Poetries by Raja Ghias(Abad)
عنوان باب عشق اب عنوان چاہتا ہے
اگتا گیا وحشی ویرانے سے اب مکان چاہتاہے
اک قیامت گذری پہر بھی خاموش رہے
دل اب رونا چاہتا ہے درد اب ذبان چاہتا ہے
تھک گیا دے دے کے پانی بنجر ذمین کو
کچھ تو ملے صلہ یہی اب کسان چاہتاہے
اک حد ھوتی ہے صبر کی بھی غیاث
جانے کیا ضد ہے اسکو جانے کیا اب آسمان چاہتا ہے raja ghias abad
اگتا گیا وحشی ویرانے سے اب مکان چاہتاہے
اک قیامت گذری پہر بھی خاموش رہے
دل اب رونا چاہتا ہے درد اب ذبان چاہتا ہے
تھک گیا دے دے کے پانی بنجر ذمین کو
کچھ تو ملے صلہ یہی اب کسان چاہتاہے
اک حد ھوتی ہے صبر کی بھی غیاث
جانے کیا ضد ہے اسکو جانے کیا اب آسمان چاہتا ہے raja ghias abad
یاد ٹوٹےکوئی ستارہ تو تو یاد آتا ہے
ٹپکے کوئی آنسو بیچارہ تو تو یاد آتا ہے
تیرا جمال تیرا خیال تیری یاد ہے سرمایہ حیات
درد سے ہو نہ جب چھٹکارہ تو تو یاد آتا ہے
کیا دن تھے وہ بھی جب تجھے دیکھ دیکھ جیتے تھے
کوئی کسی کو لگے جب پیارا تو تو یاد آتا ہے
تیری ہنسی تھی موسم بہار ناراضگی پہ فضاہیں بھی سوگوار
موسم بدلے کوہی نظارہ تو تویاد آتا ہے
ایسی ھی اک سیاہ رات تھی جب تو چھوڑ گیا تھ
آتا ہے جب بھی یہ وقت دوبارہ تو تو یاد آتا ہے
سر جھکاھے روز گزر جاتا ھوں اس گلی سے ابد
ہوتا ہے جب کہہیں اشارہ تو تو یاد آتا ہے raja ghias abad
ٹپکے کوئی آنسو بیچارہ تو تو یاد آتا ہے
تیرا جمال تیرا خیال تیری یاد ہے سرمایہ حیات
درد سے ہو نہ جب چھٹکارہ تو تو یاد آتا ہے
کیا دن تھے وہ بھی جب تجھے دیکھ دیکھ جیتے تھے
کوئی کسی کو لگے جب پیارا تو تو یاد آتا ہے
تیری ہنسی تھی موسم بہار ناراضگی پہ فضاہیں بھی سوگوار
موسم بدلے کوہی نظارہ تو تویاد آتا ہے
ایسی ھی اک سیاہ رات تھی جب تو چھوڑ گیا تھ
آتا ہے جب بھی یہ وقت دوبارہ تو تو یاد آتا ہے
سر جھکاھے روز گزر جاتا ھوں اس گلی سے ابد
ہوتا ہے جب کہہیں اشارہ تو تو یاد آتا ہے raja ghias abad
دل کو کبھی سمجھا نہیں پاتی کبھی دروازہ ھوں دیکھتی کبھی چھت پھ ھوں جاتی
میں بھی کیا پاگل ھوں کہیں چین نہیں پاتی
جانتی ھوں ھوا نے ہلا یا ھے آج پھر دروازہ
مگر کیا کروں تیرے آنے کی آس نہیں جاتی
تیرا انتظار کانٹے چبھوتا ہے اب تن بدن میں
کوئی بھی سانس درد سے خالی نہیں جاتی
جب سے تیرے نام لگی ہوں گاؤں کے رستے تکنے لگی ہوں
شب وصل ہے کہ نہیں آتی جان ہے کہ مگر نہیں جاتی
لوگ بھی کہتے ہیں حالات بھی بتاتے ہیں کہ تو ہرجائی ہے
مگر تجھ سے دل کا رشتہ ہے میں دل کو کبھی سمجھا نہیں پاتی
دم نکلنے سے پہلے وہ آ جائے تو اچھا ہے عافرہ
کہ مٹی کی ڈھیری کبھی لذت ملاقات نہیں پاتی raja ghias...abad
میں بھی کیا پاگل ھوں کہیں چین نہیں پاتی
جانتی ھوں ھوا نے ہلا یا ھے آج پھر دروازہ
مگر کیا کروں تیرے آنے کی آس نہیں جاتی
تیرا انتظار کانٹے چبھوتا ہے اب تن بدن میں
کوئی بھی سانس درد سے خالی نہیں جاتی
جب سے تیرے نام لگی ہوں گاؤں کے رستے تکنے لگی ہوں
شب وصل ہے کہ نہیں آتی جان ہے کہ مگر نہیں جاتی
لوگ بھی کہتے ہیں حالات بھی بتاتے ہیں کہ تو ہرجائی ہے
مگر تجھ سے دل کا رشتہ ہے میں دل کو کبھی سمجھا نہیں پاتی
دم نکلنے سے پہلے وہ آ جائے تو اچھا ہے عافرہ
کہ مٹی کی ڈھیری کبھی لذت ملاقات نہیں پاتی raja ghias...abad
Ye Ham Sab Ka Pakistan Mea Jab Bhee Ye Halat Dekhta Hoon
Zindgi Ko Bohat Preshan Dekhta Hoon
Tum Ehely E Irfan Ho Muslman Ho
Khun Tumharey Hathoon Mea Khanjer Tez Dhar Dekhta Hoon,
Ye Jo Chentey Hea Begnahuon Key Lahoo Key
Tumharey Daman Pay In Key Nishan Dekhta Hoon
Meri Masjid Mery Bazar Jala Kar Jo Khush Ho Tum Aaj
Is Agg Mea Jalta Kal Tumhara Bhee Ghar Bar Dekhta Hoon
Har Ghar Mea Matam Har Gali Mea Agg
Kitna Udas Ajj Mea Apna Pakistan Dekhta Hoon Raja Ghias(Abad)
Zindgi Ko Bohat Preshan Dekhta Hoon
Tum Ehely E Irfan Ho Muslman Ho
Khun Tumharey Hathoon Mea Khanjer Tez Dhar Dekhta Hoon,
Ye Jo Chentey Hea Begnahuon Key Lahoo Key
Tumharey Daman Pay In Key Nishan Dekhta Hoon
Meri Masjid Mery Bazar Jala Kar Jo Khush Ho Tum Aaj
Is Agg Mea Jalta Kal Tumhara Bhee Ghar Bar Dekhta Hoon
Har Ghar Mea Matam Har Gali Mea Agg
Kitna Udas Ajj Mea Apna Pakistan Dekhta Hoon Raja Ghias(Abad)