Poetries by WASHMA KHAN
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے "وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے"
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے وشمہ خان وشمہ
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے وشمہ خان وشمہ
"سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا" سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا
ہم پر یہ کسی خواب کا سایہ تو نہیں تھا
دن بھر کی تھکن روح پہ پتھر سی گری تھی
ورنہ ہمیں بستر نے بلایا تو نہیں تھا
ہر شخص بچھڑتے ہوئے خاموش کھڑا تھا
اس شہر میں رونے کا امادہ تو نہیں تھا
اک درد مسلسل تھا رگِ جاں میں اُترتا
یہ زخم کسی ایک کا بخشا تو نہیں تھا
ہم جس کو سمجھتے رہے اپنا ہی مقدر
وہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دنیا تو نہیں تھا
اب تلخئِ حالات نے ایسا ہمیں بدلا
پہلے کبھی لہجہ یہ کڑوا تو نہیں تھا
وشمہ یہ اندھیروں سے محبت بھی عجب ہے
دل ٹوٹ گیا ورنہ اجالا تو نہیں تھا وشمہ خان وشمہ
ہم پر یہ کسی خواب کا سایہ تو نہیں تھا
دن بھر کی تھکن روح پہ پتھر سی گری تھی
ورنہ ہمیں بستر نے بلایا تو نہیں تھا
ہر شخص بچھڑتے ہوئے خاموش کھڑا تھا
اس شہر میں رونے کا امادہ تو نہیں تھا
اک درد مسلسل تھا رگِ جاں میں اُترتا
یہ زخم کسی ایک کا بخشا تو نہیں تھا
ہم جس کو سمجھتے رہے اپنا ہی مقدر
وہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دنیا تو نہیں تھا
اب تلخئِ حالات نے ایسا ہمیں بدلا
پہلے کبھی لہجہ یہ کڑوا تو نہیں تھا
وشمہ یہ اندھیروں سے محبت بھی عجب ہے
دل ٹوٹ گیا ورنہ اجالا تو نہیں تھا وشمہ خان وشمہ
"میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے" "میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے"
ریت کے صحرا میں جیسے کوئی چھاں دیکھی ہے
رات بھر جاگتی آنکھوں میں نمی رہتی ہے
میں نے تکیے پہ تڑپتی ہوئی جاں دیکھی ہے
اپنے حصّے کی خوشی بیچ کے بچوں کے لیے
ہر تھکن ہنستے ہوئے سہتی ہوئی آں دیکھی ہے
بھوک بچوں کی مٹا دے تو سکوں ملتا ہے
روٹی کم تھی مگر بانٹتی واں دیکھی ہے
گھر کی دیوار گرنے لگی جب غم آ کر
سب سے پہلے وہاں ڈھال بنی ساں دیکھی ہے
عمر بھر خود کو جلاتی رہی اک شمع کی طرح
اپنے بچوں میں بکھرتی ہوئی گاں دیکھی ہے
اب بھی رونے لگوں تنہائی میں اُس کو یا د کر
میں نے وشمہ بہت درد بھری آں دیکھی ہے وشمہ خان وشمہ
ریت کے صحرا میں جیسے کوئی چھاں دیکھی ہے
رات بھر جاگتی آنکھوں میں نمی رہتی ہے
میں نے تکیے پہ تڑپتی ہوئی جاں دیکھی ہے
اپنے حصّے کی خوشی بیچ کے بچوں کے لیے
ہر تھکن ہنستے ہوئے سہتی ہوئی آں دیکھی ہے
بھوک بچوں کی مٹا دے تو سکوں ملتا ہے
روٹی کم تھی مگر بانٹتی واں دیکھی ہے
گھر کی دیوار گرنے لگی جب غم آ کر
سب سے پہلے وہاں ڈھال بنی ساں دیکھی ہے
عمر بھر خود کو جلاتی رہی اک شمع کی طرح
اپنے بچوں میں بکھرتی ہوئی گاں دیکھی ہے
اب بھی رونے لگوں تنہائی میں اُس کو یا د کر
میں نے وشمہ بہت درد بھری آں دیکھی ہے وشمہ خان وشمہ
"مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی" "مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی"
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی
سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی
بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی
گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی
شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی
جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی
اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی وشمہ خان وشمہ۔
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی
سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی
بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی
گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی
شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی
جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی
اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی وشمہ خان وشمہ۔
"ماں نے آنکھیں کھول دیں، گھر میں اُجالا ہو گیا" "ماں نے آنکھیں کھول دیں، گھر میں اُجالا ہو گیا"
چاند جیسے اِک دعا کا پھر نزولا ہو گیا
رات بھر دیوار و در سنتے رہے خاموشیاں
صبح اُس کے مسکرانے سے سویرا ہو گیا
خشک ہونٹوں پر تبسم کی نمی اُتری تو پھر
صحن کا بوسیدہ پودا بھی ہرا بھرا ہو گیا
اپنی محنت کی کمائی سے جلایا تھا چراغ
اِک ذرا سی روشنی میں دل بھی یہ بڑ ا ہو گیا
باپ کے چہرے کی تھکن آخر کہاں جاتی رہی
بیٹیوں کو ہنستے دیکھا تو وہ ہلکا ہو گیا
عمر بھر جس کو چھپاتے پھر رہے تھے آنسوؤں میں
اِک محبت کے ملنے سے وہ قصہ ہو گیا
اب و شمہ اس شہر میں تنہا نہیں لگتا مجھے
تیری یادوں کا مرے دل میں بسیرا ہو گیا وشمہ خان وشمہ
چاند جیسے اِک دعا کا پھر نزولا ہو گیا
رات بھر دیوار و در سنتے رہے خاموشیاں
صبح اُس کے مسکرانے سے سویرا ہو گیا
خشک ہونٹوں پر تبسم کی نمی اُتری تو پھر
صحن کا بوسیدہ پودا بھی ہرا بھرا ہو گیا
اپنی محنت کی کمائی سے جلایا تھا چراغ
اِک ذرا سی روشنی میں دل بھی یہ بڑ ا ہو گیا
باپ کے چہرے کی تھکن آخر کہاں جاتی رہی
بیٹیوں کو ہنستے دیکھا تو وہ ہلکا ہو گیا
عمر بھر جس کو چھپاتے پھر رہے تھے آنسوؤں میں
اِک محبت کے ملنے سے وہ قصہ ہو گیا
اب و شمہ اس شہر میں تنہا نہیں لگتا مجھے
تیری یادوں کا مرے دل میں بسیرا ہو گیا وشمہ خان وشمہ
جب تک سفر میں ہوں مری ماں دعا میں رہتی ہے جب تک سفر میں ہوں مری ماں دعا میں رہتی ہے
نگاہ اُس کی مرے ہر نقشِ پا میں رہتی ہے
میں جب بھی گھر سے نکلوں تو دل یہ کہتا ہے
وہ ایک ہستی مرے حق کی صدا میں رہتی ہے
ہوا کے رخ پہ بھی ماں کی نظر ٹھہرتی ہے
وہ میرے واسطے ہر دم وفا میں رہتی ہے
میں ڈوب جاؤں اگر غم کے کسی اندھیرے میں
مرے لیے وہ چراغوں کی ضیا میں رہتی ہے
کبھی جو ٹوٹ کے بکھروں تو یہ گماں ہو مجھے
مری ہر ایک شکست اُس کی رضا میں رہتی ہے
وہ میرے درد کو خود سے جدا نہیں کرتی
عجیب بات ہے، میری قضا میں رہتی ہے
وشمہ یہ اُس کی محبت کا معجزہ ہی تو ہے
مری تمام خوشی اُس کی دعا میں رہتی ہے وشمہ خان وشمہ
نگاہ اُس کی مرے ہر نقشِ پا میں رہتی ہے
میں جب بھی گھر سے نکلوں تو دل یہ کہتا ہے
وہ ایک ہستی مرے حق کی صدا میں رہتی ہے
ہوا کے رخ پہ بھی ماں کی نظر ٹھہرتی ہے
وہ میرے واسطے ہر دم وفا میں رہتی ہے
میں ڈوب جاؤں اگر غم کے کسی اندھیرے میں
مرے لیے وہ چراغوں کی ضیا میں رہتی ہے
کبھی جو ٹوٹ کے بکھروں تو یہ گماں ہو مجھے
مری ہر ایک شکست اُس کی رضا میں رہتی ہے
وہ میرے درد کو خود سے جدا نہیں کرتی
عجیب بات ہے، میری قضا میں رہتی ہے
وشمہ یہ اُس کی محبت کا معجزہ ہی تو ہے
مری تمام خوشی اُس کی دعا میں رہتی ہے وشمہ خان وشمہ
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں سردر و کیف ہوں میں، زندگی بھر کی ضرورت ہوں
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں وشمہ خان وشمہ
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں وشمہ خان وشمہ
ظلم و ستم کی رات نے دل کو جلا دیا ظلم و ستم کی رات نے دل کو جلا دیا
ہر ایک خوابِ صبح کو آنکھوں سے مٹا دیا
ہم نے وفا کی راہ میں کیا کچھ نہ کھو دیا
اس نے جفا کے نام پہ سب کچھ لٹا دیا
چپ تھے تو اور بڑھ گئے تہمت کے سلسلے
بولے تو اپنے آپ کو سب نے سزا دیا
جو بھی ملا وہ زخم ہی دے کر چلا گیا
کس کس کو ہم کہیں کہ ہمیں کس نے کیا دیا
صحرا بھی رو پڑا مرے اشکوں کی آگ سے
دریا نے میرے دکھ کو بھی آخر بہا دیا
دیوارِ شہر دیکھ کے لرزاں ہوئی نظر
ہر سمت خوف نے کوئی پہرہ بٹھا دیا وشمہ خان وشمہ
ہر ایک خوابِ صبح کو آنکھوں سے مٹا دیا
ہم نے وفا کی راہ میں کیا کچھ نہ کھو دیا
اس نے جفا کے نام پہ سب کچھ لٹا دیا
چپ تھے تو اور بڑھ گئے تہمت کے سلسلے
بولے تو اپنے آپ کو سب نے سزا دیا
جو بھی ملا وہ زخم ہی دے کر چلا گیا
کس کس کو ہم کہیں کہ ہمیں کس نے کیا دیا
صحرا بھی رو پڑا مرے اشکوں کی آگ سے
دریا نے میرے دکھ کو بھی آخر بہا دیا
دیوارِ شہر دیکھ کے لرزاں ہوئی نظر
ہر سمت خوف نے کوئی پہرہ بٹھا دیا وشمہ خان وشمہ
ماں نے جو درد دل کی صدا دی، نہیں سنا ماں نے جو درد دل کی صدا دی، نہیں سنا
اولاد نے کوئی بھی جفا دی، نہیں سنا
جس نے لہو سے سینچ کے رکھا تھا ہر چمن
اس ماں کی ایک حرفِ دعا بھی نہیں سنا
راتوں کو جاگ جاگ کے پالا تھا جن کو وہ
انہوں نے اس کے دل کی صدا بھی نہیں سنا
روٹی بھی خود نہ کھائی، کھلائی تھی جن کو ماں
ان بچوں نے اس کی یہ وفا بھی نہیں سنا
بیمار ماں پڑی تھی تڑپتی ہوئی مگر
بیٹوں نے اس کی کوئی صدا بھی نہیں سنا
گھر جس کے دم سے آج بھی آباد تھا کبھی
اس کو ہی اس گھر میں کہیں جا بھی نہیں سنا
وشمہؔ یہ کیسا عہد ہے، کیسی یہ بے حسی
ماں نے جو رو کے مانگی دعا بھی نہیں سنا وشمہ خان وشمہ
اولاد نے کوئی بھی جفا دی، نہیں سنا
جس نے لہو سے سینچ کے رکھا تھا ہر چمن
اس ماں کی ایک حرفِ دعا بھی نہیں سنا
راتوں کو جاگ جاگ کے پالا تھا جن کو وہ
انہوں نے اس کے دل کی صدا بھی نہیں سنا
روٹی بھی خود نہ کھائی، کھلائی تھی جن کو ماں
ان بچوں نے اس کی یہ وفا بھی نہیں سنا
بیمار ماں پڑی تھی تڑپتی ہوئی مگر
بیٹوں نے اس کی کوئی صدا بھی نہیں سنا
گھر جس کے دم سے آج بھی آباد تھا کبھی
اس کو ہی اس گھر میں کہیں جا بھی نہیں سنا
وشمہؔ یہ کیسا عہد ہے، کیسی یہ بے حسی
ماں نے جو رو کے مانگی دعا بھی نہیں سنا وشمہ خان وشمہ
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا نئے زمانے نے رشتوں کا رنگ بدل ڈالا
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
جو ہاتھ تھام کے چلنا سکھایا کرتے تھے
انہی کے سامنے لہجہ بھی تنگ بدل ڈالا
ادب کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں شاید
گھروں میں بچوں نے ہر اک ڈھنگ بدل ڈالا
نہ پوچھ حال کبھی، نہ خیال کوئی رکھا
محبتوں کو بھی جیسے اک جنگ بدل ڈالا
وہ ماں جو رات بھر جاگے تو نیند آ جائے
اسی کے سامنے بیٹے نے رنگ بدل ڈالا
وہ باپ جس نے پسینہ بہا کے گھر رکھا
اسی پہ طعنہ دیا، سارا ڈھنگ بدل ڈالا
"وشمہ" یہ وقت بھی کیا عجب امتحان لایا
اولاد نے ہی رشتوں کا سنگ بدل ڈالا وشمہ خان وشمہ
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
جو ہاتھ تھام کے چلنا سکھایا کرتے تھے
انہی کے سامنے لہجہ بھی تنگ بدل ڈالا
ادب کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں شاید
گھروں میں بچوں نے ہر اک ڈھنگ بدل ڈالا
نہ پوچھ حال کبھی، نہ خیال کوئی رکھا
محبتوں کو بھی جیسے اک جنگ بدل ڈالا
وہ ماں جو رات بھر جاگے تو نیند آ جائے
اسی کے سامنے بیٹے نے رنگ بدل ڈالا
وہ باپ جس نے پسینہ بہا کے گھر رکھا
اسی پہ طعنہ دیا، سارا ڈھنگ بدل ڈالا
"وشمہ" یہ وقت بھی کیا عجب امتحان لایا
اولاد نے ہی رشتوں کا سنگ بدل ڈالا وشمہ خان وشمہ
سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں دوستو کی نزر!
سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں
ہر سانس میں خاموش سی اک غم رہتی ہیں
وہ جو کبھی ماں کے آنگن میں ہنستی تھی کھل کر
اب اپنی ہی ہنسی سے بھی بے دم رہتی ہیں
رسموں کے اندھیرے میں جکڑی ہوئی اک لڑکی
اپنے ہی نصیبوں سے اکثر کم رہتی ہیں
نہ شکایت کی اجازت، نہ سہارا کوئی
بس صبر کی زنجیر میں پیہم رہتی ہیں
کبھی آنکھ سے ٹپکا جو آنسو تو چھپایا گیا
یوں درد کی دیواریں بھی باہم رہتی ہیں
“وشمہ” یہ کیسا جہاں ہے کہ خوشی روٹھ گئی
اور خواہشیں بس دل میں ہی مدہم رہتی ہیں
وشمہ خان وشمہ
سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں
ہر سانس میں خاموش سی اک غم رہتی ہیں
وہ جو کبھی ماں کے آنگن میں ہنستی تھی کھل کر
اب اپنی ہی ہنسی سے بھی بے دم رہتی ہیں
رسموں کے اندھیرے میں جکڑی ہوئی اک لڑکی
اپنے ہی نصیبوں سے اکثر کم رہتی ہیں
نہ شکایت کی اجازت، نہ سہارا کوئی
بس صبر کی زنجیر میں پیہم رہتی ہیں
کبھی آنکھ سے ٹپکا جو آنسو تو چھپایا گیا
یوں درد کی دیواریں بھی باہم رہتی ہیں
“وشمہ” یہ کیسا جہاں ہے کہ خوشی روٹھ گئی
اور خواہشیں بس دل میں ہی مدہم رہتی ہیں
وشمہ خان وشمہ
دل نے مگر یہ مان لیا، آپ کیا نہیں " ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیں"
دل نے مگر یہ مان لیا، آپ کیا نہیں
ہم نے تو چاہا تھا فقط سچ کی روشنی
آپ نے پھر بھی یہ کہا، ہم سے خطا نہیں
آنکھوں میں اک اُداس سی چمک رہ گئی ہے اب
پہلے یہ حال تھا کہ کوئی غم ذرا نہیں
وہ بھی تو اپنے وعدوں سے مُکرے ہیں بارہا
پھر بھی وہ کہتے پھرتے ہیں ہم میں وفا نہیں
کیسے یقین دل کو دلائیں کہ سچ یہی
ہم نے کبھی بھی چاہتوں کو آزما نہیں
رستے جدا ہوئے تو یہ محسوس یوں ہوا
جیسے کوئی بھی اپنے سوا آشنا نہیں
وشمہ" یہ سچ ہے آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں
پر آپ کو بھی اس کا ابھی تک پتہ نہیں وشمہ خان وشمہ
دل نے مگر یہ مان لیا، آپ کیا نہیں
ہم نے تو چاہا تھا فقط سچ کی روشنی
آپ نے پھر بھی یہ کہا، ہم سے خطا نہیں
آنکھوں میں اک اُداس سی چمک رہ گئی ہے اب
پہلے یہ حال تھا کہ کوئی غم ذرا نہیں
وہ بھی تو اپنے وعدوں سے مُکرے ہیں بارہا
پھر بھی وہ کہتے پھرتے ہیں ہم میں وفا نہیں
کیسے یقین دل کو دلائیں کہ سچ یہی
ہم نے کبھی بھی چاہتوں کو آزما نہیں
رستے جدا ہوئے تو یہ محسوس یوں ہوا
جیسے کوئی بھی اپنے سوا آشنا نہیں
وشمہ" یہ سچ ہے آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں
پر آپ کو بھی اس کا ابھی تک پتہ نہیں وشمہ خان وشمہ
"دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے"
"دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے"
ہم مسکرا رہے ہیں غموں سے نکھار کے
اک خواب سا بسا ہے تری یاد کا نگر
ہم جی رہے ہیں خود کو خیالوں میں مار کے
تجھ سے بچھڑ کے دل کو سکوں مل سکا نہیں
بیٹھے ہیں اپنی روح کو تنہا گزار کے
دن رات ایک تیری تمنا میں جل گئے
ہم رہ گئے ہیں وقت کی صورت سنوار کے
دنیا کے سب ہی رنگ لگے پھیکے اس قدر
جب دیکھ لی ہے صورت تیری ایک بار کے
ہر سمت تیرے نام کی خوشبو بکھر گئی
ہم چل پڑے ہیں راستے خود کو بکھار کے
وشمہ یہ عشق کیا ہے عجب امتحان ہے
جیتے ہیں لوگ خود کو ہی اکثر ہار کے
وشمہ خان وشمہ
"دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے"
ہم مسکرا رہے ہیں غموں سے نکھار کے
اک خواب سا بسا ہے تری یاد کا نگر
ہم جی رہے ہیں خود کو خیالوں میں مار کے
تجھ سے بچھڑ کے دل کو سکوں مل سکا نہیں
بیٹھے ہیں اپنی روح کو تنہا گزار کے
دن رات ایک تیری تمنا میں جل گئے
ہم رہ گئے ہیں وقت کی صورت سنوار کے
دنیا کے سب ہی رنگ لگے پھیکے اس قدر
جب دیکھ لی ہے صورت تیری ایک بار کے
ہر سمت تیرے نام کی خوشبو بکھر گئی
ہم چل پڑے ہیں راستے خود کو بکھار کے
وشمہ یہ عشق کیا ہے عجب امتحان ہے
جیتے ہیں لوگ خود کو ہی اکثر ہار کے
وشمہ خان وشمہ
"مختلف طریقوں سے لوگ دل چراتے ہیں" "مختلف طریقوں سے لوگ دل چراتے ہیں"
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
وشمہ خان وشمہ
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
وشمہ خان وشمہ
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش "ہر دور میں ہوتی رہی طاقت کی پرستش"
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
وشمہ خان وشمہ
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
وشمہ خان وشمہ
وہ پیار دے گیا ہے جتا کر نہیں گیا "وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا"
دل کی گلی میں شور مچا کر نہیں گیا
ہم دیکھتے ہی رہ گئے اس کی طرف مگر
وہ پلٹ کر بھی ہم کو بلا کر نہیں گیا
آنکھوں میں چھوڑ گیا ہے وہی اداسیاں
خوابوں کا شہر تھا جو بسا کر نہیں گیا
ہم نے تو اس کے نام پہ سب کچھ لٹا دیا
وہ اپنے دل کا حال سنا کر نہیں گیا
ویران ہو گئی ہیں مرے دل کی بستیاں
وہ روشنی کا دیپ جلا کر نہیں گیا
اب تک اسی خیال میں دل ڈوبتا ابھرتا
وہ ایک بار ہمیں منا کر نہیں گیا
وشمہ یہ درد دل میں رہے گا تمام عمر
وہ پیار دے گیا ہے جتا کر نہیں گیا وشمہ خان وشمہ
دل کی گلی میں شور مچا کر نہیں گیا
ہم دیکھتے ہی رہ گئے اس کی طرف مگر
وہ پلٹ کر بھی ہم کو بلا کر نہیں گیا
آنکھوں میں چھوڑ گیا ہے وہی اداسیاں
خوابوں کا شہر تھا جو بسا کر نہیں گیا
ہم نے تو اس کے نام پہ سب کچھ لٹا دیا
وہ اپنے دل کا حال سنا کر نہیں گیا
ویران ہو گئی ہیں مرے دل کی بستیاں
وہ روشنی کا دیپ جلا کر نہیں گیا
اب تک اسی خیال میں دل ڈوبتا ابھرتا
وہ ایک بار ہمیں منا کر نہیں گیا
وشمہ یہ درد دل میں رہے گا تمام عمر
وہ پیار دے گیا ہے جتا کر نہیں گیا وشمہ خان وشمہ
کچھ زخم ترے پیار کے سکھلائے ہوئے ہیں کچھ صرف مرے بغض میں آئے ہوئے ہیں
کچھ زخم ترے پیار کے سکھلائے ہوئے ہیں
ہم نے تو جلا دی ہیں سبھی یاد کی تصویریں
کچھ خواب مگر آنکھ میں بس آئے ہوئے ہیں
وہ شخص جو ہنستا تھا مرے ساتھ ہمیشہ
آج اس کی نگاہوں میں بھی سائے ہوئے ہیں
دل توڑ کے وہ کہہ گیا مجبوری تھی شاہد
کچھ فیصلے قسمت نے بھی ٹھرائے ہوئے ہیں
ہم نے بھی محبت میں کوئی ضد نہیں رکھی
بس درد تھے جو خود ہی چلے آئے ہوئے ہیں
اک عمر لگی خود کو سمجھ میں وشمہ کو
کچھ لوگ مگر آج بھی پہچانے ہوئے ہیں وشمہ خان وشمہ
کچھ زخم ترے پیار کے سکھلائے ہوئے ہیں
ہم نے تو جلا دی ہیں سبھی یاد کی تصویریں
کچھ خواب مگر آنکھ میں بس آئے ہوئے ہیں
وہ شخص جو ہنستا تھا مرے ساتھ ہمیشہ
آج اس کی نگاہوں میں بھی سائے ہوئے ہیں
دل توڑ کے وہ کہہ گیا مجبوری تھی شاہد
کچھ فیصلے قسمت نے بھی ٹھرائے ہوئے ہیں
ہم نے بھی محبت میں کوئی ضد نہیں رکھی
بس درد تھے جو خود ہی چلے آئے ہوئے ہیں
اک عمر لگی خود کو سمجھ میں وشمہ کو
کچھ لوگ مگر آج بھی پہچانے ہوئے ہیں وشمہ خان وشمہ
دل کے ملبے سے ہم یادیں اٹھائیں کیسے دل کے ملبے سے ہم یادیں اٹھائیں کیسے
ٹوٹے خوابوں کو نئی شکل دلائیں کیسے
عمر گزری ہے فقط خود کو مناتے ہوئے
ہم کسی اور کی خاطر مسکرائیں کیسے
زخم اتنے ہیں کہ چھپتے ہی نہیں آنکھوں سے
حالِ دل شہر کے لوگوں کو بتائیں کیسے
وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نبھاؤں گا عمر بھر
اب اسی شخص پہ ہم ناز اٹھائیں کیسے
خامشی اوڑھ کے جینا بھی تو آساں نہ ہوا
شورِ تنہائی کو سینے سے دبائیں کیسے
اپنے ہی سائے نے آخر ہمیں پہچانا نہیں
آئینہ بن کے خود وشمہ رخ دکھائیں کیسے وشمہ خان وشمہ
ٹوٹے خوابوں کو نئی شکل دلائیں کیسے
عمر گزری ہے فقط خود کو مناتے ہوئے
ہم کسی اور کی خاطر مسکرائیں کیسے
زخم اتنے ہیں کہ چھپتے ہی نہیں آنکھوں سے
حالِ دل شہر کے لوگوں کو بتائیں کیسے
وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نبھاؤں گا عمر بھر
اب اسی شخص پہ ہم ناز اٹھائیں کیسے
خامشی اوڑھ کے جینا بھی تو آساں نہ ہوا
شورِ تنہائی کو سینے سے دبائیں کیسے
اپنے ہی سائے نے آخر ہمیں پہچانا نہیں
آئینہ بن کے خود وشمہ رخ دکھائیں کیسے وشمہ خان وشمہ
انسان کیا ہے وہ جسے خوفِ فنا نہیں انسان کیا ہے وہ جسے خوفِ فنا نہیں
جیتا ہے اس طرح کہ جینے کی دعا نہیں
ہم نے تو عمر بھر نبھائی ہے خاموشی
وہ پوچھتے رہے، مگر سننے کا حوصلہ نہیں
ہر ایک زخم وقت نے وعدہ کیا تھا بھرنے کا
کچھ زخم ایسے تھے جنہیں وقت بھی ملا نہیں
وہ ساتھ تھا تو لگتا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا
وہ گیا تو یہ بھی سمجھ آیا، کچھ تھا ہی نہیں
ہم اپنی ہار کو بھی اوڑھ لیتے ہیں مسکرا کر
یہ اور بات ہے کہ دل ہارا ہے، ہنسا نہیں
وشمہؔ یہی حقیقت ہے اس بے رحم سفر کی
جو اپنا لگتا ہے، وہی اکثر اپنا نہیں وشمہ خان وشمہ
جیتا ہے اس طرح کہ جینے کی دعا نہیں
ہم نے تو عمر بھر نبھائی ہے خاموشی
وہ پوچھتے رہے، مگر سننے کا حوصلہ نہیں
ہر ایک زخم وقت نے وعدہ کیا تھا بھرنے کا
کچھ زخم ایسے تھے جنہیں وقت بھی ملا نہیں
وہ ساتھ تھا تو لگتا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا
وہ گیا تو یہ بھی سمجھ آیا، کچھ تھا ہی نہیں
ہم اپنی ہار کو بھی اوڑھ لیتے ہیں مسکرا کر
یہ اور بات ہے کہ دل ہارا ہے، ہنسا نہیں
وشمہؔ یہی حقیقت ہے اس بے رحم سفر کی
جو اپنا لگتا ہے، وہی اکثر اپنا نہیں وشمہ خان وشمہ