Poetries by Noor
جانے کس امید پر آس لگائے بیٹھا ہے یہ دل اک پل میں ہی اکثر رستے بدل جایا کرتے ہیں
منزل پر پہنچ کر ہمسفر چھوٹ جایا کرتے ہیں
عجب ہے یہ محبت کا دستور بھی نور
جو نا ہو مقدر میں وہی کیوں راس آیا کرتے ہیں
جب سے منہ موڑ لیا مجھ سے میری خوشیوں نے
تیرے لیے میرے جذبات مجھے بہت ستایا کرتے ہیں
جتنا بھی چاہوں کہ تجھ کو بھول جاؤں میں
تیرے ساتھ کہ پل اور بھی رولایا کرتے ہیں
اک زمانہ گزر گیا تجھ سے بچھڑے ہوئے مجھے
وہ حسین پل آج بھی میرا دل جلایا کرتے ہیں
نہ جانے کس امید پر آس لگائے بیٹھا ہے یہ دل
جانتے ہوئے بھی گزرئے زمانے کب لوٹ کے آیا کرتے ہیں Noor
منزل پر پہنچ کر ہمسفر چھوٹ جایا کرتے ہیں
عجب ہے یہ محبت کا دستور بھی نور
جو نا ہو مقدر میں وہی کیوں راس آیا کرتے ہیں
جب سے منہ موڑ لیا مجھ سے میری خوشیوں نے
تیرے لیے میرے جذبات مجھے بہت ستایا کرتے ہیں
جتنا بھی چاہوں کہ تجھ کو بھول جاؤں میں
تیرے ساتھ کہ پل اور بھی رولایا کرتے ہیں
اک زمانہ گزر گیا تجھ سے بچھڑے ہوئے مجھے
وہ حسین پل آج بھی میرا دل جلایا کرتے ہیں
نہ جانے کس امید پر آس لگائے بیٹھا ہے یہ دل
جانتے ہوئے بھی گزرئے زمانے کب لوٹ کے آیا کرتے ہیں Noor
میری سسکیاں کسی کو سنائی نہ دیں میں آنکھیں جھکائے رکھتی ہوں
میرے آنسو کسی کو دکھائی نہ دیں
میں رات کی تنہائی میں روتی ہوں
میری سسکیاں کسی کو سنائی نہ دیں
میں دعا کرتی ہوں خداوند سے
محبت میں کسی کو جدائی نہ دے
بڑا درد دیتی ہیں یہ تنہائیاں پیار میں
خدا پیار میں کسی کو بےوفائی نہ دے
جن کے دلوں میں جلتی ہے آتش عشق
ان کی آہیں بھی تو کسی کو سنائی نہ دیں Noor
میرے آنسو کسی کو دکھائی نہ دیں
میں رات کی تنہائی میں روتی ہوں
میری سسکیاں کسی کو سنائی نہ دیں
میں دعا کرتی ہوں خداوند سے
محبت میں کسی کو جدائی نہ دے
بڑا درد دیتی ہیں یہ تنہائیاں پیار میں
خدا پیار میں کسی کو بےوفائی نہ دے
جن کے دلوں میں جلتی ہے آتش عشق
ان کی آہیں بھی تو کسی کو سنائی نہ دیں Noor
میری چاہتوں کا خون نا کرنا خود کو مجھ سے دور نا کرنا
میرے خوابوں کو چوڑ نا کرنا
میری ساری چاہتیں تیرے لئے
میری چاہتوں کا خون نا کرنا
میری آنکھیں تجھے دیکھتی ہیں
تیرے ساتھ کے خواب سنجوتی ہیں
ان آنکھوں کو رونے پر مجبور نا کرنا
میرا دل تیرے لئے ڈھڑکتا ہے
تیرے نام کا ورد کرتا رہتا ہے
اس دل کے ارمانوں کو راکھ نا کرنا Noor
میرے خوابوں کو چوڑ نا کرنا
میری ساری چاہتیں تیرے لئے
میری چاہتوں کا خون نا کرنا
میری آنکھیں تجھے دیکھتی ہیں
تیرے ساتھ کے خواب سنجوتی ہیں
ان آنکھوں کو رونے پر مجبور نا کرنا
میرا دل تیرے لئے ڈھڑکتا ہے
تیرے نام کا ورد کرتا رہتا ہے
اس دل کے ارمانوں کو راکھ نا کرنا Noor
میری جانب سے ہوئیں خطائیں بہت میری جانب سے ہوئیں خطائیں بہت
تیری جانب سے ہوئیں عطائیں بہت
کبھی نا شکر ادا کیا تیرے دے کا
پھر بھی تیری جانب سے عنائیتں بہت
گناہ پر گناہ کرتے چلے گئے
پھر بھی تیری جانب سے رضائیں بہت
بھولا دیا تجھے چھوٹی سی زندگی کیلئے
پھر بھی تیری جانب سے شفائیں بہت
اپنی ہی غلطیوں سے رستے کھو دے
پھر بھی تیری جانب سے دیشائیں بہت
رسوا کیا ہر پل تیرے دے کو
پھر بھی تی جانب سے نوازشیں بہت
کسےپیش ہوں گئے تیرے دربار میں
پھر بھی تیری جانب سے کرم کی بارشیں بہت
خود کو خود ہی تباہ کرنے پر تلے ہیں
پھر بھی تیری جانب سے آرائشیں بہت Noor
تیری جانب سے ہوئیں عطائیں بہت
کبھی نا شکر ادا کیا تیرے دے کا
پھر بھی تیری جانب سے عنائیتں بہت
گناہ پر گناہ کرتے چلے گئے
پھر بھی تیری جانب سے رضائیں بہت
بھولا دیا تجھے چھوٹی سی زندگی کیلئے
پھر بھی تیری جانب سے شفائیں بہت
اپنی ہی غلطیوں سے رستے کھو دے
پھر بھی تیری جانب سے دیشائیں بہت
رسوا کیا ہر پل تیرے دے کو
پھر بھی تی جانب سے نوازشیں بہت
کسےپیش ہوں گئے تیرے دربار میں
پھر بھی تیری جانب سے کرم کی بارشیں بہت
خود کو خود ہی تباہ کرنے پر تلے ہیں
پھر بھی تیری جانب سے آرائشیں بہت Noor
ڈر ہے کہیں زندگی کی شام نا ہو جائے ڈر ہے کہیں زندگی کی شام نا ہو جائے
میری موت کی خبر سرعام نا ہو جائے
خبر ہو گئی اگر میرے دیوانے کو
اس کے جینے کی امید نا کام نا ہو جائے
فقط اک امید پر جی رہا ہے وہ
جدائی کے آنسو بھی پی رہا ہے وہ
اپنے انگن کو بسانے کی آس میں
کہیں اس کی یہ آس نا تمام نا ہو جائے
پھولوں کی پنکھڑیاں چن رہا ہے وہ
خوابوں کی پھلجھڑیاں بن رہا ہے وہ
قطرہ قطرہ پگھل بھی رہا ہے وہ
کہیں اس کی یہ عاشقی بدنام نا ہو جائے Noor
میری موت کی خبر سرعام نا ہو جائے
خبر ہو گئی اگر میرے دیوانے کو
اس کے جینے کی امید نا کام نا ہو جائے
فقط اک امید پر جی رہا ہے وہ
جدائی کے آنسو بھی پی رہا ہے وہ
اپنے انگن کو بسانے کی آس میں
کہیں اس کی یہ آس نا تمام نا ہو جائے
پھولوں کی پنکھڑیاں چن رہا ہے وہ
خوابوں کی پھلجھڑیاں بن رہا ہے وہ
قطرہ قطرہ پگھل بھی رہا ہے وہ
کہیں اس کی یہ عاشقی بدنام نا ہو جائے Noor