Poetries by قادری رضوی

زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لئے زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لئے
چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لئے
دہن میں زباں تمہارے لئے ، بدن میں ہے جاں تمہارے لئے
ہم آئے یہاں تمہارے لئے ، اٹھیں بھی وہاں تمہارے لئے
فرشتے خدم رسول حشم ، تمام امم غلام کرم
وجود و عدم حدوث و قدم ، جہاں میں عیاں تمہارے لئے
کلیم و نجی ، مسیح و صفی ، خلیل و رضی ، رسول و نبی
عتیق و وصی ، غنی و علی ، ثناء کی زباں تمہارے لئے
اصلت کل امامت کل ، سیادت کل امارت کل
حکومت کل ولایت کل ، خدا کے یہاں تمہارے لئے
تمہاری چمک تمہاری دمک ، تمہاری جھلک تمہاری مہک
زمین و فلک سماک و سمک ، میں سکہ نشاں تمہارے لئے
وہ کنز نہاں یہ نور فشاں ، وہ کن سے عیاں یہ بزم فکاں
یہ ہر تن و جاں یہ باغ جناں ، یہ سارا سماں تمہارے لئے
ظہور نہاں قیام جہاں ، رکوع مہاں سجود شہاں
نیازیں یہاں نمازیں وہاں ، یہ کس کے لئے تمہارے لئے
یہ شمس و قمر یہ شام و سحر ، یہ برگ و شجر یہ باغ و ثمر
یہ تیغ و سپر یہ تاج و کمر ، یہ حکم رواں تمہارے لئے
یہ فیض دیئے وہ جود کئے ، کہ نام لئے زمانہ جیئے
جہاں نے لئے تمہارے دیے ، یہ اکرامیاں تمہارے لئے
سحاب کرم روانہ کئے ، کہ آب نعم زمانہ پئے
جو رکھتے تھے ہم وہ چاک سیئے ، یہ ستر بداں تمہارے لئے
ثناء کا نشاں وہ نور فشاں ، کہ مہر و شاں بآں ہمہ شاں
بسا یہ کشاں مواکب شاں ، یہ نام و نشاں تمہارے لئے
عطائے ارب جلائے کرب ، فیوض عجب بغیر طلب
یہ رحمت رب ہے کس کے سبب ، برب جہاں تمہارے لئے
ذنوب فنا عیوب ہبا ، قلوب صفا خطوب روا
یہ خوب عطا کروب زوا ، پئے دل و جاں تمہارے لئے
نہ جن و بشر کہ آٹھوں پہر ، ملائکہ در پہ بستہ کمر
نہ جبہ و سر کہ قلب و جگر ، ہیں سجدہ کناں تمہارے لئے
نہ روح امیں نہ عرش بریں ، نہ لوح مبیں کوئی بھی کہیں
خبر ہی نہیں جو رمزیں کھلیں ، ازل کی نہاں تمہارے لئے
جناں میں چمن ، چمن میں ثمن ، ثمن میں پھبن ، پھبن میں دلہن
سزائے محن پہ ایسے منن ، یہ امن و اماں تمہارے لئے
کمال مہاں جلال شہاں ، جمال حساں میں تم ہو عیاں
کہ سارے جہاں میں روز فکاں ، ظل آئینہ ساں تمہارے لئے
یہ طور کجا سپہر تو کیا ، کہ عرش علا بھی دور رہا
جہت سے ورا وصال ملا ، یہ رفعت شاں تمہارے لئے
خلیل و نجی ، مسیح و صفی ، سبھی سے کہی کہیں بھی بنی؟
یہ بے خبری کہ خلق پھری ِ کہاں سے کہاں تمہارے لئے
بفور صدا سماں یہ بندھا ، یہ سدرہ اٹھا وہ عرش جھکا
صفوف سماں نے سجدہ کیا ، ہوئی جو اذاں تمہارے لئے
یہ مرحمتیں کہ کچی متیں ، یہ چھوڑیں لتیں نہ انی گتیں
قصور کریں اور ان سے بھریں ، قصور جناں تمہارے لئے
فنا بدرت بقا ببرت ، زہر دو جہت بگرد سرت
ہے مرکزیت تمہاری صفت ، کہ دونوں کماں تمہارے لئے
اشارے سے چاند چیر دیا ، چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
گئے ہوئے دن کو عصر کیا ، یہ تاب و تواں تمہارے لئے
صباء وہ چلے کہ باغ پھلے ، وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لواء کے تلے ثناء میں کھلے رضاؔ کی زباں تمہارے لئے
Qaddri Razavi
بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں ادا کی سحر کی ہے
چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے
ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشت امل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو تجھ کو یہ عظمت سفر کی ہے
ہم گرد کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے
کالک جبیں کی سجدہئ در سے چھڑاؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے
ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے
جھالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے
برسا کے جانے والوں پہ گوہر کروں نثار
ابر کرم سے عرض یہ میزاب زر کی ہے
آغوش شوق کھولے ہے جن کے لئے حطیم
وہ پھر کے دیکھتے نہیں یہ دھن کدھر کی ہے
ہاں ہاں رہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاؤں رکھنے والے یہ جاء چشم و سر کی ہے
واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے جان نو
یہ راہ جانفزاء میرے مولیٰ کے در کی ہے
گھڑیاں گنی ہیں برسوں کی یہ شب گھڑی پھری
مر مر کے یہ سل میرے سینے سے سر کی ہے
اﷲ اکبر اپنے قدم اور یہ خاک پاک
حسرت ملائکہ کو جہاں وضع سر کی ہے
معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے ہو زائرو !
کرسی سے اونچی کرسی اسی پاک در کی ہے
عشاق روضہ سجدہ میں سوئے حرم جھکے
اﷲ جانتا ہے کہ نیت کدھر کی ہے
یہ گھر یہ در ہے اس کا جو گھر در سے پاک ہے
مژدہ ہو بے گھرو کہ صلا اچھے گھر کی ہے
محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے
چھائے ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود
بدلے میں پہرے بدلی میں بارش دورر کی ہے
سعدین کا قران ہے پہلوئے ماہ میں
جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے
ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگیء زلف و رخ آٹھوں پہر کی ہے
جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آسکے
رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے
تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے
اے وائے بےکسی تمنا کہ اب امید
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے
یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروڑوں کی آس جائے
اور بارگاہ مرحمت عام تر کی ہے
معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایک بار بار
عاصی پڑے رہیں تو صلاء عمر بھر کی ہے
زندہ رہیں تو حاضری بارگاہ نصیب
مر جائیں تو حیات ابد عیش گھر کی ہے
مفلس اور ایسے در سے پھرے بے غنی ہوئے
چاندی ہر اک طرح تو یہاں گدایان در کی ہے
جاناں یہ تکیہ خاک نہالی ہے دل نہال
ہاں بینواؤ خون یہ صورت گذر کی ہے
ہیں چتر و تحت سایہئ دیوار و خاک در
شاہوں کو کب نصیب یہ دھج کروفر کی ہے
اس پاک کو میں خاک بسر سر بخاک ہیں
سمجھے ہیں کچھ یہی جو حقیقت بسر کی ہے
کیوں تاجدارو خواب میں دیکھی کبھی یہ شے
جو آج جھولیوں میں گدایان در کی ہے
جروکشوں میں چہرے لکھے ہیں ملوک کے
وہ بھی کہاں نصیب فقط نام بھر کی ہے
طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے
عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو
مکہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے
شان جمال طیبہ جاناں ہے نفع محض
وسعت جلال مکہ میں سود و ضرر کی ہے
کعبہ ہے بےشک انجمن آرا دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں میں دولہا کے گھر کی ہے
کعبہ دلہن ہے تربت اطہر نئی دلہن
یہ رشک آفتاب ہے وہ غیرت قمر کی ہے
دونوں بنیں سجیلی انیلی بنیں مگر
جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے
سر سبز وصل یہ ہے سیہ پوش ہجر وہ
چمکی دوپٹوں سے ہے جو حالت جگر کی ہے
ماؤ شما تو کیا کہ خلیل جلیل کو
کل دیکھنا کہ اُن سے تمنا نظر کی ہے
اپنا شرف دعا سے ہے باقی رہا قبول
یہ جانیں ان کے ہاتھ میں کنجی اثر کی ہے
جو چاہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر
زرنا خریدہ ایک کنیز ان کے گھر کی ہے
رومی غلام دن حبشی باندیاں شبیں
گنتی کنیز زادوں میں شام و سحر کی ہے
اتنا عجب بلندیئ جنت پہ کس لئے
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے
عرش بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
اتری شبیہ تیرے بام و در کی ہے
وہ خلد جس میں اترے کی ابرار کی بارات
ادنیٰ نچھاور اس میرے دولہا کے سر کی ہے
عنبر زمین عبیر ہوا مشک تر غبار
ادنیٰ سی یہ شناخت تیری رہ گزر کی ہے
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ لا ہے نہ حاجت اگر کی ہے
اف بے حیائیاں کہ یہ منہ اور تیرے حضور
ہاں تو کریم ہے تیری خو در گزر کی ہے
تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
کیا پرسش اور جاء بھی سگ بے ہنر کی ہے
باب عطاء تو یہ ہے جو بہکا ادھر ادھر
کیسی خرابی اس نگھرے در بدر کی ہے
آباد ایک در ہے تیرا اور تیرے سوا
جو بارگاہ دیکھئے غیرت کھنڈر کی ہے
لب وا ہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک تیرے پاک در کی ہے
گھیرا اندھیریوں نے دہائی ہے چاند کی
تنہا ہوں کالی رات ہے منزل خطر کی ہے
قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج
یہ ساری گتھی اک تیری سیدھی نظر کی ہے
ایسی بندھی ، نصیب کھلے ، مشکلیں کھلیں
دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے
جنت دیں نہ دیں تیری رؤیت ہو خیر سے
اس گل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے
شربت دےں نہ دیں تو کرے بات لطف سے
یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے
میں خانہ زاد کہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی
بندوں کنیزوں میں میرے مادر پدر کی ہے
منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
سنکی وہ دیکھ باد شفاعت کہ دے ہوا
یہ آبرو رضاؔ تیرے دامان تر کی ہے
Qaddri Razavi
شکر خدا کی آج گھڑی اس سفر کی ہے شکر خدا کی آج گھڑی اس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
نا شکر یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے
کس خاکِ پاک کی تو بنی خاک پاء شفائی
تجھ کو قسم جنابِ مسیحا کے سر کی ہے
آب حیات روح ہے زرقا کی بوند بوند
اکسیر اعظم مس دل خاک در کی ہے
ہم کو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے
حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے
لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سنا کیے
ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے
وہ دیکھو جگماتی ہے شب اور قمر ابھی
پہروں نہیں کہ بست و چہارم صفر کی ہے
ماہ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے
یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے
مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہ' شَفَاعَتِیْ
ان پر درود جن سے نوید ان بشر کی ہے
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دئیے
اصل مراد حاضری اس پاک در کی ہے
کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے
کعبہ بھی ہے انہی کی تجلی کا ایک ظل
روشن انہی کے عکس سے پتلی حجر کی ہے
ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ
لولاک والے صاحبی سب تیرے در کی ہے
مولیٰ علی نے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے
اور حفظ جاں تو جان فروض غرر کی ہے
ہاں تو نے ان کو جان انہیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
شر خیر شور سور شرر دور نار نور
بشریٰ کہ بارگاہ یہ خیر البشر کی ہے
مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُ وْکَ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
بد ہیں مگر انہیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہم
نجدی نہ آئے اس کو یہ منزل خطر کی ہے
تف نجدیت نہ کفر نہ اسلام سب پہ حرف
کافر اِدھر کی ہے نہ اُدھر کی اَدھر کی ہے
حاکم حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیں
مردود یہ مراد کس آیت خبر کی ہے
شکل بشر میں نور الٰہی اگر نہ ہو
کیا قدر اس خمیرہئ ماؤ مدر کی ہے
نور الٰہ کیا ہے محبت حبیب کی
جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے
ذکر خدا جو ان سے جدا چاہو نجدیو !
واﷲ ذکر حق نہیں کنجی سقر کی ہے
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطاء کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے
مقصود یہ ہیں آدم و خلیل و نوح سے
تخم کرم میں ساری کرامت ثمر کی ہے
ان کی نبوت ان کی ابوت ہے سب کو عام
ام البشر عروس انہیں کے پسر کی ہے
ظاہر میں میرے پھول حقیقت میں میرے نخل
اس گل کی یاد میں یہ صدا ابو البشر کی ہے
پہلے ہو ان کی یاد کہ پائے جلا نماز
یہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے
دنیا ، مزار ، حشر جہاں ہیں غفور ہیں
ہر منزل اپنے چاند کی منزل غفر کی ہے
ان پر درود جن کو حجر تک کریں سلام
ان پر سلام جن کو تحیت شجر کی ہے
ان پر درود جن کو کس بیکساں کہیں
ان پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ بارگاہ مالک جن و بشر کی ہے
شمس و قمر سلام کو حاضر ہی السلام
خوبی انہی کی جوت سے شمس و قمر کی ہے
سب بحر و بر سلام کو حاضر ہیں السلام
تملیک انہی کے نام تو بحر و بر کی ہے
سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السلام
کلمے سے تر زبان درخت و حجر کی ہے
عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں السلام
ملجا یہ بارگاہ دعا و اثر کی ہے
شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السلام
راحت انہی کے قدموں میں شویدہ سر کی ہے
خستی جگر سلام کو حاضر ہیں السلام
مرہم یہیں کی خاک تو خستہ جگر کی ہے
سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ جلو گاہ مالک ہر خشک و تر کی ہے
سب کروفر سلام کو حاضر ہیں السلام
ٹوپی یہیں تو خاک پہ ہر کروفر کی ہے
اہل نظر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ گرد ہی تو سرمہئ سب اہل نظر کی ہے
آنسو بہا کے بہہ گئے کالے گناہ کے ڈھیر
ہاتھی ڈوباؤ جھیل یہاں چشم و تر کی ہے
تیری قضاء خلیفہ احکام ذی الجلال
تیری رضا حلیف قضاؤ قدر کی ہے
یہ پیاری پیاری کیاری تیرے خانہ باغ کی
سرد اس کی آب و تاب سے آتش سقر کی ہے
جنت میں آکے نار میں جاتا نہیں کوئی
شکرِ خدا نوید نجات و ظفر کی ہے
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف و رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے
دامن کا واسطہ مجھے اس دھوپ سے بچا
مجھ کو تو شاق جاڑوں میں اس دوپہر کی ہے
ماں ، دونوں بھائی ، بیٹے ، بھتیجے ، عزیز ، دوست
سب تجھ کو سونپے مِلک ہی سب تیرے گھر کی ہے
جن جن مرادوں کے لئے احباب نے کہا
پیش خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے
فضل خدا سے غیب شہادت ہوا انہیں
اس پر شہادت آیت و وحی و اثر کی ہے
کہنا نہ کہنے والے تھے جب سے تو اطلاع
مولیٰ کو قول و قائل و ہر خشک و تر کی ہے
ان پر کتاب اتری بیاناً لِکُلِ ّ شَیْئٍ
تفصیل جس میں مَا عَبَرُوْ مَا غَبَر کی ہے
آگے رہی عطاء وہ بقدر طلب تو کیا
عادت یہاں امید سے بھی بیشتر کی ہے
بے مانگے دینے والے کی نعمت میں غرق ہیں
مانگے سے جو ملے کسے فہم اس قدر کی ہے
احباب اس سے بڑھ کے تو شاید نہ پائیں عرض
نا کردہ عرض عرض یہ طرزِ دگر کی ہے
دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہو گی آب
ندی گلے گلے میرے آب گہر کی ہے
دشت حرم میں رہنے دے صیاد اگر تجھے
مٹی عزیز بلبل بے بال و پر کی ہے
یا رب رضاؔ نہ احمد پارینہ ہو کے جائے
یہ بارگاہ تیرے حبیب ابر کی ہے
توفیق دے کہ آگے نہ پیدا ہو خوئے بد
تبدیل کر جو خصلت بد بیشتر کی ہے
آ کچھ سُنا دے عشق کے بولوں میں اے رضاؔ
مشتاق طبع لذت سوز جگر کی ہے
Qaddri Razavi
عرش حق ہے مسند رفعت رسول اﷲ کی عرش حق ہے مسند رفعت رسول اﷲ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزت رسول اﷲ کی
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہو گی جب طلعت رسول اﷲ کی
کافروں پر تیغ والا سے گری برق غضب
ابر آ سا چھا گیا ہیبت رسول اﷲ کی
لَا وَ رَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اﷲ کی
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اﷲ کو حاجت رسول اﷲ کی
سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک
اندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اﷲ کی
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اﷲ کے جنت رسول اﷲ کی
ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جو یاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں امت رسول اﷲ کی
نجدی اس نے تجھ کو مہلت دی کہ اس عالم میں ہے
کافر و مرتد پہ بھی رحمت رسول اﷲ کی
ہم بھکاری وہ کریم ان کا خدا ان سے فزوں
اور نہ کہنا نہیں عادت رسول اﷲ کی
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اﷲ کی
خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اﷲ کی
ٹوٹ جائیں گے گنہگاروں کے فوراً قید و بند
حشر کو کھل جائے گی طاقت رسول اﷲ کی
یا رب اک ساعت میں دھل جائیں سیہ کاروں کے جرم
جوش میں آ جائے اب رحمت رسول اﷲ کی
ہے گل باغ قدس رخسار زیبائے حضور
سرو گلزار قدم قامت رسول اﷲ کی
اے رضاؔ خود صاحب قرآں ہے مداح حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اﷲ کی
Qaddri Razavi
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جان مراد اب کدھر ہائے تیرا مکان ہے
بزم ثنائے زلف میں میری عروس فکر کو
ساری بہار ہشت خلد چھوٹا سا عطر دان ہے
عرش پہ جا کے مرغ عقل تھک کے گرا غش آگیا
اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگایئے تیری ہی داستان ہے
اک تیرے رخ کی روشنی ، چین ہے دو جہان کی
انس کا انس اسی سے ہے ، جان کی وہی جان ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا ، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی ، جان ہے تو جہان ہے
گود میں عالم شباب ، حال شباب کچھ نہ پوچھ
گلبن باغ نور کی ، اور ہی اک اٹھان ہے
تجھ سا سیاہ کار کون ، ان سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں ، دل یہ تیرا گمان ہے
پیش نظر وہ نو بہار ، سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ، ہاں یہی امتحان ہے
شان خدا نہ ساتھ دے ، ان کے خرام کا وہ باز
سدرہ سے تاز میں جسے ، نرم سی اک اڑان ہے
بار جلال اٹھا لیا ، گرچہ کلیجہ شق ہوا
یوں تو ماہ سبز رنگ ، نظروں میں دھان پان ہے
خوف نہ رکھ رضاؔ ذرا ، تو تو ہے عبد مصطفےٰ
تیرے لئے امان ہے ، تیرے لئے امان ہے
 
Qaddri Razavi
خراب حال کیا دل کو پر ملال کیا خراب حال کیا دل کو پر ملال کیا
تمہارے کوچہ سے رخصت کیا نہال کیا
نہ روئے گل ابھی دیکھا نہ بوئے گل سونگھی
قضاء نے لا کے قفس میں شکستہ بال کیا
وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جسمیں مل ڈالا
فغاں کہ گور شہیداں کو پامال کیا
یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفس
ستمگر اُلٹی چھری سے ہمیں حلال کیا
یہ کب کی مجھ سے عداوت تھی تجھ کو اے ظالم
چھُڑا کے سنگ در پاک سر و بال کیا
چمن سے پھینک دیا آشیانہئ بلبل
اُجاڑا خانہ بے کس بڑا کمال کیا
تیرا ستم زدہ آنکھوں نے کیا بگاڑا تھا
یہ کیا سمائی کہ دور اِن سے جمال کیا
حضور اُن کے خیال وطن مٹانا تھا
ہم آپ مٹ گئے اچھا فراغ بال کیا
نہ گھر کا رکھا نہ در کا ہائے ناکامی
ہماری بے بسی پر بھی نہ کچھ خیال کیا
جو دل نے مر کے جلایا تھا منتوں کا چراغ
ستم کہ عرض رہِ صر صر زوال کیا
مدینہ چھوڑ کے ویرانہ ہند کا چھایا
یہ کیسا ہائے حواسوں نے اختلال کیا
تو جس کے واسطے چھوڑ آیا طیبہ سا محبوب
بتا تو اس ستم آرا نے کیا نہال کیا
ابھی ابھی تو چمن میں تھے چہچہے ناگاہ
یہ درد کیسا اُٹھا جس نے جی نڈھال کیا
الٰہی سن لے رضاؔ جیتے جی کہ مولیٰ نے
سگانِ کوچہ میں چہرا میرا بحال کیا
Qaddri Razavi
مصطفی خیر الوریٰ ہو مصطفی خیر الوریٰ ہو
سرور ہر دو سرا ہو
اپنے اچھوں کا تصدق
ہم بدوں کو بھی نباہو
کس کے پھر ہو کے رہیں ہم
گر تمہی ہم کو نہ چاہو
بد ہنسیں تم ان کی خاطر
رات بھر روو کراہو
بد کریں ہر دم برائی
تم کہو ان کا بھلا ہو
ہم وہی ناشستہ رو ہیں
تم وہی بحر عطاء ہو
ہم وہی شایان رو ہیں
تم وہی شان سخا ہو
ہم وہی بے شرم و بد ہیں
تم وہی کان حیاء ہو
ہم وہی ننگ جفا ہیں
تم وہی جان وفا ہو
ہم وہی قابل سزا کے
تم وہی رحم خدا ہو
چرخ بدلے دہر بدلے
تم بدلنے سے ورا ہو
اب ہمیں ہوں سہو حاشا
ایسی بھولوں سے جدا ہو
عمر بھر تو یاد رکھا
وقت پر کیا بھولنا ہو
وقت پیدائش نہ بھولے
کَیْفَ یَنسٰی کیوں قضاء ہو
یہ بھی مولیٰ عرض کر دوں
بھول اگر جاؤ تو کیا ہو
وہ ہو جو تم پر گراں ہے
وہ ہو جو ہرگز نہ چاہو
وہ ہو جس کا نام لیتے
دشمنوں کا دل برا ہو
وہ ہو جس کی رد کی خاطر
رات دن وقف دعا ہو
مر مٹیں برباد بندے
خانہ آباد آگ کا ہو
شاد ہو ابلیس ملعون
غم کسے اس قہر کا ہو
تم ہو واﷲ تم کو
جان و دل تم پر فدا ہو
تم کو غم سے حق بچائے
غم عدو کو جاں گزا ہو
تم سے غم کو کیا تعلق
بے کسوں کے غم زُدا ہو
حق درودیں تم پر بھیجے
تم مدام اس کو سراہو
وہ عطاء دے تم عطاء لو
وہ وہی چاہے جو چاہو
بر تو او پاشد تو برما
تا ابد یہ سلسلہ ہو
کیوں رضاؔ مشکل سے ڈرئیے
جب نبی مشکل کشاء ہو
Qaddri Raza
وہ سرورِ کشورِ رسالت ، جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے وہ سرورِ کشورِ رسالت ، جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں ، عرب کے مہماں کے لئے تھے
بہار ہے شادیاں مبارک ، عرب کو آبادیاں مبارک
ملک فلک اپنی اپنی لے میں ، یہ گھر عنادل کا بولتے تھے
وہاں فلک پر یہاں زمیں میں ، رچی تھے شادی مچی تھی دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے ، اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے
یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی ، کہ عرش تک چاندنی تھی چٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی ، جگہ جگہ نسب آئینے تھے
نئی دُلہن کی پھبن میں کعبہ ، نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے اِک تل ، میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے
نظر میں دُولہا کے پیارے جلوے ، حیاء سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منہ پر آنچل ، تجلی ذات بخت کے تھے
خوشی کے بادل اُمڈ کے آئے ، دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمہ نعت کا سماں تھا ، حرم کو خود وجد آ رہے تھے
وہ جھوما میزابِ زر کا جھومر ، کہ آرہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کر ، حطیم کی گود میں بھرے تھے
دُلہن کی خوشبو میں مست کپڑے ، نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلافِ مشکیں جو اُڑ رہا تھا ، غزال نافے بسا رہے تھے
پہاڑیوں کا وہ حسنِ تزئیں ، وہ اونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں
صباء سے سبزہ میں لہریں آئیں ، دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے
نہا کے نہروں میں وہ چمکتا ، لباس آبِ زر کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا ، حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے
پرانا پر داغ ملگجا تھا ، اُٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجومِ تارنگہ سے کوسوں ، قدم قدم فرش بادلے تھے
غبار بن کر نثار جائیں ، کہاں اب اُس رہ گزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں ، فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے
خدا ہی صبر دے جانِ پر غم ، دکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالم
جب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی ، جناں کا دولہا بنا رہے تھے
اُتار کر اُن کے رُخ کا صدقہ ، وہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر ، جبیں کی خیرات مانگتے تھے
وہی تو اب تک چھلک رہا ہے ، وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی ، کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے
بچا جو اُن کے تلوؤں کا دھوؤن ، بنا وہ جنت کا رنگ و روغن
جنہوں نے دُولہا کی پائی اُترن ، وہ پھول گلزارِ نور کے تھے
خبر ہی تحویل مہر کی تھے ، کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی ، یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے
تجلی حق کا سہرا سر پر ، صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاور
دو رویہ قدسی پرے جما کر ، کھڑے سلامی کے واسطے تھے
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن ، لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو ، یہ نامرادی کے دن لکھے تھے
ابھی نہ آئے تھے پشتِ زیں تک ، کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مبارک ، گناہ مستانہ جھومتے تھے
عجب نہ تھا رخش کا چمکنا ، غزال دم خوردہ سا بھڑکانہ
شعاعیں بکے اُڑا رہی تھیں ، تڑپتے آنکھوں پہ ساعقے تھے
ہجومِ اُمید سے گھٹاؤ ، مرادیں دے کر انہیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لئے بڑھاؤ ، ملائکہ میں یہ غلغلے تھے
اُٹھی جو گردِ رہ منور ، وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل ، امنڈ کے جنگل اُبل رہے تھے
ستم کیا کیسی مت کٹی تھی ، قمر وہ خاک اُن کے رہ گزر کی
اُٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے ، یہ داغ سب دیکھنا مٹے تھے
بُراق کے نقش سم کے صدقے ۔ وہ گل کھلائے کہ سارے رستے
مہکتے گلبن، مہکتے گلشن ، ہرے بھرے لہلہا رہے تھے
نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سِر ، عیاں ہو معنیئ اول و آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر ، جو سلطنت آگے کر گئے تھے
یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا ، نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا ، اُجالتے تھے کھنگالتے تھے
نقاب اُلٹے وہ مہر انور ، جلالِ رُخسار گرمی پر
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی ، تپکتے انجم کے آبلے تھے
یہ جوششِ نور کا اثر تھا ، کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا
صفائے رہ سے پھسل پھسل کر ، ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے
بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت ، کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت ، یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے
وہ ظلِ رحمت وہ رُخ کے جلوے ، کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت اودی اطلس ، یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے
چلا وہ سرو چماں خراماں ، نہ رُک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک چھپکتی رہی وہ کب کے ، سب این و آں سے گزر چکے تھے
جھلک سی اک قدسیوں پر آئی ، ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دُولہا کی دُرود پہنچی ، برات میں ہوش ہی گئے تھے
تھکے تھے روح الامیں کے بازو ، چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی ُمید ٹوٹی ، نگاہِ حسرت کے ولولے تھے
روّش کی گرمی کو جس نے سوچا ، دماغ سے اک بھبوکا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا ، دَہر دَہر پیڑ جل رہے تھے
جلو میں جو مرغ عقل اُڑے تھے ، عجب بُرے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ پر ہی رہے تھے تھک کر ، چڑھا تھا دم تیور آگئے تھے
قوی تھے مرغانِ وہم کے پر ، اُڑے تو اُڑنے کو اور دم بھر
اُٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر ، کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے
سُنا یہ اتنے میں عرشِ حق نے ، کہا مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے ، جو پہلے تاجِ شرف تیرے تھے
یہ سُن کے بے خود پکار اُٹھا ، نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلوؤں کا پاؤں بوسہ ، یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے
جھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ ، گرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مل رہا تھا ، وہ گرد قرباں ہو رہے تھے
ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں ، کہ ساری قندیلیں جھلملائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے ، چراغ منہ اپنا دیکھتے تھے
یہی سمان تھا کہ پیکِ رحمت ، خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو ، کلیم پر بند راستے تھے
بڑھ اے محمد قریں ہو احمد ، قریب آ سرورِ ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی ، یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے
تبارک اﷲ شان تیری ، تجھی کا زیبا یہ بے نیازی
کہیں تو وہ جو شِ لَنْ تَرَانِیْ ، کہیں تقاضے وصال کے تھے
خرد سے کہہ دو سر جھکا لے ، گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے ، کسے بتائے کدھر گئے تھے
سراغِ این و متیٰ کہاں تھا ، نشانِ کیف و اِلیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی ، نہ سنگ منزل نہ مرحلے تھے
اُدھر سے پیہم تقاضے آنا ، اِدھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا ، جمال و رحمت اُبھارتے تھے
بڑھے تو لیکن جھجکتے ڈرتے ، حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قرب انہیں کی روش پہ رکھتے ، تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے
پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا ، حقیقتہً فعل تھا اُدھر کا
تنزلوں میں ترقہ افزا ، دنیٰ تدلّی کے سلسلے تھے
ہوا یہ آخر کہ اک بجرا ، تموج بحرِ ہو میں اُبھرا
دنیٰ کی گودی میں ان کو لے کر ، فنا کے لنگر اُٹھا دئیے تھے
کسے ملے گھاٹ کا کنارا ، کدھر سے گزرا کہاں اُتارا
بھرا جو مثل نظر طرار ، وہ اپنی آنکھوں میں چھپے تھے
اُٹھے جو قصرِ دنیٰ کے پردے ، کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کہ ، نہ کہہ کہ وہ ہی نہ تھے ارے تھے
وہ باغ ایسا رنگ لایا ، کہ غنچہ و گل کا فرق اُٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولے ، گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے
محیط و مرکز میں فرق مشکل ، رہے نہ فاصل خطوطِ واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے ، عجیب چکر میں دائرے تھے
حجاب اُتھنے میں لاکھوں پردے ، ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت ، جنم کے بچھرے گلے ملے تھے
زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں ، تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا ، کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھے
وہی ہے اوّل وہی ہے آخر ، وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے ، اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے
کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو ، تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو ، کدھر سے آئے کدھر گئے تھے
ادھر سے تھیں نذر شہ نمازیں ، ادھر سے انعامِ خسروی تھا
سلام و رحمت کی ہار گندھ کر ، گلوئے پر نور میں پڑے تھے
زبان کو انتظارِ گفتن ، تو گوش کو حسرتِ شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا ، جو بات سننی تھی سن چکے تھے
وہ برج بطحا کا ماہ پارا ، بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارا ، کہ اس قمر کے قدم گئے تھے
سرورِ مقدم کی روشنی تھی ، کہ تابشوں سے مہ عرب کی
جناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی ، جو پھول تھے سب کنول بنے تھے
طرب کی نازش کے ہاں لچکئے ، ادب وہ بندش کہ ہل نہ سکیے
یہ جوشِ ضدین تھا کہ پودے ، کشاکش ارّہ کے تلے تھے
خدا کی قدرت کہ چاند حق کے ، کروڑوں منزل میں جلوہ کر کے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی ، کہ نور کے تڑکے آ لےے تھے
نبی رحمت شفیع اُمت ، رضاؔ پہ ﷲ ہو عنایت
اِسے بھی اُن خلعتوں سے حصہ ، جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے
ثنائے سرکار ہے وظیفہ ، قبولِ سرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوّس نہ پروا ، ردیف کیا قافیے کیا تھے
Qaddri Razavi
غم ہو گئے بےشمار آقا غم ہو گئے بےشمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا
بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقا
منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا
ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری
اﷲ یہ بوجھ اتار آقا
ہلکا ہے اگر ہمارا پلہ
بھاری ہے تیرا وقار آقا
مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کو تو ہے اختیار آقا
میں دور ہوں تم تو ہو میرے پاس
سن لو میری پکار آقا
مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہو گا
تم سا نہیں غمگسار آقا
گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی
ڈوبا ، ڈوبا اُتار آقا
تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقا
پھر کبھی منہ نہ پڑے خزاں کا
دے دے ایسی بہار آقا
جس کی مرضی خدا نہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقا
ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ
میرا ہے وہ کامگار آقا
سویا کئے نابکار بندے
رویا کئے زار زار آقا
کیا بھول ہے انکے ہوتے کہلائیں
دنیا کے تاجدار آقا
اُن کے ادنیٰ گدا پہ مٹ جائیں
ایسے ایسے ہزار آقا
بے ابر کرم کے میرے دھبے
لَا تَغْلسِلُھَا الْبِحَار آقا
اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو
لَا یَقْرُبُہُ الْبَوَار آقا
قادری رضوی
الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا
بادلوں سے کہاں رکتی ہے کڑکتی بجلی
ڈھالیں چھنٹ جاتی ہیں اُٹھتا ہے جو تیغا تیرا
عکس کا دیکھ کے منہ اور بپھر جاتا ہے
چار آئینہ کے بل کا نہیں نیزا تیرا
کوہ سر مکھ ہو تو اک وار میں دو پر کالے
ہاتھ پڑتا ہی نہیں بھول کے اوچھا تیرا
اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالف تیرے
چاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تیرا ذکر ہے اونچا تیرا
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے گا
جب بڑھائے تجھے اﷲ تعالیٰ تیرا
سم قاتل ہے خدا کی قسم ان کا انکار
منکر فضل حضور آہ یہ لکھا تیرا
میرے سیاف کے خنجر سے تجھے باک نہیں
چیر کے دیکھے کوئی آہ کلیجہ تیرا
ابنِ زہرا سے تیرے دل میں ہیں زہر بھرے
بل بے او منکر بے باک یہ زہرا تیرا
باز اشہب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
دیکھ اُڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا
شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے
کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجرا تیرا
حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
ارے میں خوب سمجھتا ہوں معمہ تیرا
سگِ در قہر سے دیکھے تو بکھرتا ہے ابھی
بند بند بدن اے روبہ دنیا تیرا
غرض آقا سے کروں عرض کہ تیری ہے پناہ
بندہ مجبور ہے خاطر پہ ہے قبضہ تیرا
حکم نافز ہے تیرا خامہ تیرا سیف تیری
دم میں جو چاہے کرے دور ہے شاہا تیرا
جس کو للکار دے آتا ہو تو الٹا پھر جائے
جس کو چمکار لے ہر پھر کے وہ تیرا تیرا
کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دیں ایسی کر
کہ یہ سینہ ہو محبت کا خزینہ تیرا
دل پہ کندہ ہو تیرا نام کہ وہ زرہ رجیم
الٹے ہی پاؤں پھرے دیکھ کے طغرا تیرا
نزع میں ، گور میں ، میزاں پہ ، سر پل پہ کہیں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامن معلیٰ تیرا
دھوپ محشر کی وہ جان سوز قیامت ہے مگر
مطمئن ہو کہ میرے سر پہ ہے پلا تیرا
بہجت اس کی ہے جو بہجۃالاسرار میں ہے
کہ فلک وار مریدوں پہ سایا تیرا
اے رضاؔ چیست غم از جہاں دشمن تست
کردہ امام مامن خود قبلہ حاجاتے را
 
قادری رضوی
واہ کیا جودو کرم ہے شہِ بطحا تیرا واہ کیا جودو کرم ہے شہِ بطحا تیرا
''نہیں'' سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا
فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسّس میں ہے دریا تیرا
اغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرا
اصفیاء چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستہ تیرا
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسروا عرش پہ اُڑتا ہے پھریرا تیرا
آسماں خوان ، زمیں خوان ، زمانہ مہمان
صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے ؟ تیرا تیرا
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلواء تیرا
بحر سائل کا ہوں سائل نہ کنویں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجا میرا چھینٹا تیرا
چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اس کے خلاف
تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا
آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں زبانیں سیراب
سچے سورج وہ دل آرا ہے اُجالا تیرا
دل عبث خوف سے پتا سا اُڑا جاتا ہے
پلہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا
ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی
اب عمل پوچھتے ہیں ہائے نکما تیرا
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
چھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
خوار و بیمار خطا وار گنہگار ہوں میں
رافع و نافع و شافع لقب آقا تیرا
میری تقدیر بُری ہو تو بھلی کر دے کہ ہے
محو اثبات کے دفتر پہ کڑوڑا تیرا
تو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
کس کا منہ تکیے کہاں جائیے کس سے کہیے
تیرے ہی قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا
تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا
موت سنتا ہوں ستم تلخ ہے زیرابہئ ناب
کون لا دے مجھے تلوؤں کا غسالہ تیرا
دور کیا جانیے بدکار پہ کیسی گزری
تیرے ہی در پہ مرے بیکس و تنہا تیرا
تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام جھلکتا تیرا
حرم طیبہ و بغداد جدھر کیجئے نگاہ
جوت پڑتی ہے تیری نور ہے چھنتا تیرا
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو میرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا
قادری رضوی