Poetries by Malik Aman Ullah Anjum
تمہاری خاطر ہم بڑی دور سے آئے ہیں تمہاری خاطر
دل کے ارماں بھی لائے ہیں تمہاری خاطر
ایسا اک سنگ جو تالیفِ رہِ منزل ہو
منزلیں ڈھونڈ کے لائے ہیں تمہاری خاطر
کتنی ناکام امیدوں کے دیے پچھلے پہر
ہم نے دریا میں بہائے ہیں تمہاری خاطر
عہد روشن کے سخنور نہ بھلائیں گے کھبی
ہم نے وہ سحر جگائے ہیں تمہاری خاطر
ہم نہ چاہیں گے کبھی تختِ جم و خسرو کے
ہم نے ارماں لٹائے ہیں تمہاری خاطر
ہم وہاں تھے کہ جہاں ساغر وساقی تھے مدام
دوستوں لوٹ کے آئے ہیں تمہاری خاطر Malik Aman Ullah Anjum
دل کے ارماں بھی لائے ہیں تمہاری خاطر
ایسا اک سنگ جو تالیفِ رہِ منزل ہو
منزلیں ڈھونڈ کے لائے ہیں تمہاری خاطر
کتنی ناکام امیدوں کے دیے پچھلے پہر
ہم نے دریا میں بہائے ہیں تمہاری خاطر
عہد روشن کے سخنور نہ بھلائیں گے کھبی
ہم نے وہ سحر جگائے ہیں تمہاری خاطر
ہم نہ چاہیں گے کبھی تختِ جم و خسرو کے
ہم نے ارماں لٹائے ہیں تمہاری خاطر
ہم وہاں تھے کہ جہاں ساغر وساقی تھے مدام
دوستوں لوٹ کے آئے ہیں تمہاری خاطر Malik Aman Ullah Anjum
کردار کے غازی کعبے کے نگہبانوں کو کعبے سے ہٹادو
کافر کی ہے کوشش مسلمان کو مٹا دو
ایمان ابراہیم کا دُنیا کو دیکھا دو
بھڑکی ہوئی ہر آتش نمرود بجھا دو
ذروں کو فلک بوس پہاڑوں سے لڑا دو
محلوں کے منقش درو دیوار گرادو
کرنا ہے اگر چاند ستاروں کو مسخر
شمشیر مسلمان کے ہاتھوں میں تھما دو
اقبال کا شاہین کبھی پرواز سے تھک کر
گنبد پہ کسی قصر کے بیٹھے تو اڑا دو
مسکن ہے تیرا اونچے پہاڑوں کی چٹانیں
اس طائر ناداں کو یہ یاد دلا دو
ہوتا ہے اثر ان کی دعاوں میں یقیناً
نمازی سے دعالو کبھی غازی کو دُعا دو
نسیم کی طرح جنگ کے میدان میں اترو
اماں سے کہو! مجھ کو شہادت کی دُعا دو Malik Aman Ullah Anjum
کافر کی ہے کوشش مسلمان کو مٹا دو
ایمان ابراہیم کا دُنیا کو دیکھا دو
بھڑکی ہوئی ہر آتش نمرود بجھا دو
ذروں کو فلک بوس پہاڑوں سے لڑا دو
محلوں کے منقش درو دیوار گرادو
کرنا ہے اگر چاند ستاروں کو مسخر
شمشیر مسلمان کے ہاتھوں میں تھما دو
اقبال کا شاہین کبھی پرواز سے تھک کر
گنبد پہ کسی قصر کے بیٹھے تو اڑا دو
مسکن ہے تیرا اونچے پہاڑوں کی چٹانیں
اس طائر ناداں کو یہ یاد دلا دو
ہوتا ہے اثر ان کی دعاوں میں یقیناً
نمازی سے دعالو کبھی غازی کو دُعا دو
نسیم کی طرح جنگ کے میدان میں اترو
اماں سے کہو! مجھ کو شہادت کی دُعا دو Malik Aman Ullah Anjum
مجھے گلے سے لگا لو مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں
غم جہاں سے چھڑا لو بہت اداس ہوں میں
یہ انتظار کا دکھ اب سہا نہیں جاتا
تڑپ رہی ہے محبت رہا نہیں جاتا
تم اپنے پاس بلا لو بہت اداس ہوں میں
ہر ایک سانس میں ملنے کی پیاس پلتی ہے
سلگ رہا ہے بدن اور روح جلتی ہے
بچا سکو تو بچا لو بہت اداس ہوں میں
بھٹک چکی ہوں بہت زندگی کی راہوں میں
مجھے اب آکے چھپا لو تم اپنی بانہوں میں
میرا سوال نہ ٹالو بہت اداس ہوں میں
Malik Aman Ullah Anjum
غم جہاں سے چھڑا لو بہت اداس ہوں میں
یہ انتظار کا دکھ اب سہا نہیں جاتا
تڑپ رہی ہے محبت رہا نہیں جاتا
تم اپنے پاس بلا لو بہت اداس ہوں میں
ہر ایک سانس میں ملنے کی پیاس پلتی ہے
سلگ رہا ہے بدن اور روح جلتی ہے
بچا سکو تو بچا لو بہت اداس ہوں میں
بھٹک چکی ہوں بہت زندگی کی راہوں میں
مجھے اب آکے چھپا لو تم اپنی بانہوں میں
میرا سوال نہ ٹالو بہت اداس ہوں میں
Malik Aman Ullah Anjum