Poetries by Dr Masood Mehmood Khan
ہندوستانی اقلیتوں کی فریاد وہ جوہندوستان تھا اقبال کا اچھا جہاں
حال اس کا دیکھ کر روتے ہیں اب سات آسماں
گلشنِ ہندوستاں کی ہر کلی مر جھائی ہے
شبنمِ اُلفت کہاں ہے بادِ نفرت آئی ہے
دیکھ دستِ گردشِ ایام کی تحریر کو
تنگ دلی پر تنگ ہوتی آہنی زنجیر کو
سن چمن میں بلبلِ بیباک کی
باغیانہ اور بلند آہنگ اس تقریر کو
میرے آبا نے بنائی کشورِ ہندوستاں
خونِ دل دے کر سجائی کشورِ ہندوستاں
ٹکڑے ٹکڑے عصبیت نے کردیا ہندوستاں
نقشِہ عالم سے مٹ جائے نہ اب اس کا نشاں
کہ رہا ہے آج ہندوستان سے سارا جہاں
آشتی اور امن میں ہی خیر سب کی ہے یہاں
کب تلک یہ وسوسے، اندیشہِ سودو زیاں
احترامِ آدمیت کیلئے کھو لیں زباں Dr Masood Mehmood Khan
حال اس کا دیکھ کر روتے ہیں اب سات آسماں
گلشنِ ہندوستاں کی ہر کلی مر جھائی ہے
شبنمِ اُلفت کہاں ہے بادِ نفرت آئی ہے
دیکھ دستِ گردشِ ایام کی تحریر کو
تنگ دلی پر تنگ ہوتی آہنی زنجیر کو
سن چمن میں بلبلِ بیباک کی
باغیانہ اور بلند آہنگ اس تقریر کو
میرے آبا نے بنائی کشورِ ہندوستاں
خونِ دل دے کر سجائی کشورِ ہندوستاں
ٹکڑے ٹکڑے عصبیت نے کردیا ہندوستاں
نقشِہ عالم سے مٹ جائے نہ اب اس کا نشاں
کہ رہا ہے آج ہندوستان سے سارا جہاں
آشتی اور امن میں ہی خیر سب کی ہے یہاں
کب تلک یہ وسوسے، اندیشہِ سودو زیاں
احترامِ آدمیت کیلئے کھو لیں زباں Dr Masood Mehmood Khan
خواب میں اس کو ہمالہ پہ اڑا یا ہوا ہے ۔ یومِ اقبال 9 دسمبر 2019 کی مناسبت سے
بالِ جبریل کو زینت سے سجایاہواہے
اور اقبال کو ہر رنگ میں گایا ہوا ہے
کون کہتاہے کہ اقبال سے ملتا نہیں فیض
بے سروں کوبھی سنانے کو بلایا ہوا ہے
ہم نے اوصاف کی بنیاد پہ رتبے بانٹے
رہبری کرنے کو اندھوں کو لگایا ہوا ہے
یہ جوشاہین کشیدہ ہے مرے تکئے پر
خواب میں اس کو ہمالہ پہ اڑا یا ہوا ہے
ایک شمشیر سجا رکھی ہے گھر میں میں نے
اور ہواؤں میں اسے خوب چلایا ہوا ہے
مردِ مومن کے سے سجدوں کیلئے میں نے حضور
گھر میں اک گوشہ خاموش بنایا ہوا ہے
بنک کی اونچی عمارت کے وہ قیدی ٹہرے
شکوہ ماں نے جنھیں بچپن میں پڑھایا ہوا ہے
بحرِ ظلمات کبھی ڈھونڈ نہ پائے لیکن
اوقیانوس پہ طیارہ اڑایا ہوا ہے
تم نہ سمجھوگے خودی کیا ہے برادر مسعود
تم نے دنیا کو ہی معیار بنایا ہواہے
وہ جو کنجشکِ فرومایہ تھا کمبخت یہاں
کاخِ عالی پہ اسے ہم نے بٹھایا ہوا ہے
Dr Masood Mehmood Khan
بالِ جبریل کو زینت سے سجایاہواہے
اور اقبال کو ہر رنگ میں گایا ہوا ہے
کون کہتاہے کہ اقبال سے ملتا نہیں فیض
بے سروں کوبھی سنانے کو بلایا ہوا ہے
ہم نے اوصاف کی بنیاد پہ رتبے بانٹے
رہبری کرنے کو اندھوں کو لگایا ہوا ہے
یہ جوشاہین کشیدہ ہے مرے تکئے پر
خواب میں اس کو ہمالہ پہ اڑا یا ہوا ہے
ایک شمشیر سجا رکھی ہے گھر میں میں نے
اور ہواؤں میں اسے خوب چلایا ہوا ہے
مردِ مومن کے سے سجدوں کیلئے میں نے حضور
گھر میں اک گوشہ خاموش بنایا ہوا ہے
بنک کی اونچی عمارت کے وہ قیدی ٹہرے
شکوہ ماں نے جنھیں بچپن میں پڑھایا ہوا ہے
بحرِ ظلمات کبھی ڈھونڈ نہ پائے لیکن
اوقیانوس پہ طیارہ اڑایا ہوا ہے
تم نہ سمجھوگے خودی کیا ہے برادر مسعود
تم نے دنیا کو ہی معیار بنایا ہواہے
وہ جو کنجشکِ فرومایہ تھا کمبخت یہاں
کاخِ عالی پہ اسے ہم نے بٹھایا ہوا ہے
Dr Masood Mehmood Khan
قحط میں جنگ کے حالات میں کیا ملتا ہے امریکہ کی ثالثی کی مناسبت سے ۔۔۔
محفلِ رندِ خرابات میں کیا ملتا ہے
رنگِ گل اشکوں کی برسات میں کیا ملتا ہے
میرے پیمانے کو دیکھا تو کہا واعظ نے
دیکھئے رندوں کو خیرات میں کیا ملتا ہے
جوبھی مل جائے اسے دیکھ کے خوش ہو لیجئے
قحط میں جنگ کے حالات میں کیا ملتا ہے
جو ملے کا تری اجرت سے بہت کم ہوگا
خوگرِ بخل سے ظلمات میں کیا ملتا ہے Masood Mehmood Khan
محفلِ رندِ خرابات میں کیا ملتا ہے
رنگِ گل اشکوں کی برسات میں کیا ملتا ہے
میرے پیمانے کو دیکھا تو کہا واعظ نے
دیکھئے رندوں کو خیرات میں کیا ملتا ہے
جوبھی مل جائے اسے دیکھ کے خوش ہو لیجئے
قحط میں جنگ کے حالات میں کیا ملتا ہے
جو ملے کا تری اجرت سے بہت کم ہوگا
خوگرِ بخل سے ظلمات میں کیا ملتا ہے Masood Mehmood Khan
وہ چلارہا ہے خنجر میں بیان دے رہا ہوں مرے سامعین تم پر میں دھیان دے رہا ہو
وہ چلارہا ہے خنجر میں بیان دے رہا ہوں
سرِ منبر آکر اس کو یونہی کوستا رہوں گا
کسی روز گر مرے گا میں زبان دے رہا ہوں
میں جوبات کہ رہا ہوں اسے تم نے ٹھیک سمجھا
نہیں کوئی دھمکی اس میں میں گیان دے رہا ہوں
میں جھٹک نہیں رہا ہوں ترے دستِ آرزو کو
تجھے تیغ کی طلب ہے میں میان دے رہاہوں
نہ ہے تو حریف میرا نہ ہوں میں ترے مقابل
تو بجا رہاہے گھنٹی میں اذان دے رہا ہوں
میں مسعود دشتِ وحشت پہ چڑھا ہوں جن سے بچ کر
وہ سمجھ رہے ہیں شاید کہ میں جان دے رہا ہوں Masood Mehmood Khan
وہ چلارہا ہے خنجر میں بیان دے رہا ہوں
سرِ منبر آکر اس کو یونہی کوستا رہوں گا
کسی روز گر مرے گا میں زبان دے رہا ہوں
میں جوبات کہ رہا ہوں اسے تم نے ٹھیک سمجھا
نہیں کوئی دھمکی اس میں میں گیان دے رہا ہوں
میں جھٹک نہیں رہا ہوں ترے دستِ آرزو کو
تجھے تیغ کی طلب ہے میں میان دے رہاہوں
نہ ہے تو حریف میرا نہ ہوں میں ترے مقابل
تو بجا رہاہے گھنٹی میں اذان دے رہا ہوں
میں مسعود دشتِ وحشت پہ چڑھا ہوں جن سے بچ کر
وہ سمجھ رہے ہیں شاید کہ میں جان دے رہا ہوں Masood Mehmood Khan
دن الیکشن کے نزدیک آنے لگے دن الیکشن کے نزدیک آنے لگے
لوگ سپنوں کی دنیا بسانے لگے
وہ جو جیتے تو دنیا بدل جائیگی
ان کے حامی یہ نعرے لگانے لگے
اپنے تقریر سے ایسے مرعوب ہوئے
کہ ہتھیلی پہ سرسوں جمانے لگے
نعرہ بازوں کی ٹولی میں جو گھر گئے
وہ انہی جیسے نعرے لگانے لگے
سادہ دل ان کی باتوں میں آتے گئے
اور جلسوں کی رونق بڑھانے لگے
ایسے شعلے اٹھے ان کی تقریر سے
لوگ اپنے گھروں کو جلانے لگے
بینروں سے شہر کوسجاکر مسعود
شہریوں کو گلے سے لگانے لگے Masood Mehmood Khan
لوگ سپنوں کی دنیا بسانے لگے
وہ جو جیتے تو دنیا بدل جائیگی
ان کے حامی یہ نعرے لگانے لگے
اپنے تقریر سے ایسے مرعوب ہوئے
کہ ہتھیلی پہ سرسوں جمانے لگے
نعرہ بازوں کی ٹولی میں جو گھر گئے
وہ انہی جیسے نعرے لگانے لگے
سادہ دل ان کی باتوں میں آتے گئے
اور جلسوں کی رونق بڑھانے لگے
ایسے شعلے اٹھے ان کی تقریر سے
لوگ اپنے گھروں کو جلانے لگے
بینروں سے شہر کوسجاکر مسعود
شہریوں کو گلے سے لگانے لگے Masood Mehmood Khan
ترے خیال میں کیسی یہ بے خیالی ہے تیرے خیال میں کیسی یہ بے خیالی ہے
نشے میں جھوم رہاہوں گو جام خالی ہے
یہ آزمائشِ جاں کا عجب تسلسل ہے
کہ دل گریزاں ہے لیکن نظر سوالی ہے
ٹہر ٹہر کے دھڑکتا ہے ایک عرصہ سے
کسی کی عادتِ گفتار دل نے ڈالی ہے
ہمارے عصر کی کیسی یہ بدنصیبی ہے
رسن ہوئی ہے بوسیدہ صلیب خالی ہے
تری گلی سے اٹھائے گا کون اب ہم کو
تری گلی میں لحد ہم نے اب بنالی ہے
نظام دید بشر میں ہے نقص کچھ پنہاں
کہ جو نظر بھی ملے وہ نظر سوالی ہے
رنگِ گلاب رنگِ گل رنگِ شباب نہ دیکھ
تمام رنگوں سے بر تر حیا کی لا لی ہے
یہ کیسا میل ہے بینِ چراغ و تاریکی
سحر جو آئی مقابل سپرد ڈالی ہے
کرم کادر ہواوا اس طرح سے مسعود ہم پر
دعا کولب نہ ہلائے مراد پالی ہے Masood Mehmood Khan
نشے میں جھوم رہاہوں گو جام خالی ہے
یہ آزمائشِ جاں کا عجب تسلسل ہے
کہ دل گریزاں ہے لیکن نظر سوالی ہے
ٹہر ٹہر کے دھڑکتا ہے ایک عرصہ سے
کسی کی عادتِ گفتار دل نے ڈالی ہے
ہمارے عصر کی کیسی یہ بدنصیبی ہے
رسن ہوئی ہے بوسیدہ صلیب خالی ہے
تری گلی سے اٹھائے گا کون اب ہم کو
تری گلی میں لحد ہم نے اب بنالی ہے
نظام دید بشر میں ہے نقص کچھ پنہاں
کہ جو نظر بھی ملے وہ نظر سوالی ہے
رنگِ گلاب رنگِ گل رنگِ شباب نہ دیکھ
تمام رنگوں سے بر تر حیا کی لا لی ہے
یہ کیسا میل ہے بینِ چراغ و تاریکی
سحر جو آئی مقابل سپرد ڈالی ہے
کرم کادر ہواوا اس طرح سے مسعود ہم پر
دعا کولب نہ ہلائے مراد پالی ہے Masood Mehmood Khan
بحرِ احساس مرے جسم میں بہتا کیوں ہے بحرِ احساس مرے جسم میں بہتا کیوں ہے
اور تھپیڑوں کو بدن شان سے سہتا کیوں ہے
دل نہیں دیکھتا جو آنکھ دکھاتی ہے اسے
دید کچھ بھی کہے دل اپنی ہی کہتا کیوں ہے
وقت اور سوچ میں اک دوڑ لگی رہتی ہے
دوڑ میں پیچھے صدا وقت ہی رہتا کیوں ہے
جادو اعداد کی موجوں کا یہ ہوتا کیوں ہے
لشکرِ حرص و ہوس ان پہ ہی بہتا کیوں ہے
ملکیت توہے بدن کی نہ بدن تیراہے
کوئی سرگو شیوں میں مجھ سے یہ کہتا کیوں ہے
عمر یہ کس کی تو جس کو جئے جاتا ہے
تیرا افسانہ نہیں ہے تو تو کہتا کیوں ہے
کون الفاظ کو گویا ئ عطا کرتا ہے
میں َ لکھے بھی جو قلم ورق ًَ تو َ کہتا کیوں ہے
تجھ کو تخلیق سے پہلے ہی سنوارا گیا تھا
دردِ تزئین عدم ہی سے تو سہتا کیوں ہے
وجد میں رقص کُناں رہتے ہیں افلاک تو پھر
دیدہ ور گردشِ افلاک ہی کہتا کیوں ہے
ہر دعاپر مری مسعود کوئی جا نے کیوں
مانگئے مانگتے ہی جا ئئے کہتا کیوں ہے Dr. Masood Mehmood Khan
اور تھپیڑوں کو بدن شان سے سہتا کیوں ہے
دل نہیں دیکھتا جو آنکھ دکھاتی ہے اسے
دید کچھ بھی کہے دل اپنی ہی کہتا کیوں ہے
وقت اور سوچ میں اک دوڑ لگی رہتی ہے
دوڑ میں پیچھے صدا وقت ہی رہتا کیوں ہے
جادو اعداد کی موجوں کا یہ ہوتا کیوں ہے
لشکرِ حرص و ہوس ان پہ ہی بہتا کیوں ہے
ملکیت توہے بدن کی نہ بدن تیراہے
کوئی سرگو شیوں میں مجھ سے یہ کہتا کیوں ہے
عمر یہ کس کی تو جس کو جئے جاتا ہے
تیرا افسانہ نہیں ہے تو تو کہتا کیوں ہے
کون الفاظ کو گویا ئ عطا کرتا ہے
میں َ لکھے بھی جو قلم ورق ًَ تو َ کہتا کیوں ہے
تجھ کو تخلیق سے پہلے ہی سنوارا گیا تھا
دردِ تزئین عدم ہی سے تو سہتا کیوں ہے
وجد میں رقص کُناں رہتے ہیں افلاک تو پھر
دیدہ ور گردشِ افلاک ہی کہتا کیوں ہے
ہر دعاپر مری مسعود کوئی جا نے کیوں
مانگئے مانگتے ہی جا ئئے کہتا کیوں ہے Dr. Masood Mehmood Khan
کون آسمانوں پر جشنِ گل مناتا ہے بادلوں کا گلدستہ ہر صبح سجاتاہے
کون آسمانوں پر جشنِ گل مناتاہے
بادلوں کے رستے میں کچھ تو مشکلیں ہونگی
ورنہ سست گامی سے روز کون جاتاہے۔
سینکڑوں ستارے راہ چاندنی کی تکتے ہیں
کوئی جگمگاتا ہے کوئی ٹوٹ جاتاہے
لاکھ غم چھپائے ہیں آسماں نے سینے میں
ورنہ اس طرح آنسو کیوں کوئی بہاتاہے
بارشوں کے موسم میں کچھ عجیب ہوتا ہے
جیسے اپنا منہ ہم سے آسماں چھپاتاہے
کینوس بنایاہے آسمان کو کس نے
نقش اک بناتا ہے نقش اک مٹاتا ہے
اک طرح کے رنگوں سے اتنے مختلف خاکے
کوئی دستِ کامل ہی ہر گھڑی بناتا ہے
یوں تو دور رہتاہے آسمان ہم سب سے
اڑنا چاہے کوئی تو اس کے پاس آتا ہے
آسمان پر مسعود اپنا گھر بنالینا
ہر نگر کا نظارہ دیکھنے میں آتاہے۔ Dr. Masood Mehmood Khan
کون آسمانوں پر جشنِ گل مناتاہے
بادلوں کے رستے میں کچھ تو مشکلیں ہونگی
ورنہ سست گامی سے روز کون جاتاہے۔
سینکڑوں ستارے راہ چاندنی کی تکتے ہیں
کوئی جگمگاتا ہے کوئی ٹوٹ جاتاہے
لاکھ غم چھپائے ہیں آسماں نے سینے میں
ورنہ اس طرح آنسو کیوں کوئی بہاتاہے
بارشوں کے موسم میں کچھ عجیب ہوتا ہے
جیسے اپنا منہ ہم سے آسماں چھپاتاہے
کینوس بنایاہے آسمان کو کس نے
نقش اک بناتا ہے نقش اک مٹاتا ہے
اک طرح کے رنگوں سے اتنے مختلف خاکے
کوئی دستِ کامل ہی ہر گھڑی بناتا ہے
یوں تو دور رہتاہے آسمان ہم سب سے
اڑنا چاہے کوئی تو اس کے پاس آتا ہے
آسمان پر مسعود اپنا گھر بنالینا
ہر نگر کا نظارہ دیکھنے میں آتاہے۔ Dr. Masood Mehmood Khan
صا ف گلیو ں کا بھی رواج کریں گند گی کا بھی کچھ علا ج کر یں
صا ف گلیو ں کا بھی رواج کریں
ذ ہنیت اب عوام بد لیں بھی
کچھ تو تبدیل یہ سماج کر یں
شہر کی ٹو ٹی پھو ٹی سڑ کوں پر
مر ضِ دند اں کا مت علاج کریں
لڑنے بھڑ نے سے کیا ملا اب تک
مل کے رہنے کا اب رواج کریں
مسکرا نا بھی سیکھ لیں شہری
ٹھنڈا میٹھا ذ را مزاج کریں
اپنے مسعود روز و شب بد لیں
عقل و محنت کا اب رواج کریں Dr. Masood Mehmood Khan
صا ف گلیو ں کا بھی رواج کریں
ذ ہنیت اب عوام بد لیں بھی
کچھ تو تبدیل یہ سماج کر یں
شہر کی ٹو ٹی پھو ٹی سڑ کوں پر
مر ضِ دند اں کا مت علاج کریں
لڑنے بھڑ نے سے کیا ملا اب تک
مل کے رہنے کا اب رواج کریں
مسکرا نا بھی سیکھ لیں شہری
ٹھنڈا میٹھا ذ را مزاج کریں
اپنے مسعود روز و شب بد لیں
عقل و محنت کا اب رواج کریں Dr. Masood Mehmood Khan
گھر کے کپڑے سڑک پہ دھو تے ہیں دیدہ ور بھی عجیب ہو تے ہیں
مسکرا تے ہوئے بھی روتے ہیں
حا کما نِ د یا رِ سو ختہ جا ں
شب کومصروف دن کوسو تے ہیں
خونِ دل ہو سرِ فلک جو عیا ں
تو شفق رنگ نقش ہو تے ہیں
رنجشیں سب فلک پہ لکھ ڈ ا لیں
گھر کے کپڑے سڑک پہ دھو تے ہیں
جو عد ا و ت سے کا م لیتے ہیں
کیو ں وہ تیرے قر یب ہو تے ہیں
تیری محفل میں آ کے بیٹھتے ہیں
پا تے کم کم ز یا د ہ کھو تے ہیں
کس نے تصو یر یہ بنا ئی ہے
نقش بے خو ا ب رنگ سو تے ہیں
حا ل مسعو د کا سنا تے ہیں
گا ہے ہنستے ہیں گا ہے رو تے ہیں Masood Mehmood Khan
مسکرا تے ہوئے بھی روتے ہیں
حا کما نِ د یا رِ سو ختہ جا ں
شب کومصروف دن کوسو تے ہیں
خونِ دل ہو سرِ فلک جو عیا ں
تو شفق رنگ نقش ہو تے ہیں
رنجشیں سب فلک پہ لکھ ڈ ا لیں
گھر کے کپڑے سڑک پہ دھو تے ہیں
جو عد ا و ت سے کا م لیتے ہیں
کیو ں وہ تیرے قر یب ہو تے ہیں
تیری محفل میں آ کے بیٹھتے ہیں
پا تے کم کم ز یا د ہ کھو تے ہیں
کس نے تصو یر یہ بنا ئی ہے
نقش بے خو ا ب رنگ سو تے ہیں
حا ل مسعو د کا سنا تے ہیں
گا ہے ہنستے ہیں گا ہے رو تے ہیں Masood Mehmood Khan
کب میں نے یہ کہا کہ خدا مجھ کو تم کہو کب میں نے یہ کہا کہ خدا مجھ کو تم کہو
بس خلقتِ خدا سے جدا مجھ کو تم کہو
جو کچھ کہوگے اس پہ رہے گا کچھ اختلا ف
اپنا کہو کہ خود سے جدا مجھ کو تم کہو
منزل کے کچھ نشا ں بھی میرے راستے میں تھے
گمرِ ہ تو نہ بر ا ئے خدا مجھ کو تم کہو
رختِ سفر مسعود نہیں کو ئی پا س میں
ر ہز ن اسی سبب بخدا مجھ کو تم کہو Dr. Masood Mehmood Khan
بس خلقتِ خدا سے جدا مجھ کو تم کہو
جو کچھ کہوگے اس پہ رہے گا کچھ اختلا ف
اپنا کہو کہ خود سے جدا مجھ کو تم کہو
منزل کے کچھ نشا ں بھی میرے راستے میں تھے
گمرِ ہ تو نہ بر ا ئے خدا مجھ کو تم کہو
رختِ سفر مسعود نہیں کو ئی پا س میں
ر ہز ن اسی سبب بخدا مجھ کو تم کہو Dr. Masood Mehmood Khan
تمہا ری بندوق کیا کرے گی تمہا ری بندوق کیا کرے گی
یہ جب چلے گی
نہتے بچوں کی جان لے گی
سسکتی ما ؤں کی اجڑی گو دوں
پہ ہنستے ہنستے
کسی بھی جا بر کسی بھی ظالم
کسی بھی جلاد
کی حفاظت میں جا چھپے گی
تمہا ری بندوق کیا کرے گی
صدا جھکی ہے یہ پھر جھکے گی
کسی بھی غاصب
فراعنہ کی خبا ثتو ں
کسی محا فظ
کے سبز قد موں میں جا گرے گی
چمک ستاروں کی ما ند کر کے اگر دکھا دو
د مکتے سورج کی روشنی گل جو کر سکو تو
جوان جذ بوں کا یہ سمندر جو پار کر لو
بلند ہمت کی یہ ہو ا ئیں جو قید کر لو
تو یہ سمجھنا
تمہاری بندوق چل گئی ہے
مگر یہ ممکن نہ ہو سکے گا
کبھی ہوا ہے نہ اب یہ ہو گا
خبر ہے تم کو تمہاری بندوق
پستیوں کی ہے اک علا مت
تمہاری بندوق جا نتے ہو
نشانِ ذلت بنی ہوئی ہے
Dr. Masood Mehmood Khan
یہ جب چلے گی
نہتے بچوں کی جان لے گی
سسکتی ما ؤں کی اجڑی گو دوں
پہ ہنستے ہنستے
کسی بھی جا بر کسی بھی ظالم
کسی بھی جلاد
کی حفاظت میں جا چھپے گی
تمہا ری بندوق کیا کرے گی
صدا جھکی ہے یہ پھر جھکے گی
کسی بھی غاصب
فراعنہ کی خبا ثتو ں
کسی محا فظ
کے سبز قد موں میں جا گرے گی
چمک ستاروں کی ما ند کر کے اگر دکھا دو
د مکتے سورج کی روشنی گل جو کر سکو تو
جوان جذ بوں کا یہ سمندر جو پار کر لو
بلند ہمت کی یہ ہو ا ئیں جو قید کر لو
تو یہ سمجھنا
تمہاری بندوق چل گئی ہے
مگر یہ ممکن نہ ہو سکے گا
کبھی ہوا ہے نہ اب یہ ہو گا
خبر ہے تم کو تمہاری بندوق
پستیوں کی ہے اک علا مت
تمہاری بندوق جا نتے ہو
نشانِ ذلت بنی ہوئی ہے
Dr. Masood Mehmood Khan
شہیدِ اربعہ العداویہ شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
تری ادائے وفا کے صدقے
مری حیات و متاعِ دنیا
شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
ترے لہو کے ہر ایک قطرے سے
اک نئی کہکشا ں سجی ہے
ہر ایک قطرے سے تیرے خوں کے
جہانِ روشن ابھر رہا ہے
ہر اک جہاں میں ترے رفیقوں کی بستیاں ہیں
جوتری یادوں کی روشنی سے
مثالِ سورج ہوئی ہیں روشن
شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
یہ زرہ خاکِ اربعہ جو
ترےمعطر لہو سے روشن
چمک رہا ہے دمک رہا ہے
نصیب اس کا وہ رفعتیں ہیں
جو جا کے لا ہوت سے ملی ہیں
شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
تر ے لہو کا ہر ایک قطرہ
فراعنہ کو بتا ر ہا ہے
کہ نیل کی سوگوار لہروں پہ
پھر پڑے گی عصائے موسی
ملے گا اک تابناک رستہ
رہِ محمد کے قا فلو ں کو
یہ خونِ پاکِ شہید اربعہ
فراعنہ کو بتا ر ہا ہے
نہ تم کو کوئی اماں ملے گی
نہ یاں ملے گی نہ واں ملے گی
یہ عارضی جیت جلد بن کر
عزاب پیہم تمہیں ڈسے گی
تمہا رے لشکر کے سارے جلاد
جلد اپنی ہی سولیوں پر
چڑھے ملیں گےہے Dr. Masood Mehmood Khan
تری ادائے وفا کے صدقے
مری حیات و متاعِ دنیا
شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
ترے لہو کے ہر ایک قطرے سے
اک نئی کہکشا ں سجی ہے
ہر ایک قطرے سے تیرے خوں کے
جہانِ روشن ابھر رہا ہے
ہر اک جہاں میں ترے رفیقوں کی بستیاں ہیں
جوتری یادوں کی روشنی سے
مثالِ سورج ہوئی ہیں روشن
شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
یہ زرہ خاکِ اربعہ جو
ترےمعطر لہو سے روشن
چمک رہا ہے دمک رہا ہے
نصیب اس کا وہ رفعتیں ہیں
جو جا کے لا ہوت سے ملی ہیں
شہیدِ اربعہ سلام تجھ کو
تر ے لہو کا ہر ایک قطرہ
فراعنہ کو بتا ر ہا ہے
کہ نیل کی سوگوار لہروں پہ
پھر پڑے گی عصائے موسی
ملے گا اک تابناک رستہ
رہِ محمد کے قا فلو ں کو
یہ خونِ پاکِ شہید اربعہ
فراعنہ کو بتا ر ہا ہے
نہ تم کو کوئی اماں ملے گی
نہ یاں ملے گی نہ واں ملے گی
یہ عارضی جیت جلد بن کر
عزاب پیہم تمہیں ڈسے گی
تمہا رے لشکر کے سارے جلاد
جلد اپنی ہی سولیوں پر
چڑھے ملیں گےہے Dr. Masood Mehmood Khan
ہر اک قدم پہ خدا ہیں تمہا ری بستی میں کہا ں جبیں کوجھکا ئیں تمہا ری بستی میں
ہراِک قدم پہ خدا ہےتمہا ری بستی میں
نہ بت شکن کو ئی ہو تا ا گر خبر ہو تی
ہر ا یک سنگ خدا ہے تمہا ری بستی میں
خد ا کے و ا سطے کر تا نہیں کرم کو ئی
ستم بنا مِ خد ا ہے تمہا ر ی بستی میں
ہر اِک نظا رےمیں ایما ں کی آزمائش ہے
ہر اِ ک نظارہ خطا ٕہے تمہا ری بستی میں
ہنرہےخوا رو پشیما ں جہل کی ہے توصیف
خر د کی با ت گنا ہ ہے تمہا ری بستی میں
لبا دہ ا و ڑھے ہوئے ہے ہر ایک سنگ مگر
بر ہنہ خلقِ خدا ہے تمہا ری بستی میں
کریں گے کا رِ بر ا ہیم کس طرح مسعود
بتو ں سے ز یادہ خدا ہیں تمہا ری بستی میں
(پا کستان کی سیا سی جما عتوں کے ا ند رو نی حا لا ت کے تنا ظر میں لکھی گئی) Dr. Masood Mehmood Khan
ہراِک قدم پہ خدا ہےتمہا ری بستی میں
نہ بت شکن کو ئی ہو تا ا گر خبر ہو تی
ہر ا یک سنگ خدا ہے تمہا ری بستی میں
خد ا کے و ا سطے کر تا نہیں کرم کو ئی
ستم بنا مِ خد ا ہے تمہا ر ی بستی میں
ہر اِک نظا رےمیں ایما ں کی آزمائش ہے
ہر اِ ک نظارہ خطا ٕہے تمہا ری بستی میں
ہنرہےخوا رو پشیما ں جہل کی ہے توصیف
خر د کی با ت گنا ہ ہے تمہا ری بستی میں
لبا دہ ا و ڑھے ہوئے ہے ہر ایک سنگ مگر
بر ہنہ خلقِ خدا ہے تمہا ری بستی میں
کریں گے کا رِ بر ا ہیم کس طرح مسعود
بتو ں سے ز یادہ خدا ہیں تمہا ری بستی میں
(پا کستان کی سیا سی جما عتوں کے ا ند رو نی حا لا ت کے تنا ظر میں لکھی گئی) Dr. Masood Mehmood Khan
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے بنگال کے ووٹ پہ ڈا کے میں
تقسیمِ وطن کے خاکے میں
تصویرِ سقوطِ ڈھا کے میں
اک ایسا چہرہ دیکھو گے
لوگوں جو آج بھی زندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
قومیت کے اِن نعروں میں
عصبیت کی تکراروں میں
نفرت کے سجے بازاروں میں
اس شخص کے نعرے لگتے ہیں
ملت جس پر شر مندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
محنت سے اس بیزاری کا
مزدور کی اس لاچاری کا
افلاس کا اور ناداری کا
سہرا اس شخص کے سر پہ ہے
جو تیرے حال پہ خندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
یہ ملک تمہارا ہے لوٹو
ہرگھر لوٹو دفتر لوٹو
ہر کھیت اور مِل ملکر لوٹو
یہ نعرہ ہے منشور بھی ہے
جو زندہ اور پائندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
تعلیم کی اس پامالی پر
استاد کی اس بدحالی پر
اور ملک کی خستہ حالی پر
اس جہل کی مہر نمایاں ہے
جو ایوانوں میں زندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
Dr. Masood Mehmood Khan
تقسیمِ وطن کے خاکے میں
تصویرِ سقوطِ ڈھا کے میں
اک ایسا چہرہ دیکھو گے
لوگوں جو آج بھی زندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
قومیت کے اِن نعروں میں
عصبیت کی تکراروں میں
نفرت کے سجے بازاروں میں
اس شخص کے نعرے لگتے ہیں
ملت جس پر شر مندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
محنت سے اس بیزاری کا
مزدور کی اس لاچاری کا
افلاس کا اور ناداری کا
سہرا اس شخص کے سر پہ ہے
جو تیرے حال پہ خندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
یہ ملک تمہارا ہے لوٹو
ہرگھر لوٹو دفتر لوٹو
ہر کھیت اور مِل ملکر لوٹو
یہ نعرہ ہے منشور بھی ہے
جو زندہ اور پائندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
تعلیم کی اس پامالی پر
استاد کی اس بدحالی پر
اور ملک کی خستہ حالی پر
اس جہل کی مہر نمایاں ہے
جو ایوانوں میں زندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
Dr. Masood Mehmood Khan
شہرِ دہشت ہے اِس شہر كا نام اب کراچی کے حالات پر ایک مجبور شاعر کا رد عمل
رقصِ وحشت ہوا ہے یہاں عام اب
شہرِ دہشت ہے اِس شہر كا نام اب
جشنِ گل کے یہاں کچھ عجب رنگ ہیں
خوں سے جلتے د ئیے ہں سرِ بام اب
پیاس بجھتی ہے یاں خونِ انسان سے
پانی پینے كو ملتا نہیں عام ا ب
امن سوتا ہے اب خوف كی گود میں
موت ہوا زندگی كا نیا نا م اب
وقت نے محترم رہزنوں كو كیا
رہبری رہزنوں كا ہوا كام اب
كارِ مرداں فقط قتل و غارتگری
غسلِ خوں ہے شرافت كا انعام اب
لوگ لاشوں پہ ہی گل سجاتےہیں اب
گورِ تا ریک پھولوں كا انجام اب
دن ہیں تاریک راتیں ہیں تاریك تر
صبح لگنے لگی خلق كو شام اب
روتے رہتے ہیں مسعود حالات پر
اور كرنے كو كوئی نہیں كام اب Masood Mehmood Khan
رقصِ وحشت ہوا ہے یہاں عام اب
شہرِ دہشت ہے اِس شہر كا نام اب
جشنِ گل کے یہاں کچھ عجب رنگ ہیں
خوں سے جلتے د ئیے ہں سرِ بام اب
پیاس بجھتی ہے یاں خونِ انسان سے
پانی پینے كو ملتا نہیں عام ا ب
امن سوتا ہے اب خوف كی گود میں
موت ہوا زندگی كا نیا نا م اب
وقت نے محترم رہزنوں كو كیا
رہبری رہزنوں كا ہوا كام اب
كارِ مرداں فقط قتل و غارتگری
غسلِ خوں ہے شرافت كا انعام اب
لوگ لاشوں پہ ہی گل سجاتےہیں اب
گورِ تا ریک پھولوں كا انجام اب
دن ہیں تاریک راتیں ہیں تاریك تر
صبح لگنے لگی خلق كو شام اب
روتے رہتے ہیں مسعود حالات پر
اور كرنے كو كوئی نہیں كام اب Masood Mehmood Khan
كبھی امداد دیتے ہو كبھی دھمكانے لگتے ہو حقیقت بن كے آتے ہومگر افسانے لگتے ہو
كبھی لگتے ہو جانے سے كبھی انجانے لگتے ہو
كبھی قربت کی چاہت ہے كبھی ضد دوررہنے كی
كبھی نظریں ملاتے ہو كبھی شرمانے لگتے ہو
كبھی كارِ مسیحائی كبھی غارت گرِ عالم
كبھی امداد دیتے ہو كبھی دھمكانے لگتے ہو
كبھی بیزار بے پرواہ كبھی پیكر مروّت كا
كبھی لگتے ہواپنے اوركبھی بیگانے لگتے ہو
كبھی شیشے كی شفّافی كبھی سرخیءِ رنگِ مے
كبھی مےلگنے لگتے ہو كبھی پیمانے لگتے ہو
كبھی مضمون كے اندر كبھی پیرائے کے باہر
كبھی دیتے دلائل ہو كبھی چلّا نےلگتے ہو
كبھی اظہارِ الفت ہے كبھی چالیں رقیبوں سی
كبھی خود لڑنے لگتے ہو كبھی لڑوانے لگتے ہو
كبھی بے مہر بے حس اور كبھی در پہ گدا گو یا
كبھی لگتے ہو تم شمع كبھی پروانے لگتے ہو
كبھی روزہ كبھی رشوت كبھی سجدہ كبھی حجّت
كبھی تلقین كرتے ہو كبھی بہكا نے لگتے ہو
كبھی ہے شوقِ منزل اوركبھی صحرا سے بیزاری
كبھی دو گام چلتے ہو كبھی کترانے لگتے ہو
كبھی قومی مسا ئل میں كبھی ز لفو ں میں پیچاں ہو
كبھی لگتے ہو الجھانے كبھی سلجھانے لگتے ہو
تمہیں دم توڑتا انساں بہت تسكین دیتا ہے
كبھی خود قتل كرتے ہو كبھی كروانے لگتے ہو
تمہاری گفتگو ایسے سلیقوں سے مزّین ہے
كبھی لگتے ہو فرزانے كبھی دیوانےلگتے ہو
تمہاری بزم میں مسعود ہم بیزار بیٹھے ہیں
كبھی كم فہم لگتے ہو كبھی سمجھا نے لگتے ہو Masood Mehmood Khan
كبھی لگتے ہو جانے سے كبھی انجانے لگتے ہو
كبھی قربت کی چاہت ہے كبھی ضد دوررہنے كی
كبھی نظریں ملاتے ہو كبھی شرمانے لگتے ہو
كبھی كارِ مسیحائی كبھی غارت گرِ عالم
كبھی امداد دیتے ہو كبھی دھمكانے لگتے ہو
كبھی بیزار بے پرواہ كبھی پیكر مروّت كا
كبھی لگتے ہواپنے اوركبھی بیگانے لگتے ہو
كبھی شیشے كی شفّافی كبھی سرخیءِ رنگِ مے
كبھی مےلگنے لگتے ہو كبھی پیمانے لگتے ہو
كبھی مضمون كے اندر كبھی پیرائے کے باہر
كبھی دیتے دلائل ہو كبھی چلّا نےلگتے ہو
كبھی اظہارِ الفت ہے كبھی چالیں رقیبوں سی
كبھی خود لڑنے لگتے ہو كبھی لڑوانے لگتے ہو
كبھی بے مہر بے حس اور كبھی در پہ گدا گو یا
كبھی لگتے ہو تم شمع كبھی پروانے لگتے ہو
كبھی روزہ كبھی رشوت كبھی سجدہ كبھی حجّت
كبھی تلقین كرتے ہو كبھی بہكا نے لگتے ہو
كبھی ہے شوقِ منزل اوركبھی صحرا سے بیزاری
كبھی دو گام چلتے ہو كبھی کترانے لگتے ہو
كبھی قومی مسا ئل میں كبھی ز لفو ں میں پیچاں ہو
كبھی لگتے ہو الجھانے كبھی سلجھانے لگتے ہو
تمہیں دم توڑتا انساں بہت تسكین دیتا ہے
كبھی خود قتل كرتے ہو كبھی كروانے لگتے ہو
تمہاری گفتگو ایسے سلیقوں سے مزّین ہے
كبھی لگتے ہو فرزانے كبھی دیوانےلگتے ہو
تمہاری بزم میں مسعود ہم بیزار بیٹھے ہیں
كبھی كم فہم لگتے ہو كبھی سمجھا نے لگتے ہو Masood Mehmood Khan
ا پنابنا لیا ہے تو رسوا ئی بھی تو دے مشكل میں ڈال کرمجھےدانائی بھی تو دے
اذنِ کلام حق ہے تو تنہا ئی بھی تو د ے
لے آ یا ذوقِ سجدہ میراتیرے گھر تلک
اب اپنے در كی كوئی شناسائی بھی تو دے
كیوں میرا نام آج بھی پہچان ہے مری
ا پنابنا لیا ہے تو رسوا ئی بھی تو دے
کیوں کوہِ طورِتک کی مسافت ہو را ئیگا ں
گرجلوہ گر ہوا ہےتو بینا ئی بھی تو دے
یہ شوق ہے كہ پار ملے دشتِ جاں كےتو
اِس شوقِ جاں گسل كی توانائی بھی تو دے
مسعود کو مقام عطاء کر دئیے بلند
اس کوسمندرو ں كی سی پنہا ئی بھی تو دے
مسعود محمود خان
اذنِ کلام حق ہے تو تنہا ئی بھی تو د ے
لے آ یا ذوقِ سجدہ میراتیرے گھر تلک
اب اپنے در كی كوئی شناسائی بھی تو دے
كیوں میرا نام آج بھی پہچان ہے مری
ا پنابنا لیا ہے تو رسوا ئی بھی تو دے
کیوں کوہِ طورِتک کی مسافت ہو را ئیگا ں
گرجلوہ گر ہوا ہےتو بینا ئی بھی تو دے
یہ شوق ہے كہ پار ملے دشتِ جاں كےتو
اِس شوقِ جاں گسل كی توانائی بھی تو دے
مسعود کو مقام عطاء کر دئیے بلند
اس کوسمندرو ں كی سی پنہا ئی بھی تو دے
مسعود محمود خان
كوئی خبر نہیں اس كی ہر اك خبر میں جو ہے كسی نظر نے نہ دیكھا ہر اِك نظر میں جو ہے
كوئی خبر نہیں اس كی ہر اِك خبر میں جو ہے
مكا ں، قیام، سفر، زادِرا ہ، مسا فتِ جا ں
فقط فریبِ نظر ہیں اگر نظر میں وہ ہے
میں منز لوں كی طرف بڑھ رہا ہوں كچھ ایسے
قدم تو اٹھتے ہیں میرے مگر سفر میں وہ ہے
گر یزا ں رستے سے اسكے جو ہیں وہ كیاجا نیں
ہے وہ گز ر میں نمایاں نہاں بسر میں وہ ہے
دعا كوئی بھی كسی كو بھی اوركہیں بھی دے
دعاء میں ہو نہ ہو شامل مگر اثر میں وہ ہے
رنگِ بہا ر، رخِ یا ر ، ْضو ءِ شمس و قمر
نظر میں بستے ہیں ہر دم اگر نظر میں وہ ہے
ہر ا ِ ك بشر كا تقدّ س بشر پہ لا ز م ہے
بشر بشر ہے بظا ہر مگر بشر میں وہ ہے
مسعود كوچہءِ جا ناں ہر اِك دیار میں ہے
نہ ڈر كسی بھی سفر سےہر اِك نگر میں وہ ہے Masood Mehmood Khan
كوئی خبر نہیں اس كی ہر اِك خبر میں جو ہے
مكا ں، قیام، سفر، زادِرا ہ، مسا فتِ جا ں
فقط فریبِ نظر ہیں اگر نظر میں وہ ہے
میں منز لوں كی طرف بڑھ رہا ہوں كچھ ایسے
قدم تو اٹھتے ہیں میرے مگر سفر میں وہ ہے
گر یزا ں رستے سے اسكے جو ہیں وہ كیاجا نیں
ہے وہ گز ر میں نمایاں نہاں بسر میں وہ ہے
دعا كوئی بھی كسی كو بھی اوركہیں بھی دے
دعاء میں ہو نہ ہو شامل مگر اثر میں وہ ہے
رنگِ بہا ر، رخِ یا ر ، ْضو ءِ شمس و قمر
نظر میں بستے ہیں ہر دم اگر نظر میں وہ ہے
ہر ا ِ ك بشر كا تقدّ س بشر پہ لا ز م ہے
بشر بشر ہے بظا ہر مگر بشر میں وہ ہے
مسعود كوچہءِ جا ناں ہر اِك دیار میں ہے
نہ ڈر كسی بھی سفر سےہر اِك نگر میں وہ ہے Masood Mehmood Khan