Poetries by Wajid Imran
سب بھول چکا ہوں رسم وفا خلوص و مہر سب بھول چکا ہوں
غیروں کی عنایت اپنوں کا قہر سب بھول چکا ہوں
اتنا یاد ہے اِس میں شامل تھی اُس کی بھی مرضی
کس نے کیا تھا مجھے در بدر سب بھول چکا ہوں
کسی کی محبت نے مجھے بھی شاداب کیا تھا کبھی
وہ حسیں دن رنگین شام و سحر سب بھول چکا ہوں
اب تو خود سے بھی بات کرتے ہوئے جی ڈرتا ہے
ہوتی تھی کسی سے گفتگو آٹھوں پہر سب بھول چکا ہوں Qatmeer
غیروں کی عنایت اپنوں کا قہر سب بھول چکا ہوں
اتنا یاد ہے اِس میں شامل تھی اُس کی بھی مرضی
کس نے کیا تھا مجھے در بدر سب بھول چکا ہوں
کسی کی محبت نے مجھے بھی شاداب کیا تھا کبھی
وہ حسیں دن رنگین شام و سحر سب بھول چکا ہوں
اب تو خود سے بھی بات کرتے ہوئے جی ڈرتا ہے
ہوتی تھی کسی سے گفتگو آٹھوں پہر سب بھول چکا ہوں Qatmeer
کہاں سے لائے بات محبت کی تھی شرطِ وفا کہاں سے لائے
دشت میں بتاؤ تو تم گھٹا کہاں سے لائے
مقروضِ وقت ہوں کہ جی رہا ہوں ابتک
زیست کرنے کا ہنر فقط ہَوا کہاں سے لائے
یہ بھی خوب رہی کہتے ہو ڈھونڈ لاؤ کہیں سے
جو ہو تجھ جیسا اُسے مجھ ایسا کہاں سے لائے
نہ پوچھ اِس شہرِ تنگ دل میں ہم ایسے تہی داماں
مرنے کا ہنر جینے کا حوصلہ کہاں سے لائے
تیرے بعد اُجڑ گئی اے میرے رفیق حیات
وہ بزم طرب دل تباہ ! کہاں سے لائے
بہہ گئے ہیں جو وقت کی روانی میں اُنیں واجدؔ
ڈھونڈنے نکلے بھی تو عمر گذشتہ کہاں سے لائے Wajid Imran
دشت میں بتاؤ تو تم گھٹا کہاں سے لائے
مقروضِ وقت ہوں کہ جی رہا ہوں ابتک
زیست کرنے کا ہنر فقط ہَوا کہاں سے لائے
یہ بھی خوب رہی کہتے ہو ڈھونڈ لاؤ کہیں سے
جو ہو تجھ جیسا اُسے مجھ ایسا کہاں سے لائے
نہ پوچھ اِس شہرِ تنگ دل میں ہم ایسے تہی داماں
مرنے کا ہنر جینے کا حوصلہ کہاں سے لائے
تیرے بعد اُجڑ گئی اے میرے رفیق حیات
وہ بزم طرب دل تباہ ! کہاں سے لائے
بہہ گئے ہیں جو وقت کی روانی میں اُنیں واجدؔ
ڈھونڈنے نکلے بھی تو عمر گذشتہ کہاں سے لائے Wajid Imran
نظر میں رنگ تمھارے خیال ہی کے تو ہیں نظر میں رنگ تمھارے خیال ہی کے تو ہیں
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزل ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ دیتا ہے کون عشق میں جان
سو ہم جواب تمھارے سوال ہی کے تو ہیں
شہا! ملال نہ رکھ خاک اڑانے والوں سے
کہ یہ گواہ تیرے ملک و مال ہی کے تو ہیں
Wajid Imran
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزل ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ دیتا ہے کون عشق میں جان
سو ہم جواب تمھارے سوال ہی کے تو ہیں
شہا! ملال نہ رکھ خاک اڑانے والوں سے
کہ یہ گواہ تیرے ملک و مال ہی کے تو ہیں
Wajid Imran
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی!!!!
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی !!
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
Wajid Imran
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی!!!!
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی !!
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
Wajid Imran
مثال اب نہیں ہے کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُر سوال لے کے ہمیں کُو بہ کُو ہے پھِرنا
ہو کوئی جواب بر لب یہ سوال اب نہیں ہے qatmeer
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُر سوال لے کے ہمیں کُو بہ کُو ہے پھِرنا
ہو کوئی جواب بر لب یہ سوال اب نہیں ہے qatmeer
ہاتھوں پہ آرزو کی حنا بھی نہیں لگی ناواقف و شناسا ذرا بھی نہیں لگی
خوش بھی نہیں ہوئی وہ خفا بھی نہیں لگی
خواہش کی جلتی دھُوپ کی رُت بھی گزر گئی
یخ بستہ موسموں کی ہوا بھی نہیں لگی
دُکھ بھی نفس کی آنکھ کا کاجل نہ بن سکا
اچھی بدن پہ سُکھ کی قبا بھی نہیں لگی
شاخِ خلش پہ سُوکھ گئی لمس کی کلی
ہاتھوں پہ آرزو کی حنا بھی نہیں لگی
مہکا نہیں سکون کی ساعت کا کوئی پھول
اس سال دوستوں کی دُعا بھی نہیں لگی
مت پوچھ کس خیال کا بادل تنا رہا
صحرا میں تیز دھوپ ذرا بھی نہیں لگی
دستک تو نصف شب درِ احساس پر ہوئی
مشفق سپردگی کی صدا بھی نہیں لگی
احمد تمام عمر وفا کا سفر کیا
دشتِ اَنا میں ضربِ خطا بھی نہیں لگی
wajid imran
خوش بھی نہیں ہوئی وہ خفا بھی نہیں لگی
خواہش کی جلتی دھُوپ کی رُت بھی گزر گئی
یخ بستہ موسموں کی ہوا بھی نہیں لگی
دُکھ بھی نفس کی آنکھ کا کاجل نہ بن سکا
اچھی بدن پہ سُکھ کی قبا بھی نہیں لگی
شاخِ خلش پہ سُوکھ گئی لمس کی کلی
ہاتھوں پہ آرزو کی حنا بھی نہیں لگی
مہکا نہیں سکون کی ساعت کا کوئی پھول
اس سال دوستوں کی دُعا بھی نہیں لگی
مت پوچھ کس خیال کا بادل تنا رہا
صحرا میں تیز دھوپ ذرا بھی نہیں لگی
دستک تو نصف شب درِ احساس پر ہوئی
مشفق سپردگی کی صدا بھی نہیں لگی
احمد تمام عمر وفا کا سفر کیا
دشتِ اَنا میں ضربِ خطا بھی نہیں لگی
wajid imran
رہنے دیتے تم مرا دُکھ تر و تازہ نہیں رہنے دیتے
دشت کو ابر تو پیاسا نہیں رہنے دیتے؟
واہمے نت نئی اشکال بنا لیتے ہیں
ورقِ دل کو بھی سادہ نہیں رہنے دیتے
کتنے بے رحم ہیں یہ ہاتھ کہ فصلِ گل میں
شجر سبز پہ پتا نہیں رہنے دیتے
اب تو کچھ ایسے بچھڑ جاتے ہیں یارانِ کہن
آنکھ میں عکسِ تمنا نہیں رہنے دیتے
میری اَچھائیاں آئینہ بنانے والو!
کیوں مجھے شہر میں رُسوا نہیں رہنے دیتے
کتنے سفاک طبیعت ہیں شناسا چہرے
ایک لمحے کو بھی تنہا نہیں رہنے دیتے
ہم سے بے درد زمانے میں نہ دیکھے ہوں گے
اپنے ہی گھر کو جو اپنا نہیں رہنے دیتے
اب ترا نام جفا پیشہ ہوا کے جھونکے
ریگِ صحرا پہ بھی لکھا نہیں رہنے دیتے
اتنے سورج نکل آئے ہیں اُفق پر احمد
زیر دیوار بھی سایہ نہیں رہنے دیتے wajid imran
دشت کو ابر تو پیاسا نہیں رہنے دیتے؟
واہمے نت نئی اشکال بنا لیتے ہیں
ورقِ دل کو بھی سادہ نہیں رہنے دیتے
کتنے بے رحم ہیں یہ ہاتھ کہ فصلِ گل میں
شجر سبز پہ پتا نہیں رہنے دیتے
اب تو کچھ ایسے بچھڑ جاتے ہیں یارانِ کہن
آنکھ میں عکسِ تمنا نہیں رہنے دیتے
میری اَچھائیاں آئینہ بنانے والو!
کیوں مجھے شہر میں رُسوا نہیں رہنے دیتے
کتنے سفاک طبیعت ہیں شناسا چہرے
ایک لمحے کو بھی تنہا نہیں رہنے دیتے
ہم سے بے درد زمانے میں نہ دیکھے ہوں گے
اپنے ہی گھر کو جو اپنا نہیں رہنے دیتے
اب ترا نام جفا پیشہ ہوا کے جھونکے
ریگِ صحرا پہ بھی لکھا نہیں رہنے دیتے
اتنے سورج نکل آئے ہیں اُفق پر احمد
زیر دیوار بھی سایہ نہیں رہنے دیتے wajid imran
نہیں دیکھا جاتا اشک اپنا ہو کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا
موج در موج اُلجھنے کی ہوس بے معنی
ڈوبنا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا
تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا
کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن
دل پہ اُس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا Wajid Imran
ابر کی زد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا
موج در موج اُلجھنے کی ہوس بے معنی
ڈوبنا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا
تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا
کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن
دل پہ اُس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا Wajid Imran
دیدۂ بے باک تَر ہوئے خوں میں کبھی خاک پہن کر آئے
ہم ہمیشہ نئی پوشاک پہن کر آئے
اِک عجب رنگ سے نکلا وہ سرِ راہ کہ لوگ
جسم پر دیدۂ بے باک پہن کر آئے
ہم نے صدیوں کی ہتھیلی پر رکھی ہیں آنکھیں
کوئی لمحہ ترا ادراک پہن کر آئے
سانحہ کون سا گزرا ہے صبا سے پوچھو
چند جھونکے خس و خاشاک پہن کر آئے
زخم کو ضد تھی مسیحائی سے اب کے ورنہ
حرفِ مرہم کئی چالاک پہن کر آئے
آج ملنا تھا اُسے زخم چھپا کر محسن
ہم مگر جامۂ صد چاک پہن کر آئے Wajid Imran
ہم ہمیشہ نئی پوشاک پہن کر آئے
اِک عجب رنگ سے نکلا وہ سرِ راہ کہ لوگ
جسم پر دیدۂ بے باک پہن کر آئے
ہم نے صدیوں کی ہتھیلی پر رکھی ہیں آنکھیں
کوئی لمحہ ترا ادراک پہن کر آئے
سانحہ کون سا گزرا ہے صبا سے پوچھو
چند جھونکے خس و خاشاک پہن کر آئے
زخم کو ضد تھی مسیحائی سے اب کے ورنہ
حرفِ مرہم کئی چالاک پہن کر آئے
آج ملنا تھا اُسے زخم چھپا کر محسن
ہم مگر جامۂ صد چاک پہن کر آئے Wajid Imran
اذان دینے سے کوئی بلال ہوتا ہے ہر ایک چہرہ یہاں پر گلال ہوتا ہے
تمہاے شہر میں پتھر بھی لعل ہوتا ہے
کبھی کبھی تو میرے گھر میں کچھ نہیں ہوتا
مگر جو ہوتا ہے رزقِ حلال ہوتا ہے
میں شہرتوں کی بلندی پہ جا نہیں سکتا
جہاں عروج پہ پہنچو زوال ہوتا ہے
میں اپنے آپ کو سید تو لکھ نہیں سکتا
اذان دینے سے کوئی بلال ہوتا ہے Wajid Imran
تمہاے شہر میں پتھر بھی لعل ہوتا ہے
کبھی کبھی تو میرے گھر میں کچھ نہیں ہوتا
مگر جو ہوتا ہے رزقِ حلال ہوتا ہے
میں شہرتوں کی بلندی پہ جا نہیں سکتا
جہاں عروج پہ پہنچو زوال ہوتا ہے
میں اپنے آپ کو سید تو لکھ نہیں سکتا
اذان دینے سے کوئی بلال ہوتا ہے Wajid Imran
انگلیاں کٹتے ہی تحفے میں انگوٹھی مل گئی مدتوں پہلے جو ڈوبی تھی وہ پونجی مل گئی
جو کبھی دریا میں پھینکی تھی وہ نیکی مل گئی
خود کشی کرنے پہ آمادہ تھی ناکامی میری
پھر مجھے دیوار پر چڑھتی یہ چیونٹی مل گئی
مَیں اِسی مٹی سے اُٹھا تھا بگولے کی طرح
اور پھر ایک دِن اِسی مٹی سے مٹی مل گئی
میں اِسے انعام سمجھوں یا سزا کا نام دوں
انگلیاں کٹتے ہی تحفے میں انگوٹھی مل گئی Wajid Imran
جو کبھی دریا میں پھینکی تھی وہ نیکی مل گئی
خود کشی کرنے پہ آمادہ تھی ناکامی میری
پھر مجھے دیوار پر چڑھتی یہ چیونٹی مل گئی
مَیں اِسی مٹی سے اُٹھا تھا بگولے کی طرح
اور پھر ایک دِن اِسی مٹی سے مٹی مل گئی
میں اِسے انعام سمجھوں یا سزا کا نام دوں
انگلیاں کٹتے ہی تحفے میں انگوٹھی مل گئی Wajid Imran
میری خواہش ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اِس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
کم سے کم بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطر
ایسی مٹی میں ملانا کہ کھلونا ہو جاؤں
سوچتا ہوں تو چھلک اُٹھتی ہیں آنکھیں لیکن
تیرے بارے میں نہ سوچوں تو اکیلا ہو جاؤں
چارہ گر تیری مہارت پہ یقیں ہے لیکن
کیا ضروری ہے کہ ہر بار میں اچھا ہو جاؤں Wajid Imran
ماں سے اِس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
کم سے کم بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطر
ایسی مٹی میں ملانا کہ کھلونا ہو جاؤں
سوچتا ہوں تو چھلک اُٹھتی ہیں آنکھیں لیکن
تیرے بارے میں نہ سوچوں تو اکیلا ہو جاؤں
چارہ گر تیری مہارت پہ یقیں ہے لیکن
کیا ضروری ہے کہ ہر بار میں اچھا ہو جاؤں Wajid Imran
رکھتے ہیں زمانے سے یہ کیسا گماں رکھتے ہیں
بڑے پیڑ بھی کبھی سائباں رکھتے ہیں
وہ جگہ بن جاتی ہے معبتر سدا کے لئے
ہم ناچیز جبیں اپنی جہاں رکھتے ہیں
اُنہیں دُھوپ کا کوئی ڈر نہیں ہوتا کبھی
ساتھ اپنے جو محبت کا سائباں رکھتے ہیں
یہ اور بات نظر آتے ہیں اکیلے تم کو
ہم ساتھ اپنے مگر اِک جہاں رکھتے ہیں
ہو چکے ہیں اعضا ضعیف یہ بجا مگر واجد
یہ کم تو نہیں کہ دل ابھی تک جواں رکھتے ہیں
Wajid Imran
بڑے پیڑ بھی کبھی سائباں رکھتے ہیں
وہ جگہ بن جاتی ہے معبتر سدا کے لئے
ہم ناچیز جبیں اپنی جہاں رکھتے ہیں
اُنہیں دُھوپ کا کوئی ڈر نہیں ہوتا کبھی
ساتھ اپنے جو محبت کا سائباں رکھتے ہیں
یہ اور بات نظر آتے ہیں اکیلے تم کو
ہم ساتھ اپنے مگر اِک جہاں رکھتے ہیں
ہو چکے ہیں اعضا ضعیف یہ بجا مگر واجد
یہ کم تو نہیں کہ دل ابھی تک جواں رکھتے ہیں
Wajid Imran