Poetries by Sarfraz Anthony
نہیں محفوظ اب انسان یارو ہیں ہر سو موت کے سامان یارو
نہیں محفوظ اب انسان یارو
دلو ں پر چھا گیا کچھ خوف ایسا
کہ مردہ ہوگئے ایمان یارو
سبھی کو اپنی اپنی جان پیاری
کوئی کیسے بنے دھنوان یارو
کرو کوئی تو ایسا کارنامہ
کہ جس سے سب کو ہو فیضان یارو
نہ ہوگا ظلم اب کوئی یہاں پر
کرو ایسا کوئی اعلان یارو
Sarfraz Anthony
نہیں محفوظ اب انسان یارو
دلو ں پر چھا گیا کچھ خوف ایسا
کہ مردہ ہوگئے ایمان یارو
سبھی کو اپنی اپنی جان پیاری
کوئی کیسے بنے دھنوان یارو
کرو کوئی تو ایسا کارنامہ
کہ جس سے سب کو ہو فیضان یارو
نہ ہوگا ظلم اب کوئی یہاں پر
کرو ایسا کوئی اعلان یارو
Sarfraz Anthony
دل بےتاب تا عمر ہم تو وقت کے گرداب میں رہے
مطلب تو پھر بھی یہی ہوا عذاب میں رہے
جب تو نہیں تو تیرا تجسس بھی ہے بیکار
پھر بھی تیری طلب دل بے تاب میں رہے
پھر کیسےاس کی تعریف ہو بیان
جس کا چہرہ ہی حجاب میں رہے
حکمت کا تقاضا کہ میں اس کو بھی سمجھوں
جو قطرہ چھپ کے پارہ سیماب میں رہے
نہ جانے کب وہ آئیں گے اب تک تو آئے
کب تک یہ سر جھکا ہوا آداب میں رہے
ہم نے تو دل کا حال کہا ان سے اور وہ
خاموش اس سوال کے جواب میں رہے
Sarfraz Anthony
مطلب تو پھر بھی یہی ہوا عذاب میں رہے
جب تو نہیں تو تیرا تجسس بھی ہے بیکار
پھر بھی تیری طلب دل بے تاب میں رہے
پھر کیسےاس کی تعریف ہو بیان
جس کا چہرہ ہی حجاب میں رہے
حکمت کا تقاضا کہ میں اس کو بھی سمجھوں
جو قطرہ چھپ کے پارہ سیماب میں رہے
نہ جانے کب وہ آئیں گے اب تک تو آئے
کب تک یہ سر جھکا ہوا آداب میں رہے
ہم نے تو دل کا حال کہا ان سے اور وہ
خاموش اس سوال کے جواب میں رہے
Sarfraz Anthony
ہرجائی رہتا تھا میرے ساتھ جو پرچھائی کی طرح
ا ب چل د یا ہے چھوڑ کے ہرجائی کی طرح
ہے کون ایسا ہم سفر بتائیے ہمیں
ہرو قت ساتھ جو رہے تنہائی کی طرح
ہم وقت کے ہاتھو ںمیں کھلونا بنے رہے
ا ور ٹوٹتے رہے تیری انگٹرائی کی طرح
تیرے بغیر زندگی کی لَے پہ جانِ من
بجتے رہے ہیں روز ہم شہنائی کی طر ح
انسان اپنے آپ میں بنتا ہے بہت کچھ
لیکن ہے نامکمل پڑھائی کی طرح
یارو ہمارے ملک میں ایسے بھی لوگ ہیں
جو ظلم بہت کرتے ہیں کمائی کی طرح
Sarfraz Anthony
ا ب چل د یا ہے چھوڑ کے ہرجائی کی طرح
ہے کون ایسا ہم سفر بتائیے ہمیں
ہرو قت ساتھ جو رہے تنہائی کی طرح
ہم وقت کے ہاتھو ںمیں کھلونا بنے رہے
ا ور ٹوٹتے رہے تیری انگٹرائی کی طرح
تیرے بغیر زندگی کی لَے پہ جانِ من
بجتے رہے ہیں روز ہم شہنائی کی طر ح
انسان اپنے آپ میں بنتا ہے بہت کچھ
لیکن ہے نامکمل پڑھائی کی طرح
یارو ہمارے ملک میں ایسے بھی لوگ ہیں
جو ظلم بہت کرتے ہیں کمائی کی طرح
Sarfraz Anthony
میرے وطن کے لوگ غم زیست سے بے زار ہیں میرے وطن کے لوگ
مہنگائی کا شکار ہیں میرے وطن کے لوگ
ہیں منتظر کبھئ تو بدلے گا یھ نظام
تا عمر انتظار ہیں میرے وطن کے لوگ
پو چھو تو ان کی داستان غم سے بھری ہوئی
د یکھو تو خوش گوار ہیں میرے وطن کے لوگ
میں ا پنے عہد ہ دارو ں سے بس پو چھتا ہوں یھ
کیوں اس قدر لاچار ہیں میرے وطن کے لوگ
میلی نظر جو ڈالے گا اس سر زمین پر
ا س کے لیے تلوار ہیں میرے وطن کے لوگ
مخلص تمھاری سوچ کی گہرائی د یکھ کر
ملنے کو بے قرار ہیں میرے وطن کے لوگ Sarfraz Anthony
مہنگائی کا شکار ہیں میرے وطن کے لوگ
ہیں منتظر کبھئ تو بدلے گا یھ نظام
تا عمر انتظار ہیں میرے وطن کے لوگ
پو چھو تو ان کی داستان غم سے بھری ہوئی
د یکھو تو خوش گوار ہیں میرے وطن کے لوگ
میں ا پنے عہد ہ دارو ں سے بس پو چھتا ہوں یھ
کیوں اس قدر لاچار ہیں میرے وطن کے لوگ
میلی نظر جو ڈالے گا اس سر زمین پر
ا س کے لیے تلوار ہیں میرے وطن کے لوگ
مخلص تمھاری سوچ کی گہرائی د یکھ کر
ملنے کو بے قرار ہیں میرے وطن کے لوگ Sarfraz Anthony