Poetries by جاوید صدیقی

قیامت اور پاکستانی سنا تھا کہ قیامت میں تباہی کاحال ہوگا
تحلیل، مسمار، بربادی اوراختتام ہوگا
اُس وقت کوئی نہیں صرف اللہ کاوجود ہوگا
اللہ اپنے حبیب کا ذکراُس دن بھی کریگا
درود و سلام پڑھتا ہے رب اپنے حبیب پر
حبیب ظاہری نہ ہوگا تو کیا ہوامحبوب تو ہوگا
قطاریں بندھی ہوئی ہونگی حضرت انسانوں کی
ہر ایک پریشان ، فکرمند اور گھبراہٹ میں ہوگا
ظالم اپنے ظلموں کے پہاڑ دیکھ رے ہونگے
حضرت انسان کے لمحہ بہ لمحہ کا حساب ہوگا
دنیاکے جھوٹے لیڈر اوندھے پڑے ہونگے
پاکستانی لیڈروں کاانتہائی برے حال میں ہوگا
پاکستانی لیڈروں کی شورش اس طرح ہوگی
ہر تصویر میں جانوروں سے بد تر اعمال ہوگا
قیامت میں رسوائیوں کا تمام حال ان لیڈران کا ہوگا
عکس دنیا میں ان لیڈرانوں نے دین و دنیاکا برا حال کیا ہوگا
کہ حصول دولت و ہوس میں ڈوبے تھے اس طرح
ظالم لیڈرانوں نے مظلموں پرظلم کرناچھوڑا نہ ہوگا
نہ بنیادی سہولتیں نہ انصاف و حق میسر کیا ہوگا
الیکشن کے دنوں میں خوبصورت خوابوں کا انبار ہوگا
روز قیامت پاکستانی عوام کا جو حال ہوگا وہ دیکھنے والا ہوگا
ہر شخص بد عنوانی، لوٹ کھسوٹ، دھوکہ دہی میں مجرم بنا ہوگا
اے جاوید سنبھل نہیں سکتی اُس وقت تک حالت پاکستان کی
کہ جب تک ہر شخص اپنا اپنا خود احتساب کرنانہ شروع کریگا
 
جاوید صدیقی
حمد عزیز احسن (کراچی)
دل پہ مرے احساس نے جو حرف لکھا ہے
ہے تیرے سوا کون کہ جس نے وہ پڑھا ہے
تصویر تری کثرت جلوہ سے ہے معدوم
آئینہ حیرت ہے کہ آغوش کشا ہے
ہر آنکھ ہے رنگوں کی فراوانی سے خیرہ
وحدت کا تری بھید کھلا تھا نہ کھا ہے
تو نے ہی تو ہر مرحلہ شوق میں یارب!
اس چشم تماشا کو نیا عزم دیا ہے
جو تو نہیں چاہے وہ کبھی ہو نہیں سکتا
ہر کام فقط تیرے ارادے سے ہوا ہے
ہر جاں کو تسلی کہ حفاظت میں ہے تیری
ہر زخم تری چشم عنایت سے بھرا ہے
ایماں ترے ہونے کا، مری جاں کا اثاثہ
ایماں ترے قرب کا اس دل کی جلا ہے
تو نے ہی مجھے نطق کی دولت سے نوازا
تو نے مرے احساس کو اظہار دیا ہے
احسن پہ عنایات کے در باز ہوں یارب
یہ دشت تحیر میں تجھے ڈھونڈ رہا ہے
صبیح رحمانی
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاﺅں میں تھا
زباں خموش تھی دل محو التجاﺅں میں تھا
در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداﺅں میں تھا
غلاف خانہ ¿ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
خدا سے عرض و گزارش کی انتہاﺅں میں تھا
حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاﺅں میں تھا
طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
جہان ارض و سما جیسے میرے پاﺅں میں تھا
فضائے معرفت آثار میں تھا دل سرشار
مرا وجود خدا کے کرم کی چھاﺅں میں تھا
دھڑک رہا ہے مرے ساز روح پر اب بھی
وہ ایک نغمہ جو ”لبیک“ کی صداﺅں میں تھا
مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاﺅں گا
کہ یہ سوال بھی شامل مری دعاﺅں میں تھا
Jawed Siddiqi