Poetries by Nadia Umber Lodhi
امید تم ٹھہرو ذرا
میں آتی ہوں
سورج سے نُور کی کر نیں لے کر
کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لےکر
کسی خُو شبو بھرے جنگل سے
تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں
تم ٹھہرو
میں آتی ہوں
شام کے ڈھلتے منظر نامے میں
چند جنگو پکڑنے
میں تو ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں
رات آۓ تو مت ڈرنا
ستاروں سے رستے پوچھ کر
تم کو بتاتی ہوں
خواب بھری ان آنکھوں کے واسطے
نیند بھی لاتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں Nadia umber lodhi
میں آتی ہوں
سورج سے نُور کی کر نیں لے کر
کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لےکر
کسی خُو شبو بھرے جنگل سے
تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں
تم ٹھہرو
میں آتی ہوں
شام کے ڈھلتے منظر نامے میں
چند جنگو پکڑنے
میں تو ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں
رات آۓ تو مت ڈرنا
ستاروں سے رستے پوچھ کر
تم کو بتاتی ہوں
خواب بھری ان آنکھوں کے واسطے
نیند بھی لاتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں Nadia umber lodhi
"Love of a Poetess" You are love of a poetess my beloved
Reflects from my words ever
Forget you never
My passion increase ever
My love decrease never
You are love of a poetess my beloved
You are the Magic of a words magician
You are the business of a pain earner
I shall write departureloneliness and tears
I shall describe fears
And earn income.
You are love of a poetess my beloved
I shall sell dreamsearn profit
How can I gain loss
No Never my dear
I sold my heart my dear One and Only wealth I have .
Nadia Umber Lodhi
Reflects from my words ever
Forget you never
My passion increase ever
My love decrease never
You are love of a poetess my beloved
You are the Magic of a words magician
You are the business of a pain earner
I shall write departureloneliness and tears
I shall describe fears
And earn income.
You are love of a poetess my beloved
I shall sell dreamsearn profit
How can I gain loss
No Never my dear
I sold my heart my dear One and Only wealth I have .
Nadia Umber Lodhi
خون کا اثر سب فرضی باتیں ہیں
قصے ہیں کہانیاں ہیں
خون کا اثر تربیت سے زیادہ ہوتا ہے
یہ طے شدہ نتیجہ ہے
تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے
تربیت مات نہیں دے سکتی فطرت کو
شفقت نہیں بدل سکتی خون کے اثر کو
نیک نیتی سے کی گئی نیکیاں
کبھی کبھی آزمائش بن جایا کرتی ہیں
خود کو مسلماں کہتے ہو
تو راضی برضا کیوں نہیں ہوتے
قرآن پڑ ھتے ہو
پھر رب کے فیصلے سے ٹکراتے ہو
جو فرض تم کو سونپا نہیں گیا چنا نہیں گیا
کیوں اس کا بار اٹھاتے ہو
اپنی ناقص عقل عقل کُل سے صلیب مقدر سے ٹکراتے ہو
حلال ، حرام برابر نہیں ہو سکتے
لے پالک بچے تمہاری ولدیت کے ساجھی نہیں بن سکتے
انہیں یتیم خانوں میں رہنے دو
مت توڑا ان کے ننھے دل
ان کے کمزور وجود کھلونا نہیں
یہ انسان ہیں
انسان کے گناہ کا حصہ نہیں
یہ خود گناہ گار نہیں ہیں
ناجائز بچے معاشرہ جائز نہیں کرتا
ان کو ان کی دنیا میں رہنے دو
بے خبری کی رو میں بہنے دو Nadia Umber Lodhi
قصے ہیں کہانیاں ہیں
خون کا اثر تربیت سے زیادہ ہوتا ہے
یہ طے شدہ نتیجہ ہے
تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے
تربیت مات نہیں دے سکتی فطرت کو
شفقت نہیں بدل سکتی خون کے اثر کو
نیک نیتی سے کی گئی نیکیاں
کبھی کبھی آزمائش بن جایا کرتی ہیں
خود کو مسلماں کہتے ہو
تو راضی برضا کیوں نہیں ہوتے
قرآن پڑ ھتے ہو
پھر رب کے فیصلے سے ٹکراتے ہو
جو فرض تم کو سونپا نہیں گیا چنا نہیں گیا
کیوں اس کا بار اٹھاتے ہو
اپنی ناقص عقل عقل کُل سے صلیب مقدر سے ٹکراتے ہو
حلال ، حرام برابر نہیں ہو سکتے
لے پالک بچے تمہاری ولدیت کے ساجھی نہیں بن سکتے
انہیں یتیم خانوں میں رہنے دو
مت توڑا ان کے ننھے دل
ان کے کمزور وجود کھلونا نہیں
یہ انسان ہیں
انسان کے گناہ کا حصہ نہیں
یہ خود گناہ گار نہیں ہیں
ناجائز بچے معاشرہ جائز نہیں کرتا
ان کو ان کی دنیا میں رہنے دو
بے خبری کی رو میں بہنے دو Nadia Umber Lodhi
اک خواب آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے
قصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہے
ہا ں ! اس دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا ہے
حسن اور عشق دعا سے پایا جا سکتا ہے
جو مجھ میں ہو زلیخا تجھ میں یوسف کوئی
عمروں کا سرمایہ لایا جا سکتا ہے
اسُ کو کہنا مری آنکھوں کے کا سے میں
دید کا اک سکہ تو دکھایا جا سکتا ہے
ناداں اتنا مت سمجھو تم دل کو عنبر
کب یاد وں سے اسے بہلایا جا سکتا ہے Nadia umber Lodhi
قصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہے
ہا ں ! اس دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا ہے
حسن اور عشق دعا سے پایا جا سکتا ہے
جو مجھ میں ہو زلیخا تجھ میں یوسف کوئی
عمروں کا سرمایہ لایا جا سکتا ہے
اسُ کو کہنا مری آنکھوں کے کا سے میں
دید کا اک سکہ تو دکھایا جا سکتا ہے
ناداں اتنا مت سمجھو تم دل کو عنبر
کب یاد وں سے اسے بہلایا جا سکتا ہے Nadia umber Lodhi
سیم وزر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں سیم وزر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں
کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میں
مکتبِ عشق سے وابستہ ہوں کافی ہے مجھے
داد ِ غالب ، سند ِ میر نہیں چاہتی میں
فیض یابی تری صحبت ہی سےملتی ہےمجھے
کب ترے عشق کی تاثیر نہیں چاہتی میں
قید اب وصل کے زنداں میں تو کر لے مجھ کو
یہ ترے ہجر کی زنجیر نہیں چاہتی میں
اب تو سپنے میں وہ شخص آتا نہیں ہے عنبر
اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتی میں Nadia umber Lodhi
کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میں
مکتبِ عشق سے وابستہ ہوں کافی ہے مجھے
داد ِ غالب ، سند ِ میر نہیں چاہتی میں
فیض یابی تری صحبت ہی سےملتی ہےمجھے
کب ترے عشق کی تاثیر نہیں چاہتی میں
قید اب وصل کے زنداں میں تو کر لے مجھ کو
یہ ترے ہجر کی زنجیر نہیں چاہتی میں
اب تو سپنے میں وہ شخص آتا نہیں ہے عنبر
اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتی میں Nadia umber Lodhi
موت لمحہ لمحہ بڑھتی موت
قدم قدم پیچھے ہٹتی زندگی
فرشتوں کے پروں کی پھڑ پھڑ اہٹ فضا میں بڑھتی جارہی ہے
سفید نورانی ہیولے پھیلا رہے ہیں پر
فلک پر ایک نقرئی غبار بڑ ھتا جا رہا ہے
چڑیوں کی حمد کے ساتھ
گونج رہی ہے آواز بھی لا الہ کی
سوکھے لبوں سے لفظ نکلے مدہم مدہم سے
اور لا الہ الا للّٰہ کے ساتھ مل گئے
جان قدموں سے نکلی
جان ِ آفرین کے سپرد کر دی
زندہ پروں کی بست وکشود آسمانوں کی طرف گئی
رہی ہوں تنہا اب نا رہوں گی تنہا
جاگی ہوں تنہا اب نا سوؤنگی تنہا
میں نے تو تنہائی میں تیرا ہی ہاتھ تھاما تھا کردگارا
تجھ سے ناتا جوڑا تھا پروردگارا
ساتھ تُو تھا اور مرے لفظ تھے
بنتے ،مٹتے ،ابھرتے، چمکتے ،دمکتے لفظ
لفظ تو ساتھ نبھاتے ہیں
لفظ بے وفا نہیں ہوتے
لفظ ساتھ رہتے ہیں
لفظ جدا نہیں ہوتے
تربت پہ مری لائیں گے
اسیران ِ لوح و قلم کو Nadia umber Lodhi
قدم قدم پیچھے ہٹتی زندگی
فرشتوں کے پروں کی پھڑ پھڑ اہٹ فضا میں بڑھتی جارہی ہے
سفید نورانی ہیولے پھیلا رہے ہیں پر
فلک پر ایک نقرئی غبار بڑ ھتا جا رہا ہے
چڑیوں کی حمد کے ساتھ
گونج رہی ہے آواز بھی لا الہ کی
سوکھے لبوں سے لفظ نکلے مدہم مدہم سے
اور لا الہ الا للّٰہ کے ساتھ مل گئے
جان قدموں سے نکلی
جان ِ آفرین کے سپرد کر دی
زندہ پروں کی بست وکشود آسمانوں کی طرف گئی
رہی ہوں تنہا اب نا رہوں گی تنہا
جاگی ہوں تنہا اب نا سوؤنگی تنہا
میں نے تو تنہائی میں تیرا ہی ہاتھ تھاما تھا کردگارا
تجھ سے ناتا جوڑا تھا پروردگارا
ساتھ تُو تھا اور مرے لفظ تھے
بنتے ،مٹتے ،ابھرتے، چمکتے ،دمکتے لفظ
لفظ تو ساتھ نبھاتے ہیں
لفظ بے وفا نہیں ہوتے
لفظ ساتھ رہتے ہیں
لفظ جدا نہیں ہوتے
تربت پہ مری لائیں گے
اسیران ِ لوح و قلم کو Nadia umber Lodhi
امید تم ٹھہرو ذرا
میں آتی ہوں
سورج سے نُور کی کر نیں لے کر
کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لےکر
کسی خُو شبو بھرے جنگل سے
تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں
تم ٹھہرو
میں آتی ہوں
شام کے ڈھلتے منظر نامے میں
چند جنگو پکڑنے
میں تو ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں
رات آۓ تو مت ڈرنا
ستاروں سے رستے پوچھ کر
تم کو بتاتی ہوں
خواب بھری ان آنکھوں کے واسطے
نیند بھی لاتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں Nadia umber Lodhi
میں آتی ہوں
سورج سے نُور کی کر نیں لے کر
کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لےکر
کسی خُو شبو بھرے جنگل سے
تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں
تم ٹھہرو
میں آتی ہوں
شام کے ڈھلتے منظر نامے میں
چند جنگو پکڑنے
میں تو ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں
رات آۓ تو مت ڈرنا
ستاروں سے رستے پوچھ کر
تم کو بتاتی ہوں
خواب بھری ان آنکھوں کے واسطے
نیند بھی لاتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں Nadia umber Lodhi
باندیاں مرے مالک کیا ہم باندیاں ہیں
میرے مالک
کیا ہم باندیاں ہیں
جو آگ میں جلا کر مار دی جائیں
ہم وہ جوانیاں ہیں
محبت کے نام پر جو مسل دی جائیں
ہم وہ کلیاں ہیں
ہوس کا نشانہ بنا کر
جن کے پر نوچ لئے جائیں
ہم وہ تتلیاں ہیں
جو مصلحت کے نام پر
قربان کر دی جائیں ہم وہ بیٹیاں ہیں
جو شرعی جائیداد سے محروم کر دی جائیں ہم وہ بہنیں ہیں
میرے مالک
کیوں ہم باندیاں ہیں Nadia Umber Lodhi
میرے مالک
کیا ہم باندیاں ہیں
جو آگ میں جلا کر مار دی جائیں
ہم وہ جوانیاں ہیں
محبت کے نام پر جو مسل دی جائیں
ہم وہ کلیاں ہیں
ہوس کا نشانہ بنا کر
جن کے پر نوچ لئے جائیں
ہم وہ تتلیاں ہیں
جو مصلحت کے نام پر
قربان کر دی جائیں ہم وہ بیٹیاں ہیں
جو شرعی جائیداد سے محروم کر دی جائیں ہم وہ بہنیں ہیں
میرے مالک
کیوں ہم باندیاں ہیں Nadia Umber Lodhi
عورت تم مری آواز دبا نہیں سکتے
مرے لکھے ہوۓ الفاظ مٹا نہیں سکتے
نہیں رکھ سکتے مجھے پابند سلاسل
تم مری آواز دبا نہیں سکوگے
ناخنِ شوق سے روزانہ کرید ونگی
میں ایک نئی دیوار
طاقتٰ پرواز سے مسخر کرونگی
نئے جہان
پر کاٹ کر مرے
پنجرے میں مقید نہیں کر سکتے تم
خواب نوچ کر مری آنکھیں تسخیر نہیں کر سکتے تم
عورت ہوں میں
صاحب ِعقل وفہم ہوں
بہتا ہوا پانی ہوں
ہر صدی کی میں ہی کہانی ہوں Nadia Umber Lodhi
مرے لکھے ہوۓ الفاظ مٹا نہیں سکتے
نہیں رکھ سکتے مجھے پابند سلاسل
تم مری آواز دبا نہیں سکوگے
ناخنِ شوق سے روزانہ کرید ونگی
میں ایک نئی دیوار
طاقتٰ پرواز سے مسخر کرونگی
نئے جہان
پر کاٹ کر مرے
پنجرے میں مقید نہیں کر سکتے تم
خواب نوچ کر مری آنکھیں تسخیر نہیں کر سکتے تم
عورت ہوں میں
صاحب ِعقل وفہم ہوں
بہتا ہوا پانی ہوں
ہر صدی کی میں ہی کہانی ہوں Nadia Umber Lodhi
فردوس ِ اعلی کیا خوب ہے تیری سجائی ہوئی جنت مرے مولا
تیری جنت میں
مرے مولا
مرَدوں کے لیے تو حُوریں ہیں
اور عورتوں کے واسطے ہیں مجازی خُدا
ہم عورتیں
دھتکاری ہوئی
پَیروں کی جُوتیاں
وہ جنت کہاں کی ہے فردوسِ اعلی
جہاں مرَدوں کی ہوں محکوم عورتیں
جہاں آدم کو عشق ِ حوا کے جرم میں نوازا جاۓ
حوا کےمساوی حقوق کو نا مانا جاۓ
ایسی فردوس ِبریں کے اشتیاق میں
ان مرَدوں کو ہی بے قرار رہنے دو Nadia Umber Lodhi
تیری جنت میں
مرے مولا
مرَدوں کے لیے تو حُوریں ہیں
اور عورتوں کے واسطے ہیں مجازی خُدا
ہم عورتیں
دھتکاری ہوئی
پَیروں کی جُوتیاں
وہ جنت کہاں کی ہے فردوسِ اعلی
جہاں مرَدوں کی ہوں محکوم عورتیں
جہاں آدم کو عشق ِ حوا کے جرم میں نوازا جاۓ
حوا کےمساوی حقوق کو نا مانا جاۓ
ایسی فردوس ِبریں کے اشتیاق میں
ان مرَدوں کو ہی بے قرار رہنے دو Nadia Umber Lodhi