُرجوش جذبوں کا
ہر ارمان ٹوٹا تھا
جو اِک مدت سے دل میں تھا
وہ مہمان روٹھا تھا
کوئی پوچھے تو کہہ دوں میں
بتا دوں میں سبھی باتیں
کہ منظر سے پسِ منظر میں
جانا کیوں ضروری ہے Saleem Nasir
جانا کیوں ضروری ہے
کچھ خوابوں کو پانے میں
کئی خوابوں کو کچھ عرصہ
چھپانا کیوں ضروری ہے
بتانا کیوں ضروری ہے کہ
اب کی بار میں خود بھی
اپنی کسی تمنا کو
یکسر بھول جانے کی
کیوں کوشش میں رہتا ہوں
سوچتا ہوں کہ
لَوٹ آئیں گے
شاید وہ لمحے اب بھی
میں جن سے روشنی لے کر
نئی راہوں کو پا لوں گا
سجا لوں گا نئے خوابوں کو
اپنی ساکت آنکھوں پر
جو ہیں قید میں اب تک
انہی بیتے لمحوں کی
جہاں پہ خواب ٹوٹے تھے
جہاں پہ مان ٹوٹا تھا
میرے پُرجوش جذبوں کا
ہر ارمان ٹوٹا تھا
جو اِک مدت سے دل میں تھا
وہ مہمان روٹھا تھا
کوئی پوچھے تو کہہ دوں میں
بتا دوں میں سبھی باتیں
کہ منظر سے پسِ منظر میں
جانا کیوں ضروری ہے Saleem Nasir
کاش میں بھی پینڈو ہوتا کاش میں بھی پینڈو ہوتا
نہ میں پڑھتا
نہ اپنی سوچ کی باتٰیں کرتا
نہ لمحے بے تاب ہوتے
نہ میرے کوئی خواب ہوتے
آنکھوں کے جو سامنے رہتا
ماں باپ مجھ سے بھی خوش ہوتے
پِنڈ میں رہتا پینڈو بن کر
لسیاں اور میں دودھ پیتا
تھوڑا بہت کام کرتا
رات کا سونا ایک طرف
دوپہر کو بھی آرام کرتا
چوبیس گھنٹے خوش خوش رہتا
پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتا
اور ریڈیو پہ گانے سنتا
نہ کوئی میں فیشن کرتا
نہ میرا کوئی خرچہ بڑھتا
نہ اخباری کالم پڑھتا
نہ کوئی سیاسی ٹینشن لیتا
کسی مٹیار سے شادی کر کے
آٹھ دس بچے پیدا کرتا
محدود پیمانے کی سوچوں میں
اپنے آپ کو خوش خوش رکھتا
لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے
میری سوچ اور میرے خواب
جینے کے ادب و آداب
بے مقصد کوئی زندگی جی کر
موت کا جام نہ پینے دیں گے
چین سے اب نہیں جینے دیں گے
Saleem Nasir
نہ میں پڑھتا
نہ اپنی سوچ کی باتٰیں کرتا
نہ لمحے بے تاب ہوتے
نہ میرے کوئی خواب ہوتے
آنکھوں کے جو سامنے رہتا
ماں باپ مجھ سے بھی خوش ہوتے
پِنڈ میں رہتا پینڈو بن کر
لسیاں اور میں دودھ پیتا
تھوڑا بہت کام کرتا
رات کا سونا ایک طرف
دوپہر کو بھی آرام کرتا
چوبیس گھنٹے خوش خوش رہتا
پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتا
اور ریڈیو پہ گانے سنتا
نہ کوئی میں فیشن کرتا
نہ میرا کوئی خرچہ بڑھتا
نہ اخباری کالم پڑھتا
نہ کوئی سیاسی ٹینشن لیتا
کسی مٹیار سے شادی کر کے
آٹھ دس بچے پیدا کرتا
محدود پیمانے کی سوچوں میں
اپنے آپ کو خوش خوش رکھتا
لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے
میری سوچ اور میرے خواب
جینے کے ادب و آداب
بے مقصد کوئی زندگی جی کر
موت کا جام نہ پینے دیں گے
چین سے اب نہیں جینے دیں گے
Saleem Nasir
چلو قدم سے قدم ملا کر آؤ مل کے یہ سوچتے ہیں کیوں اپنی حالت ہوئی ہے خستہ
کیوں زندگی اب ہے بوجھ لگتی کیوں ہوئے ہم ہیں دل شکستہ
انسان تو ہے خطا کا پُتلا آؤ اتنا تو احساس کر لیں
جہاں تھم جائیں اشک اپنے وہیں سے ملے گا کوئی رستہ
بنیں سہارا نہ کیوں دوسرے کا کہ آگے رستہ بھی پُر خطر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کیوں نہ آج ہم یہ بھی سوچیں کہ دل میں غصہ کیوں اب تلک ہے
زمیں پہ چلنا ہوا کیوں مشکل کیوں اب بھی دشمن یہ فلک ہے
کیوں اپنے خوابوں پہ اب قائم کیوں نہیں زندگی پھر سے دائم
ضرورت اب تک ہے کیونکر باقی کسی کی مُسکاتی اک جھلک ہے
کیا نہیں تمہیں اتنا لگتا کسی نظر بد کا یہ کوئی اثر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں ہمیں ہے بڑھنا محبتوں کے عَلم لے کر
ہے کاٹنا ساری نفرتوں کو ہتھیار اپنا قلم لے کر
بہت کچھ ابھی ہے کرنا ہے نئے خوابوں میں رنگ بھرنا
نکلیں اپنے حصار سے ہم من میں نیا اک حَلم لے کر
دور ہے بہت اپنی منزل نظر میں کسی اور کا یہ گھر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
آؤ سوچیں فروغ دینا ہے ہمیں نئی رفاقتوں کو
پھر سے مَن میں ہیں پھول بھرنا ہے یاد رکھنا نفاستوں کو
آؤ سوچیں کریں گے جذبوں کو نئے رنگوں سے آشنا ہم
ہے دوستی کا خیال رکھنا ہے جاننا نئے راستوں کو
تھا جو ہونا وہ ہو چکا بھلا کس چیز کا اب کوئی ڈر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں کہ دل کی باتیں ہمیں ہے اک دوسرے سے کہنا
منزل پانے کے راستے میں آنے والا ہے ہر دکھ سہنا
بے شک ہم کو ہے آگے بڑھنا نئے جذبوں کا جوش لے کر
ہے اپنا بھی ہمیں خیال کرنا مگر ہمیں ہے مل کے رہنا
اَن تھک محنت ہمیں ہے کرنا کہ دُور جانا کسی نگر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کرو یہ وعدہ کہ آج سے ہم اک نئے رشتے کو جوڑتے ہیں
گئے دنوں کی تمام تلخی ہر ایک خفت کو چھوڑتے ہیں
کیا کہاں کب ہوا تھا کیسے کون تھا خطا وار کتنا
گلے شکوے بھلا کے سارے رخ اپنی سوچوں کا موڑتے ہیں
مدد آپ اپنی کرو جو ناصر نہیں دُور پھر کوئی بھی نصر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے Saleem Nasir
کیوں زندگی اب ہے بوجھ لگتی کیوں ہوئے ہم ہیں دل شکستہ
انسان تو ہے خطا کا پُتلا آؤ اتنا تو احساس کر لیں
جہاں تھم جائیں اشک اپنے وہیں سے ملے گا کوئی رستہ
بنیں سہارا نہ کیوں دوسرے کا کہ آگے رستہ بھی پُر خطر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کیوں نہ آج ہم یہ بھی سوچیں کہ دل میں غصہ کیوں اب تلک ہے
زمیں پہ چلنا ہوا کیوں مشکل کیوں اب بھی دشمن یہ فلک ہے
کیوں اپنے خوابوں پہ اب قائم کیوں نہیں زندگی پھر سے دائم
ضرورت اب تک ہے کیونکر باقی کسی کی مُسکاتی اک جھلک ہے
کیا نہیں تمہیں اتنا لگتا کسی نظر بد کا یہ کوئی اثر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں ہمیں ہے بڑھنا محبتوں کے عَلم لے کر
ہے کاٹنا ساری نفرتوں کو ہتھیار اپنا قلم لے کر
بہت کچھ ابھی ہے کرنا ہے نئے خوابوں میں رنگ بھرنا
نکلیں اپنے حصار سے ہم من میں نیا اک حَلم لے کر
دور ہے بہت اپنی منزل نظر میں کسی اور کا یہ گھر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
آؤ سوچیں فروغ دینا ہے ہمیں نئی رفاقتوں کو
پھر سے مَن میں ہیں پھول بھرنا ہے یاد رکھنا نفاستوں کو
آؤ سوچیں کریں گے جذبوں کو نئے رنگوں سے آشنا ہم
ہے دوستی کا خیال رکھنا ہے جاننا نئے راستوں کو
تھا جو ہونا وہ ہو چکا بھلا کس چیز کا اب کوئی ڈر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
چلو یہ سوچیں کہ دل کی باتیں ہمیں ہے اک دوسرے سے کہنا
منزل پانے کے راستے میں آنے والا ہے ہر دکھ سہنا
بے شک ہم کو ہے آگے بڑھنا نئے جذبوں کا جوش لے کر
ہے اپنا بھی ہمیں خیال کرنا مگر ہمیں ہے مل کے رہنا
اَن تھک محنت ہمیں ہے کرنا کہ دُور جانا کسی نگر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے
کرو یہ وعدہ کہ آج سے ہم اک نئے رشتے کو جوڑتے ہیں
گئے دنوں کی تمام تلخی ہر ایک خفت کو چھوڑتے ہیں
کیا کہاں کب ہوا تھا کیسے کون تھا خطا وار کتنا
گلے شکوے بھلا کے سارے رخ اپنی سوچوں کا موڑتے ہیں
مدد آپ اپنی کرو جو ناصر نہیں دُور پھر کوئی بھی نصر ہے
چلو قدم سے قدم ملا کر کہ ابھی تو شروع ہوا سفر ہے Saleem Nasir
آداب کہا تھا تازگی جو دل کو دے گلاب کہا تھا
دوستوں کے چہروں کو کتاب کہا تھا
تم نے تو کہہ دیا کہ ستم پہ ہے ستم
ہم نے تو دوستوں کو آداب کہا تھا
تھا اِن سے مدتوں کے بعد رابطہ ہوا
زندگی کا ہم نے تو اِک باب کہا تھا
دوست دوستوں سے رہیں ربط میں ہمیشہ
ادھورا اپنا ہم نے تو اِک خواب کہا تھا
گمان سا ہوا تھا کسی کے روٹھ جانے کا
دل کے واہموں کا اِک سراب کہا تھا
منزلوں کے راستے میں غم سے ہوئے چُور
اِک چھایا اپنی سوچ پہ عذاب کہا تھا
ہمیں بےشک رکھنا ہے خود کو سنبھال کے
کبھی ناصر نے زمانے کو خراب کہا تھا Saleem Nasir
دوستوں کے چہروں کو کتاب کہا تھا
تم نے تو کہہ دیا کہ ستم پہ ہے ستم
ہم نے تو دوستوں کو آداب کہا تھا
تھا اِن سے مدتوں کے بعد رابطہ ہوا
زندگی کا ہم نے تو اِک باب کہا تھا
دوست دوستوں سے رہیں ربط میں ہمیشہ
ادھورا اپنا ہم نے تو اِک خواب کہا تھا
گمان سا ہوا تھا کسی کے روٹھ جانے کا
دل کے واہموں کا اِک سراب کہا تھا
منزلوں کے راستے میں غم سے ہوئے چُور
اِک چھایا اپنی سوچ پہ عذاب کہا تھا
ہمیں بےشک رکھنا ہے خود کو سنبھال کے
کبھی ناصر نے زمانے کو خراب کہا تھا Saleem Nasir
دوست روٹھ جاتے ہیں کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں
اب اپنے دوستوں کو میں
جو محفل کی جان تھے
پہچان تھے محبت کی
شان تھے رفاقت کی
مان تھے اعتماد کا
دوستی کے پاس کا
مانا یہ کہ زندگی نے
دوریاں بڑھائی ہیں
اپنے اپنے کاموں میں
یوں مصروف ہو گئے ہم
کہ خواب تک نہ لکھے
اور دوستوں کی باتوں کے
جواب تک نہ لکھے
دنیا نے جہاں پھینکا
تپتی ریت صحرا کے
سراب تک نہ لکھے
پھر ایسے میں گِلا کیسا
کہ ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں
منزلوں کو پانے میں
اپنا آپ بچانے میں
اکثر ایسے ہوتا ہے
کہ دوست روٹھ جاتے ہیں
Saleem Nasir
اب اپنے دوستوں کو میں
جو محفل کی جان تھے
پہچان تھے محبت کی
شان تھے رفاقت کی
مان تھے اعتماد کا
دوستی کے پاس کا
مانا یہ کہ زندگی نے
دوریاں بڑھائی ہیں
اپنے اپنے کاموں میں
یوں مصروف ہو گئے ہم
کہ خواب تک نہ لکھے
اور دوستوں کی باتوں کے
جواب تک نہ لکھے
دنیا نے جہاں پھینکا
تپتی ریت صحرا کے
سراب تک نہ لکھے
پھر ایسے میں گِلا کیسا
کہ ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں
منزلوں کو پانے میں
اپنا آپ بچانے میں
اکثر ایسے ہوتا ہے
کہ دوست روٹھ جاتے ہیں
Saleem Nasir
ہم انکار کرتی ہیں آج چند حقیقتیں میں بھی بتانا چاہتی ہوں
کون کتنے پانی میں ہے یہ سمجھانا چاہتی ہوں
ان لڑکوں کی اصلی صورت سب کو دکھانا چاہتی ہوں
یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ ہم اظہار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
آجکل کے لڑکے بھی تو گھٹیا پن کو مانتے ہیں
یہ بھی تو صرف اپنے مطلب کو پہچانتے ہیں
بے شک یہ بھی ہر قسمی میک اپ کرنا جانتے ہیں
کچھ فرق نمایاں کرنے کو ہم سنگھار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ، ہم انکار کرتی ہیں
سچ ہے یہ ، ان کو بھی عزت راس نہیں
ہم اسی لیے تو ڈالتی ان کو گھاس نہیں
کہتے ہیں یہ ہم بیٹھتی ان کے پاس نہیں
ان کی یہ ہی باتیں تو ہمیں بیزار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم کیوں خواہ مخواہ ان سے ملاقات کریں
ہماری اپنی زندگی ہے جس سے چاہیں بات کریں
انہیں کون کہتا ہے کہ خراب اپنی عادات کریں
یہ بتائیں کونسی ہم بات بیکار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم اگر شیطان ہیں تو بےشک شر کی بات کریں
کون کیسی لگتی ہے خشک و تر کی بات کریں
ان کی مائیں بہنیں بھی ہیں اپنے گھر کی بات کریں
اپنی پاک دامنی کا ہم اقرار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
یہ اپنی سنگدلی کو چھوڑ کے گوشۂ نرم کی بات کریں
اپنے دامن میں جھانکیں اور پھر دھرم کی بات کریں
ہالی بالی وڈ کو چھوڑ کے کوچۂ حرم کی بات کریں
صنفِ نازک ہو کر بھی ہم سوچ بیچار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم ہر مشکل میں ان کا ساتھ نبھائیں گی
ان کے لیے کلیوں کی سیج سجائیں گی
کچھ کر کے دکھائیں سر آنکھوں پہ بٹھائیں گی
کوئی کسی قابل ہو تو اس سے پیار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں Saleem Nasir
کون کتنے پانی میں ہے یہ سمجھانا چاہتی ہوں
ان لڑکوں کی اصلی صورت سب کو دکھانا چاہتی ہوں
یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ ہم اظہار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
آجکل کے لڑکے بھی تو گھٹیا پن کو مانتے ہیں
یہ بھی تو صرف اپنے مطلب کو پہچانتے ہیں
بے شک یہ بھی ہر قسمی میک اپ کرنا جانتے ہیں
کچھ فرق نمایاں کرنے کو ہم سنگھار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ، ہم انکار کرتی ہیں
سچ ہے یہ ، ان کو بھی عزت راس نہیں
ہم اسی لیے تو ڈالتی ان کو گھاس نہیں
کہتے ہیں یہ ہم بیٹھتی ان کے پاس نہیں
ان کی یہ ہی باتیں تو ہمیں بیزار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم کیوں خواہ مخواہ ان سے ملاقات کریں
ہماری اپنی زندگی ہے جس سے چاہیں بات کریں
انہیں کون کہتا ہے کہ خراب اپنی عادات کریں
یہ بتائیں کونسی ہم بات بیکار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم اگر شیطان ہیں تو بےشک شر کی بات کریں
کون کیسی لگتی ہے خشک و تر کی بات کریں
ان کی مائیں بہنیں بھی ہیں اپنے گھر کی بات کریں
اپنی پاک دامنی کا ہم اقرار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
یہ اپنی سنگدلی کو چھوڑ کے گوشۂ نرم کی بات کریں
اپنے دامن میں جھانکیں اور پھر دھرم کی بات کریں
ہالی بالی وڈ کو چھوڑ کے کوچۂ حرم کی بات کریں
صنفِ نازک ہو کر بھی ہم سوچ بیچار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم ہر مشکل میں ان کا ساتھ نبھائیں گی
ان کے لیے کلیوں کی سیج سجائیں گی
کچھ کر کے دکھائیں سر آنکھوں پہ بٹھائیں گی
کوئی کسی قابل ہو تو اس سے پیار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں Saleem Nasir
دل تو چاہتا ہے آپ سب کے ذہنوں کو بیدار کرنا چاہتا ہوں
میں چند حقیقتیں آشکار کرنا چاہتا ہوں
کچھ صنف نازک کے بارے اظہار کرنا چاہتا ہوں
مانا کہ یہ ماہر ہیں دو کی سات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
آجکل کی لڑکیاں شوخ ہیں رنگین ہیں
سر تا پا ہیں چاند صورت دلکش دلنشین ہیں
بن سنور کے بےشک لگتی بالکل مہ جبین ہیں
بن میک اپ مترادف ہیں یہ دن میں رات کرنےکو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
یہ حسن کی دیویاں بات پہ اپنی اڑ جاتی ہیں
عزت ان کو راس نہیں خواہ مخواہ سر پہ چڑھ جاتی ہیں
لڑکوں سے آگے ہر شعبے میں جانے کیسے بڑھ جاتی ہیں
جانتی ہیں یہ اپنے حق میں سب حالات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
سب کچھ ہوتا ہے دنیا میں ہر اہلیت تول کے
یہ ہر کام کرا لیتی ہیں کچھ کچھ میٹھا بول کے
نمبر بھی دیتے ہیں ان کو سب ٹیچر دل کھول کے
بےشک بنتی ہیں یہ باعث خراب عادات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
اپنے سوا یہ سب کو بدھو جانتی ہیں
کوئی کچھ بھی کہے یہ کب کسی کی مانتی ہیں
یہ صرف اپنے مطلب کو پہچانتی ہیں
عادی ہیں یہ ہر قسمی خرافات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
ان کے دل میں کوئی گوشہ نرم نہیں
دین و ایمان کا انہیں کوئی بھرم نہیں
انہیں مختصر کپڑے پہنتے آتی شرم نہیں
انہیں فرصت نہیں یاد اپنی روایات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
خود کو ان کے شر سے بچانا مشکل ہے
بےشک ان کا ساتھ نبھانا مشکل ہے
لیکن ان سے دور بھی جانا مشکل ہے
لاکھ یہ قابل نہیں ملاقات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو Saleem Nasir
میں چند حقیقتیں آشکار کرنا چاہتا ہوں
کچھ صنف نازک کے بارے اظہار کرنا چاہتا ہوں
مانا کہ یہ ماہر ہیں دو کی سات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
آجکل کی لڑکیاں شوخ ہیں رنگین ہیں
سر تا پا ہیں چاند صورت دلکش دلنشین ہیں
بن سنور کے بےشک لگتی بالکل مہ جبین ہیں
بن میک اپ مترادف ہیں یہ دن میں رات کرنےکو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
یہ حسن کی دیویاں بات پہ اپنی اڑ جاتی ہیں
عزت ان کو راس نہیں خواہ مخواہ سر پہ چڑھ جاتی ہیں
لڑکوں سے آگے ہر شعبے میں جانے کیسے بڑھ جاتی ہیں
جانتی ہیں یہ اپنے حق میں سب حالات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
سب کچھ ہوتا ہے دنیا میں ہر اہلیت تول کے
یہ ہر کام کرا لیتی ہیں کچھ کچھ میٹھا بول کے
نمبر بھی دیتے ہیں ان کو سب ٹیچر دل کھول کے
بےشک بنتی ہیں یہ باعث خراب عادات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
اپنے سوا یہ سب کو بدھو جانتی ہیں
کوئی کچھ بھی کہے یہ کب کسی کی مانتی ہیں
یہ صرف اپنے مطلب کو پہچانتی ہیں
عادی ہیں یہ ہر قسمی خرافات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
ان کے دل میں کوئی گوشہ نرم نہیں
دین و ایمان کا انہیں کوئی بھرم نہیں
انہیں مختصر کپڑے پہنتے آتی شرم نہیں
انہیں فرصت نہیں یاد اپنی روایات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
خود کو ان کے شر سے بچانا مشکل ہے
بےشک ان کا ساتھ نبھانا مشکل ہے
لیکن ان سے دور بھی جانا مشکل ہے
لاکھ یہ قابل نہیں ملاقات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو Saleem Nasir