Poetries by Zeeshan
سچی محبت کی کسے حسرت نہیں ہوتی سچی محبت کی کسے حسرت نہیں ہوتی
مگر ہر اک کی ایسی قسمت نہیں ہوتی
کوئی ایک ہوتا ھےجو سماں جاتا ھے دل مہیں
ہر کسی سے تو یونہی محبت نہیں ہوتی
پیار خریدنا ھے آگر تو پیار سے خریدو
یہ جزبہ ھے آنمول اسکی قیمت نہیں ہوتی
اس کی ٹھوکر میں رہتے ھیں تخت و تاج ہمیشہ
بازار میں کسی کو دیکھنے سے راحت نہیں ہوتی
دل توڑتے ھیں جو کسی کا دنیا میں زیشان
سنا ھے ان کی عبادت بھی کبھی قبول نہی ہوتی
zeeshan
مگر ہر اک کی ایسی قسمت نہیں ہوتی
کوئی ایک ہوتا ھےجو سماں جاتا ھے دل مہیں
ہر کسی سے تو یونہی محبت نہیں ہوتی
پیار خریدنا ھے آگر تو پیار سے خریدو
یہ جزبہ ھے آنمول اسکی قیمت نہیں ہوتی
اس کی ٹھوکر میں رہتے ھیں تخت و تاج ہمیشہ
بازار میں کسی کو دیکھنے سے راحت نہیں ہوتی
دل توڑتے ھیں جو کسی کا دنیا میں زیشان
سنا ھے ان کی عبادت بھی کبھی قبول نہی ہوتی
zeeshan
رحمت کی برسات ماں حصہ نمبر- ١ جب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا
یہ جہاں تیری سوچوںسے بھی دور تھا
ہاتھ پاؤں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیاں کے سپننے نہ تھے
تجھ کو آتا جو صرف رونا ہی تھا
دودھ پی کے تیراا کام سونا ہی تھا
تجھ کو چلنا سیکھایا تتھا ما نے تیری
تجھ کو دل میں بسیا تھاا ماں نے تیری
ما کے سائے میں پپروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا
دھیرے دھیرے تو کڑیل جوان ہو گیا
تجھ پہہ سارا جہاں مہرباں ہو گیا
زور بازو پہ تو بات کرنے لگا
خود ہی سجنے لگا خود ہی سورنے لگا
ایک دن اک حسینہ تجھے بھا گئ
بن کے دلہن وہ پھر تیرے گھر آگئ
فرض اپنے سے تو دور ہونے لگا
بیج نفرت کا خود ہی بونے لگا
پھر تو مں باپ کو بھلانے لگا
تیر باتوں کے پھر تو چلانے لگا
بات بے بات ان سے تو لڑنے لگا
قاعدہ اک نیا پھر سے تو پڑھنے گا
ید کر ماں نے تجھ سے کہا تھا ایک دن
اب ہمارا گزارہ نہیں تیرے بن zeeshan
یہ جہاں تیری سوچوںسے بھی دور تھا
ہاتھ پاؤں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیاں کے سپننے نہ تھے
تجھ کو آتا جو صرف رونا ہی تھا
دودھ پی کے تیراا کام سونا ہی تھا
تجھ کو چلنا سیکھایا تتھا ما نے تیری
تجھ کو دل میں بسیا تھاا ماں نے تیری
ما کے سائے میں پپروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا
دھیرے دھیرے تو کڑیل جوان ہو گیا
تجھ پہہ سارا جہاں مہرباں ہو گیا
زور بازو پہ تو بات کرنے لگا
خود ہی سجنے لگا خود ہی سورنے لگا
ایک دن اک حسینہ تجھے بھا گئ
بن کے دلہن وہ پھر تیرے گھر آگئ
فرض اپنے سے تو دور ہونے لگا
بیج نفرت کا خود ہی بونے لگا
پھر تو مں باپ کو بھلانے لگا
تیر باتوں کے پھر تو چلانے لگا
بات بے بات ان سے تو لڑنے لگا
قاعدہ اک نیا پھر سے تو پڑھنے گا
ید کر ماں نے تجھ سے کہا تھا ایک دن
اب ہمارا گزارہ نہیں تیرے بن zeeshan
کمزور دل شخص محبت سے عنایت سے وفا سے چوٹ لگتی ہے
بکھرتا پھول ہو مجھ کو ہوا سے چوٹ لگتی ہے
میری آنکھوں میں آنسو کی طرح اک رات آ جاؤ
تکلف سے بناوٹ سے ادا سے چوٹ لگتی ہے
میں شبنم کی زباں سے پھول کی آواز سنتا ہوں
عجب احساس ہے اپنی صدا سے چوٹ لگتی ہے
تجھے خود اپنی مجبوری کا اندازہ نہیں شاید
نہ کر عہد وفا عہد وفا سے چوٹ لگتی ہے
Zeeshan
بکھرتا پھول ہو مجھ کو ہوا سے چوٹ لگتی ہے
میری آنکھوں میں آنسو کی طرح اک رات آ جاؤ
تکلف سے بناوٹ سے ادا سے چوٹ لگتی ہے
میں شبنم کی زباں سے پھول کی آواز سنتا ہوں
عجب احساس ہے اپنی صدا سے چوٹ لگتی ہے
تجھے خود اپنی مجبوری کا اندازہ نہیں شاید
نہ کر عہد وفا عہد وفا سے چوٹ لگتی ہے
Zeeshan
بزرگوں کی دعا دل بے آسرا ہے اور میں ہوں
یہ قسمت کا لکھا ہے اور میں ہوں
نتیجہ کیا ہو جانے دل لگی کا
ابھی تو ابتدا ہے اور میں ہوں
گناہ بے گناہی کا ہوں مجرم
ندامت برملا ہے اور میں ہوں
دیا تھا دل انہیں اپنا سمجھ کر
یہی میری خطا ہے اور میں ہوں
لکھا ہے جو بھی قسام ازل نے
اسی کا سامنا ہے اور میں ہوں
نہیں جینے کی خواہش پھر بھی شان
بزرگوں کی دعا ہے اور میں ہوں Zeeshan
یہ قسمت کا لکھا ہے اور میں ہوں
نتیجہ کیا ہو جانے دل لگی کا
ابھی تو ابتدا ہے اور میں ہوں
گناہ بے گناہی کا ہوں مجرم
ندامت برملا ہے اور میں ہوں
دیا تھا دل انہیں اپنا سمجھ کر
یہی میری خطا ہے اور میں ہوں
لکھا ہے جو بھی قسام ازل نے
اسی کا سامنا ہے اور میں ہوں
نہیں جینے کی خواہش پھر بھی شان
بزرگوں کی دعا ہے اور میں ہوں Zeeshan
شوخی کڑی اک کڑی ویکھی میں شادرے موڑ تے
ہندا جاوا میں شیدائی اوہدی سونی ٹور تے
بلا اتے سرخی تے سدا تیر سی
حسناہ دی ملکہ تے چال آخیر سی
کردی سی وار ساڈا دل مڑوڑ کے
اک کڑی ویکھی میں شادرے موڑ تے
لک پتلا تے کناہ وچ پاے چمکے
لگی جاندی مرجانی لاے ٹھمکے
بگلے دے ونگ نمہ نمہ پیر پٹ دی
حان دیاہ کڑیاں نو پڑا سٹ دی
خبر اے چلی سی ونڈالہ روڑ تے
اک کڑی ویکھی میں شادڑے موڑ تے Zeeshan
ہندا جاوا میں شیدائی اوہدی سونی ٹور تے
بلا اتے سرخی تے سدا تیر سی
حسناہ دی ملکہ تے چال آخیر سی
کردی سی وار ساڈا دل مڑوڑ کے
اک کڑی ویکھی میں شادرے موڑ تے
لک پتلا تے کناہ وچ پاے چمکے
لگی جاندی مرجانی لاے ٹھمکے
بگلے دے ونگ نمہ نمہ پیر پٹ دی
حان دیاہ کڑیاں نو پڑا سٹ دی
خبر اے چلی سی ونڈالہ روڑ تے
اک کڑی ویکھی میں شادڑے موڑ تے Zeeshan