Poetries by Rashid Sandeelvi
سواری اُونٹ کی ہے سواری اُونٹ کی ہے
اور میں شہر ِ شکستہ کی
کسی سنساں گلی میں سر جھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہا ریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
جس کی چوکھٹ پر
ہزاروں سال سے
اک غم ذدہ عورت
مرے وعدے کی رسی
ریشہء دل سے بنی
مضبوط رسی سے بندھی ہے
آنسوں سے تر نگاہوں میں
کسی کہنہ ستارے کی چمک لے کر
مرے خاکستری ملبوس کی
مخصوص خوشبو سونگھنے کو
اور بھورے اُونٹ کی
دکھ سے لبالب بلبلاہٹ
سننے کو تیار بیٹھی ہے
وہی سیلن زدہ اوطاق کا گوشہ
جہاں میں ایک شب اس کو
لرزتے، سنسناتے ، زہر والے
چوبی تیروں کی گھنی بارش میں
بے بس اور اکیلا چھوڑ آیا تھا
مجھے سب یاد ہے قصہ
برس کر ابر بالکل تھم چکا تھا
اور خلا میں چاند
یوں لگتا تھا جیسے
تخت پر نو عمر شہزادہ ہو کوئی
یوں ہوا چہرے کو مس کر کے گزرتی تھی
کھ جیسے ریشمیں کپڑا ہو کوئی
اپنے ٹھنڈے اور گیلے خول کے اندر
گلی سوئی ہوئی تھی
دم بہ خود سارے مکاں
ایسے نظر آتے تھے
جیسے نرم اور باریک کاغذ کے بنے ہوں
موم کے ترشے ہوئے ہوں
اک بڑی تصویر میں
جیسے ازل سے ایستادہ ہوں
وہی سیلن زدہ اوطاق کا گوشہ
جہاں مہتا ب کی بُراق کِرنیں
اُس کے لانبے اور کھلِے بالوں میں اُڑسے
تازہ تر انجیر کے پتے کو روشن کر رہی تھیں
اُس کی گہری گندمیں کُہنی کا بوسہ یاد ہے مجھکو
اُسی شب
میں نے جب اِک لمحہء پُرسوز میں
تلوار ،اُس کے پاؤں میں رکھ دی تھی
اور پھر یہ کہا تھا:
“میرا وعدہ ہے
یہ میرا جسم اور اِس جسم کی حاکم
یہ میری باطنی طاقت
قیامت اور
قیامت سے بھی آگے
سرحدِ امکاں سے لا امکاں تلک
تیری وفا کا ساتھ دے گی
وقت سُنتا ہے
گواہی کے لئے
آکاش پر یہ چاند
قدموں میں پڑی یہ تیغ
اور بالوں میں یہ انجیر کا پتا ہی کافی ہے
خداوندا،وہ کیسا مرحلہ تھا
اب یہ کیسا مرحلہ ہے
ایک سنسانی کا عالم ہے
گلی چپ ہے
کسی ذی روح کی آہٹ نہیں آتی
یہ کیسی ساعتِ منحوس ہے
جس میں ابھی تک
کوئی ننھا سا پرندہ یا پتنگا
یا کوئی موہوم چیونٹی ہی نہیں گزری
کسی بھی مردوزن کی
میں نے صورت ہی نہیں دیکھی
سواری اُونٹ کی ہے
اور میں شہر ِشکستہ کی
کسی سنساں گلی میں سر جھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
یا کسی محشر
خموشی کے کسی محشر کی جانب جا رہا ہوں
ہچکیوں اور سسکیوں کے باد کا محشر
کوئی منظر
کوئی منظر کھ جس میں اِک گلی ہے
ایک بھورا اُونٹ ہے
اور ایک بزدل شخص کی ڈھیلی رفاقت ہے
سفر نا مختتم
جیسے ابد تک کی کوئی لمبی مسافت ہے
سواری اُونٹ کی ہے
یا کاٹھ کے اعصاب کی ہے
آزمائش اک انوکھے خواب کی ہے
پتلیاں ساکت ہیں
سایہ اُونٹ کا ہلتا نہیں
آیئنہء آثار میں
ساری شبیہیں گم ہوئی ہیں
اُس کے ہونے کا نشاں ملتا نہیں
کب سے گلی میں ہوں
کہاں ہے وہ مری پیاری
مری سیلن زدہ اوطاق والی
وہ سُریلی گھنٹیوں والی
زمینوں،پانیوں اور اَنفس و آفاق والی
کس قدر آنکھوں نے کوشش کی
مگر رونا نہیں آتا
سبب کیا
گلی کا آخری کونا نہیں آتا
گلی کو حکم ہو اب ختم ہو جائے
میں بھورے اور بوڑھے اُونٹ پر بیٹھے ہوئے
پیری کے دن گنتا ہوں
شائد اِس گلی میں رہنے والا
کوئی اُس کی بارگہ میں
دست بستہ معذرت کی بھیک مانگوں
سر جھکاؤں
اور اُس زنبور کے صدقے
کسی دن اپنے بوڑھے جسم کو
اور اُونٹ کو لے کر
گلی کی آخری حد پار کر جاؤں rashid sandeelvi
اور میں شہر ِ شکستہ کی
کسی سنساں گلی میں سر جھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہا ریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
جس کی چوکھٹ پر
ہزاروں سال سے
اک غم ذدہ عورت
مرے وعدے کی رسی
ریشہء دل سے بنی
مضبوط رسی سے بندھی ہے
آنسوں سے تر نگاہوں میں
کسی کہنہ ستارے کی چمک لے کر
مرے خاکستری ملبوس کی
مخصوص خوشبو سونگھنے کو
اور بھورے اُونٹ کی
دکھ سے لبالب بلبلاہٹ
سننے کو تیار بیٹھی ہے
وہی سیلن زدہ اوطاق کا گوشہ
جہاں میں ایک شب اس کو
لرزتے، سنسناتے ، زہر والے
چوبی تیروں کی گھنی بارش میں
بے بس اور اکیلا چھوڑ آیا تھا
مجھے سب یاد ہے قصہ
برس کر ابر بالکل تھم چکا تھا
اور خلا میں چاند
یوں لگتا تھا جیسے
تخت پر نو عمر شہزادہ ہو کوئی
یوں ہوا چہرے کو مس کر کے گزرتی تھی
کھ جیسے ریشمیں کپڑا ہو کوئی
اپنے ٹھنڈے اور گیلے خول کے اندر
گلی سوئی ہوئی تھی
دم بہ خود سارے مکاں
ایسے نظر آتے تھے
جیسے نرم اور باریک کاغذ کے بنے ہوں
موم کے ترشے ہوئے ہوں
اک بڑی تصویر میں
جیسے ازل سے ایستادہ ہوں
وہی سیلن زدہ اوطاق کا گوشہ
جہاں مہتا ب کی بُراق کِرنیں
اُس کے لانبے اور کھلِے بالوں میں اُڑسے
تازہ تر انجیر کے پتے کو روشن کر رہی تھیں
اُس کی گہری گندمیں کُہنی کا بوسہ یاد ہے مجھکو
اُسی شب
میں نے جب اِک لمحہء پُرسوز میں
تلوار ،اُس کے پاؤں میں رکھ دی تھی
اور پھر یہ کہا تھا:
“میرا وعدہ ہے
یہ میرا جسم اور اِس جسم کی حاکم
یہ میری باطنی طاقت
قیامت اور
قیامت سے بھی آگے
سرحدِ امکاں سے لا امکاں تلک
تیری وفا کا ساتھ دے گی
وقت سُنتا ہے
گواہی کے لئے
آکاش پر یہ چاند
قدموں میں پڑی یہ تیغ
اور بالوں میں یہ انجیر کا پتا ہی کافی ہے
خداوندا،وہ کیسا مرحلہ تھا
اب یہ کیسا مرحلہ ہے
ایک سنسانی کا عالم ہے
گلی چپ ہے
کسی ذی روح کی آہٹ نہیں آتی
یہ کیسی ساعتِ منحوس ہے
جس میں ابھی تک
کوئی ننھا سا پرندہ یا پتنگا
یا کوئی موہوم چیونٹی ہی نہیں گزری
کسی بھی مردوزن کی
میں نے صورت ہی نہیں دیکھی
سواری اُونٹ کی ہے
اور میں شہر ِشکستہ کی
کسی سنساں گلی میں سر جھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
یا کسی محشر
خموشی کے کسی محشر کی جانب جا رہا ہوں
ہچکیوں اور سسکیوں کے باد کا محشر
کوئی منظر
کوئی منظر کھ جس میں اِک گلی ہے
ایک بھورا اُونٹ ہے
اور ایک بزدل شخص کی ڈھیلی رفاقت ہے
سفر نا مختتم
جیسے ابد تک کی کوئی لمبی مسافت ہے
سواری اُونٹ کی ہے
یا کاٹھ کے اعصاب کی ہے
آزمائش اک انوکھے خواب کی ہے
پتلیاں ساکت ہیں
سایہ اُونٹ کا ہلتا نہیں
آیئنہء آثار میں
ساری شبیہیں گم ہوئی ہیں
اُس کے ہونے کا نشاں ملتا نہیں
کب سے گلی میں ہوں
کہاں ہے وہ مری پیاری
مری سیلن زدہ اوطاق والی
وہ سُریلی گھنٹیوں والی
زمینوں،پانیوں اور اَنفس و آفاق والی
کس قدر آنکھوں نے کوشش کی
مگر رونا نہیں آتا
سبب کیا
گلی کا آخری کونا نہیں آتا
گلی کو حکم ہو اب ختم ہو جائے
میں بھورے اور بوڑھے اُونٹ پر بیٹھے ہوئے
پیری کے دن گنتا ہوں
شائد اِس گلی میں رہنے والا
کوئی اُس کی بارگہ میں
دست بستہ معذرت کی بھیک مانگوں
سر جھکاؤں
اور اُس زنبور کے صدقے
کسی دن اپنے بوڑھے جسم کو
اور اُونٹ کو لے کر
گلی کی آخری حد پار کر جاؤں rashid sandeelvi
شیر کو اپنے سامنے پا کر جب میں پکارا جنگل میں شیر کو اپنے سامنے پا کر جب میں پکارا جنگل میں
مرے علاوہ کوئی نہیں تھا لکڑ ہارا جنگل میں
گھوڑ سوار نے جس قیدی کو شہر تلک پہنچانا تھا
رستہ ناہموار ہوا تو اُسے اتارا جنگل میں
جس بوڑھے نے اپنے ہاتھ سے اجڑے گھر آباد کیے
اس کا کنبہ بھٹک رہا ہے مارا مارا جنگل میں
اس کے گونگے بہرے دریا اس کی جانب بہتے تھے
لکڑی بن کر راکھ ہوا تھا جسم ہمارا جنگل میں
گھر سے روٹھ کے جانے والے آخر گھر کو لوٹیں گے
چشمے کا جب میٹھا پانی ہو گا کھارا جنگل میں
rashid sandeelvi
مرے علاوہ کوئی نہیں تھا لکڑ ہارا جنگل میں
گھوڑ سوار نے جس قیدی کو شہر تلک پہنچانا تھا
رستہ ناہموار ہوا تو اُسے اتارا جنگل میں
جس بوڑھے نے اپنے ہاتھ سے اجڑے گھر آباد کیے
اس کا کنبہ بھٹک رہا ہے مارا مارا جنگل میں
اس کے گونگے بہرے دریا اس کی جانب بہتے تھے
لکڑی بن کر راکھ ہوا تھا جسم ہمارا جنگل میں
گھر سے روٹھ کے جانے والے آخر گھر کو لوٹیں گے
چشمے کا جب میٹھا پانی ہو گا کھارا جنگل میں
rashid sandeelvi
چمن پہ جو بھی تھے نافذ اصول اس کے تھے چمن پہ جو بھی تھے نافذ اصول اس کے تھے
تمام کانٹے ہمارے تھے ،پھول اس کے تھے
جہاں بھی جاتا وہاں اس کی بادشاہی تھی
تمام سمتیں سبھی عرض و طول اس کے تھے
میں احتجاج بھی کرتا تو کس طرح کرتا
نگر میں فیصلے سب کو قبول اس کے تھے
وہ جو بھی علم سکھاتا وہی غنیمت تھا
کہ سب نصاب تھے اسکے سکول اس کے تھے
لگا دی اس نے مرے قہقہوں پہ پابندی
وہ خود اداس تھا ،تیور ملول اس کے
rashid sandeelvi
تمام کانٹے ہمارے تھے ،پھول اس کے تھے
جہاں بھی جاتا وہاں اس کی بادشاہی تھی
تمام سمتیں سبھی عرض و طول اس کے تھے
میں احتجاج بھی کرتا تو کس طرح کرتا
نگر میں فیصلے سب کو قبول اس کے تھے
وہ جو بھی علم سکھاتا وہی غنیمت تھا
کہ سب نصاب تھے اسکے سکول اس کے تھے
لگا دی اس نے مرے قہقہوں پہ پابندی
وہ خود اداس تھا ،تیور ملول اس کے
rashid sandeelvi
خود اپنے صحن میں گردن جھکا کے ٹھہرے تھے خود اپنے صحن میں گردن جھکا کے ٹھہرے تھے
مکین شہر کے مجرم تھے ، گھر کٹہرے تھے
بدن کے پیڑ گھٹن میں نمو د کیا پاتے
ہوائیں پا بہ سلاسل تھیں، رت پہ پہرے تھے
میں اس کے لمس کی آواز چھو کے کیا کرتا
کہ میری انگلیاں گونگی تھیں، ہاتھ بہرے تھے
رگوں میں قحط کا پھر خوف رینگتا کیوں تھا
ہماری فصل کے خوشے اگر سنہرے تھے
اکیلی رانی کہاں تک مدافعت کرتی
کہ ابکے راج محل میں شگاف گہرے تھے
rashid sandeelvi
مکین شہر کے مجرم تھے ، گھر کٹہرے تھے
بدن کے پیڑ گھٹن میں نمو د کیا پاتے
ہوائیں پا بہ سلاسل تھیں، رت پہ پہرے تھے
میں اس کے لمس کی آواز چھو کے کیا کرتا
کہ میری انگلیاں گونگی تھیں، ہاتھ بہرے تھے
رگوں میں قحط کا پھر خوف رینگتا کیوں تھا
ہماری فصل کے خوشے اگر سنہرے تھے
اکیلی رانی کہاں تک مدافعت کرتی
کہ ابکے راج محل میں شگاف گہرے تھے
rashid sandeelvi
ابھی پروں میں اڑانوں کا زور زندہ ہے ابھی پروں میں اڑانوں کا زور زندہ ہے
اداس چاند سے کہ دو چکور زندہ ہے
میں اپنے گھر کی صدائوں کو مار بیٹھا ہوں
مگر پڑوس میں لوگو ں کا شور زندہ ہے
دلہن نے یاس کے عالم میں خود کشی کر لی
جہیز جس نے چرایا وہ چور زندہ ہے
گلی میں شور بپا ہے مکیں کے مرنے کا
مگر وہ دفن ہے ملبے میں اور زندہ ہے
خدا کا شکر کہ فالج زدہ زمانے میں
میں مرتعش ہوں مری پور پور زندہ ہے
rashid sandeelvi
اداس چاند سے کہ دو چکور زندہ ہے
میں اپنے گھر کی صدائوں کو مار بیٹھا ہوں
مگر پڑوس میں لوگو ں کا شور زندہ ہے
دلہن نے یاس کے عالم میں خود کشی کر لی
جہیز جس نے چرایا وہ چور زندہ ہے
گلی میں شور بپا ہے مکیں کے مرنے کا
مگر وہ دفن ہے ملبے میں اور زندہ ہے
خدا کا شکر کہ فالج زدہ زمانے میں
میں مرتعش ہوں مری پور پور زندہ ہے
rashid sandeelvi
کسی کے جبر کا دل میں خیال کیا کرتا کسی کے جبر کا دل میں خیال کیا کرتا
تمام شہر تھا دشمن ،بلال کیا کرتا
برس رہے تھے خلاؤں سے آتشیں نیزے
بدن پہ اوڑھ کے کاغذ کی ڈھال کیا کرتا
نگر کے سارے پرندے ہی پر شکستہ تھے
میں نصب کر کے فضاؤ ں میں جال کیا کرتا
سبھی مکان مقفل تھے میری بستی کے
کسی کے در پہ بھکاری سوال کیا کرتا
مکین اپنے ہی ترکے سے لا تعلق تھے
پرائے گھر کی کوئی دیکھ بھال کیا کرتا
rashid sandeelvi
تمام شہر تھا دشمن ،بلال کیا کرتا
برس رہے تھے خلاؤں سے آتشیں نیزے
بدن پہ اوڑھ کے کاغذ کی ڈھال کیا کرتا
نگر کے سارے پرندے ہی پر شکستہ تھے
میں نصب کر کے فضاؤ ں میں جال کیا کرتا
سبھی مکان مقفل تھے میری بستی کے
کسی کے در پہ بھکاری سوال کیا کرتا
مکین اپنے ہی ترکے سے لا تعلق تھے
پرائے گھر کی کوئی دیکھ بھال کیا کرتا
rashid sandeelvi
گمشدہ بچے کے پیچھے اک خلا رہ جائے گا گمشدہ بچے کے پیچھے اک خلا رہ جائے گا
صحن میں خالی پنگھوڑا،جھولتا رہ جائے گا
کشتیوں میں سب براتی ڈوب کر مر جائیں گے
اور ہوا کے ساتھ ساحل چیختا رہ جائے گا
فاصلہ خرگوش اب کے طے کرے گا جاگ کر
راستے کے بیچ کچھوا رینگتا رہ جائے گا
فیصلے میں اس قدر تاخیر برتی جائے گی
عمر بھر ملزم کٹہرے میں کھڑا رہ جائے گا
اجنبی کنبہ مجھے بے دخل کر دے گا رفیق
صرف میرا نام تختی پر لکھا رہ جائے گا rashid sandeelvi
صحن میں خالی پنگھوڑا،جھولتا رہ جائے گا
کشتیوں میں سب براتی ڈوب کر مر جائیں گے
اور ہوا کے ساتھ ساحل چیختا رہ جائے گا
فاصلہ خرگوش اب کے طے کرے گا جاگ کر
راستے کے بیچ کچھوا رینگتا رہ جائے گا
فیصلے میں اس قدر تاخیر برتی جائے گی
عمر بھر ملزم کٹہرے میں کھڑا رہ جائے گا
اجنبی کنبہ مجھے بے دخل کر دے گا رفیق
صرف میرا نام تختی پر لکھا رہ جائے گا rashid sandeelvi
وہ کسی آنکھ کو پرنم نہیں ہونے دیتا وہ کسی آنکھ کو پرنم نہیں ہونے دیتا
کوئی مر جائے تو ماتم نہیں ہونے دیتا
پاؤں میں باندھنے دیتا تو ہے پازیب مگر
وہ کسی صحن میں چھم چھم نہیں ہونے دیتا
گو لڑائی میں ہمیں فتحِ مبیں حاصل ہو
پھر بھی اونچا کوئی پرچم نہیں ہونے دیتا
علم دشمن ہے زمیندار مرے گاؤں کا
مدرسہ کوئی بھی قائم نہیں ہونے دیتا
rashid sandeelvi
کوئی مر جائے تو ماتم نہیں ہونے دیتا
پاؤں میں باندھنے دیتا تو ہے پازیب مگر
وہ کسی صحن میں چھم چھم نہیں ہونے دیتا
گو لڑائی میں ہمیں فتحِ مبیں حاصل ہو
پھر بھی اونچا کوئی پرچم نہیں ہونے دیتا
علم دشمن ہے زمیندار مرے گاؤں کا
مدرسہ کوئی بھی قائم نہیں ہونے دیتا
rashid sandeelvi
کبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں کبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں
میں اپنا رخ کسی جنگل کی جانب موڑ کر دیکھوں
سمادھی ہی لگا لوں اب کہیں ویران قبروں پر
یہ دنیا ترک کر دوں اور سب کچھ چھوڑ کر دیکھوں
مجھے گھیرے میں لے رکھا ہے اشیاومظاہر نے
کبھی موقع ملے تو اس کڑے کو توڑ کر دیکھوں
اڑا دوں سبز پتوں میں چھپی خواہش کی سب چڑیاں
کبھی دل کے شجر کو زور سے جھنجھوڑ کر دیکھوں
عدم تکمیل کے دکھ سے بچا لوں اپنی سوچوں کو
جہاں سے سلسلہ ٹوٹے وہیں سے جوڑ کر دیکھوں
rashid sandeelvi
میں اپنا رخ کسی جنگل کی جانب موڑ کر دیکھوں
سمادھی ہی لگا لوں اب کہیں ویران قبروں پر
یہ دنیا ترک کر دوں اور سب کچھ چھوڑ کر دیکھوں
مجھے گھیرے میں لے رکھا ہے اشیاومظاہر نے
کبھی موقع ملے تو اس کڑے کو توڑ کر دیکھوں
اڑا دوں سبز پتوں میں چھپی خواہش کی سب چڑیاں
کبھی دل کے شجر کو زور سے جھنجھوڑ کر دیکھوں
عدم تکمیل کے دکھ سے بچا لوں اپنی سوچوں کو
جہاں سے سلسلہ ٹوٹے وہیں سے جوڑ کر دیکھوں
rashid sandeelvi
محاذوں پر اترنے کا ارادہ بھول سکتا ہے محاذوں پر اترنے کا ارادہ بھول سکتا ہے
کنیزیں ساتھ ہوں تو شہزادہ بھول سکتا ہے
غنیمت ہے کہ میرا نام بھولا ہے فقط اس کو
وگرنہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بھول سکتا ہے
اسے کچھ دن تواتر سے کسی زنداں میں لے جاؤ
اسی صورت وہ اپنا گھر کشادہ بھول سکتا ہے
تم اس کے کاغذی میثاق سے دھوکہ نہ کھا لینا
وہ بستی کو اماں دینے کا وعدہ بھول سکتا ہے
سواروں میں اگر تم سب غذا تقسیم کر دو گے
تو پھر جنگی اصولوں کو پیادہ بھول سکتا ہے
rashid sandeelvi
کنیزیں ساتھ ہوں تو شہزادہ بھول سکتا ہے
غنیمت ہے کہ میرا نام بھولا ہے فقط اس کو
وگرنہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بھول سکتا ہے
اسے کچھ دن تواتر سے کسی زنداں میں لے جاؤ
اسی صورت وہ اپنا گھر کشادہ بھول سکتا ہے
تم اس کے کاغذی میثاق سے دھوکہ نہ کھا لینا
وہ بستی کو اماں دینے کا وعدہ بھول سکتا ہے
سواروں میں اگر تم سب غذا تقسیم کر دو گے
تو پھر جنگی اصولوں کو پیادہ بھول سکتا ہے
rashid sandeelvi
فصیلِ ذہن پہ سوچوں کا بھوت ہو جیسے فصیلِ ذہن پہ سوچوں کا بھوت ہو جیسے
بدن کی بارہ دری میں سکوت ہو جیسے
بکھرے جسم میں قائم ہیں اس طرح آنکھیں
کسی محاذ پہ تنہا سپوت ہو جیسے
کچھ ایسے پیر زنِ وقت نے مجھے کاتا
مرا وجود بھی تکلے پہ سوت ہو جیسے
یہ کس کے ہجر میں بن باس لینے نکلے ہیں
تمام شہر کے تن پر بھبھوت ہو جیسے
rashid sandeelvi
بدن کی بارہ دری میں سکوت ہو جیسے
بکھرے جسم میں قائم ہیں اس طرح آنکھیں
کسی محاذ پہ تنہا سپوت ہو جیسے
کچھ ایسے پیر زنِ وقت نے مجھے کاتا
مرا وجود بھی تکلے پہ سوت ہو جیسے
یہ کس کے ہجر میں بن باس لینے نکلے ہیں
تمام شہر کے تن پر بھبھوت ہو جیسے
rashid sandeelvi
لشکر تھا جن کے کھوج میں وہ گام اور تھے لشکر تھا جن کے کھوج میں وہ گام اور تھے
جنگل میں جو چھپے تھے سیہ فام اور تھے
میت کا دکھ نہیں تھا کسی بھی مکین کو
بستی میں جو مچے تھے وہ کہرام اور تھے
خواجہ سرا کا ماتھا پسینے میں غرق تھا
اب جو حرم میں آئے تھے خدام اور تھے
درپیش تھی جو حج کی مسافت وہ اور تھی
باندھے تھے جو سروں پہ وہ احرام اور تھے
نقشہ تھا سب کے ذہن میں پچھلے محاذ کا
دشمن نے جو کئے تھے وہ اقدام اور تھے
rashid sandeelvi
جنگل میں جو چھپے تھے سیہ فام اور تھے
میت کا دکھ نہیں تھا کسی بھی مکین کو
بستی میں جو مچے تھے وہ کہرام اور تھے
خواجہ سرا کا ماتھا پسینے میں غرق تھا
اب جو حرم میں آئے تھے خدام اور تھے
درپیش تھی جو حج کی مسافت وہ اور تھی
باندھے تھے جو سروں پہ وہ احرام اور تھے
نقشہ تھا سب کے ذہن میں پچھلے محاذ کا
دشمن نے جو کئے تھے وہ اقدام اور تھے
rashid sandeelvi
خود اپنے گرد ہی پھرتے ہیں ہم آہستہ آہستہ خود اپنے گرد ہی پھرتے ہیں ہم آہستہ آہستہ
کہ زائر کرتے ہیں طوف حر م آہستہ آہستہ
بہت آسان ہے کاغذ پہ کوئی لفظ لکھ دینا
دلوں پہ نام ہوتے ہیں رقم آہستہ آہستہ
کہیں پاؤں نہ تیرے کاٹ لے یہ برق رفتاری
مسافت میں اٹھا اپنے قدم آہستہ آہستہ
کہانی تو سنا کر داستاں گو ہو گیا رخصت
ہوئی ہے شہر بھر کی آنکھ نم آہستہ آہستہ
ابھی تو ہجر کے پہلے دکھوں نے دستکیں دی ہیں
سرایت خوں میں کرتا ہے یہ سم آہستہ آہستہ
rashid sandeelvi
کہ زائر کرتے ہیں طوف حر م آہستہ آہستہ
بہت آسان ہے کاغذ پہ کوئی لفظ لکھ دینا
دلوں پہ نام ہوتے ہیں رقم آہستہ آہستہ
کہیں پاؤں نہ تیرے کاٹ لے یہ برق رفتاری
مسافت میں اٹھا اپنے قدم آہستہ آہستہ
کہانی تو سنا کر داستاں گو ہو گیا رخصت
ہوئی ہے شہر بھر کی آنکھ نم آہستہ آہستہ
ابھی تو ہجر کے پہلے دکھوں نے دستکیں دی ہیں
سرایت خوں میں کرتا ہے یہ سم آہستہ آہستہ
rashid sandeelvi
مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر
چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر
معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی
تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر
پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں
خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر
ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں
تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف پھرا کر
کیا خوب لڑکپن تھاکہ ساون کے دنوں میں
تسکین ملا کرتی تھی بارش میں نہا کر
مانگے ہوئے سورج سے تو بہترہے اندھیرا
تو میرے لیے اپنے خدا سے نہ دعا کر
ترتیب ترے حسن کی مٹ جائے گی اک دن
دیوانے کی باتوں کو نہ بے ربط کہا کر
تحریر کا یہ آخری رشہ بھی گیا ٹوٹ
کتنا ہوں میں تنہا ترے مکتوب جلا کر
آتی ہیں بہت رات کو رونے کی صدائیں
ہمسائے کا احوال کبھی پوچھ لیا کر
وہ قحط ضیا ہے کہ مرے شہر کے کچھ لوگ
جگنو کو لئے پھرتے ہیں مٹھی میں دبا کر
rashid sandeelvi
چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر
معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی
تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر
پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں
خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر
ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں
تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف پھرا کر
کیا خوب لڑکپن تھاکہ ساون کے دنوں میں
تسکین ملا کرتی تھی بارش میں نہا کر
مانگے ہوئے سورج سے تو بہترہے اندھیرا
تو میرے لیے اپنے خدا سے نہ دعا کر
ترتیب ترے حسن کی مٹ جائے گی اک دن
دیوانے کی باتوں کو نہ بے ربط کہا کر
تحریر کا یہ آخری رشہ بھی گیا ٹوٹ
کتنا ہوں میں تنہا ترے مکتوب جلا کر
آتی ہیں بہت رات کو رونے کی صدائیں
ہمسائے کا احوال کبھی پوچھ لیا کر
وہ قحط ضیا ہے کہ مرے شہر کے کچھ لوگ
جگنو کو لئے پھرتے ہیں مٹھی میں دبا کر
rashid sandeelvi
گزند اور نہ پہنچی بس ایک سر ہی کٹا گزند اور نہ پہنچی بس ایک سر ہی کٹا
بڑے حساب سے خنجر عدو نے پھینکا تھا
وہ اسم لمس کہ جس کی رسائی تجھ تک تھی
مرے وجود کی لکنت میں کس طرح رکتا
اماں پرست ہوں خنجر زنی کا درس نہ دو
میں اپنے ہاتھ لہو میں ڈبو نہیں سکتا
میں چاہے اپنے ثمر دار پیڑ کاٹ بھی دوں
وہ میرے صحن میں پتھر ضرور پھینکے گا
خلا نوردو مجھے چاند پر نہ لے جاؤ
میں اس اداس زمیں کا ہوں آخری بیٹا
سزائے موت ہی دے دو جلا وطن نہ کرو
دیار غیر میں مجھ سے جیا نہ جائے گا
مرے چراغ جلے ہیں کچھ ایسی شرطوں پر
کہ ساری روشنی اس کی مگر دھواں میرا
rashid sandeelvi
بڑے حساب سے خنجر عدو نے پھینکا تھا
وہ اسم لمس کہ جس کی رسائی تجھ تک تھی
مرے وجود کی لکنت میں کس طرح رکتا
اماں پرست ہوں خنجر زنی کا درس نہ دو
میں اپنے ہاتھ لہو میں ڈبو نہیں سکتا
میں چاہے اپنے ثمر دار پیڑ کاٹ بھی دوں
وہ میرے صحن میں پتھر ضرور پھینکے گا
خلا نوردو مجھے چاند پر نہ لے جاؤ
میں اس اداس زمیں کا ہوں آخری بیٹا
سزائے موت ہی دے دو جلا وطن نہ کرو
دیار غیر میں مجھ سے جیا نہ جائے گا
مرے چراغ جلے ہیں کچھ ایسی شرطوں پر
کہ ساری روشنی اس کی مگر دھواں میرا
rashid sandeelvi
غار میں بیٹھا شخص چاند ستارے
پھول بنفشی پتے
ٹہنی ٹہنی جگنو بن کر
اڑنے والی برف
لکڑی کے شفاف ورق پر
مور کے پر کی نوک سے لکھے
کالے کالے حرف
اجلی دھوپ میں
ریت کے روشن ذرے
اور پہاڑی درے
ابر سوارسہانی شام
اور سبز قبا میں
ایک پری کا جسم
سرخ لبوں کی شاخ سے جھڑتے
پھولوں جیسے اسم
رنگ برنگ طلسم
جھیل کی تہ میں
ڈوبتے چاند کا عکس
ڈھول کی وحشی تال پہ ہوتا
نیم برہنہ رقص
کیسے کیسے منظر دیکے
ایک کروڑ برس پہلے کے
غار میں بیٹھا شخص
rashid sandeelvi
پھول بنفشی پتے
ٹہنی ٹہنی جگنو بن کر
اڑنے والی برف
لکڑی کے شفاف ورق پر
مور کے پر کی نوک سے لکھے
کالے کالے حرف
اجلی دھوپ میں
ریت کے روشن ذرے
اور پہاڑی درے
ابر سوارسہانی شام
اور سبز قبا میں
ایک پری کا جسم
سرخ لبوں کی شاخ سے جھڑتے
پھولوں جیسے اسم
رنگ برنگ طلسم
جھیل کی تہ میں
ڈوبتے چاند کا عکس
ڈھول کی وحشی تال پہ ہوتا
نیم برہنہ رقص
کیسے کیسے منظر دیکے
ایک کروڑ برس پہلے کے
غار میں بیٹھا شخص
rashid sandeelvi
خیمہ خواب کی طنابیں کھول خیمہ خواب کی طنابیں کھول
قافلہ جا چکا ہے آنکھیں کھول
اے زمیں میرا خیر مقدم کر
تیرا بیٹا ہوں اپنی بانہیں کھول
ڈوب جائیں نہ پھول کی نبضیں
اے خدا موسموں کی سانسیں کھول
فاش کر بھید دو جہانوں کے
مجھ پر سر بستہ کائناتیں کھول
پڑ نہ جائے نگر میں رسم سکوت
قفل لب توڑ دے زبانیں کھول
rashid sandeelvi
قافلہ جا چکا ہے آنکھیں کھول
اے زمیں میرا خیر مقدم کر
تیرا بیٹا ہوں اپنی بانہیں کھول
ڈوب جائیں نہ پھول کی نبضیں
اے خدا موسموں کی سانسیں کھول
فاش کر بھید دو جہانوں کے
مجھ پر سر بستہ کائناتیں کھول
پڑ نہ جائے نگر میں رسم سکوت
قفل لب توڑ دے زبانیں کھول
rashid sandeelvi
اٹھائے پھرتا کہاں تک ترے نشیلے ہاتھ اٹھائے پھرتا کہاں تک ترے نشیلے ہاتھ
خود اپنے جسم پہ تھے بوجھ میرے ڈھیلے ہاتھ
عجب نہیں کہ یہ رسم حنا بھی اٹھ جائے
حنوط کر کے رکھو دلہنوں کے پیلے ہاتھ
سدا محیط رہیں بستیوں پہ خشک رتیں
کسی بھی سر پہ نہ رکھے ہوا نے گیلے ہاتھ
گرا زمین پہ پرچم تو علم تک نہ ہوا
محاذ جنگ پہ گنتے رہے قبیلے ہاتھ
افق پہ آج کوئی چودویں کا چاند نہیں
بلا رہے ہیں کسے پانیوں کے نیلے ہاتھ
rashid sandeelvi
خود اپنے جسم پہ تھے بوجھ میرے ڈھیلے ہاتھ
عجب نہیں کہ یہ رسم حنا بھی اٹھ جائے
حنوط کر کے رکھو دلہنوں کے پیلے ہاتھ
سدا محیط رہیں بستیوں پہ خشک رتیں
کسی بھی سر پہ نہ رکھے ہوا نے گیلے ہاتھ
گرا زمین پہ پرچم تو علم تک نہ ہوا
محاذ جنگ پہ گنتے رہے قبیلے ہاتھ
افق پہ آج کوئی چودویں کا چاند نہیں
بلا رہے ہیں کسے پانیوں کے نیلے ہاتھ
rashid sandeelvi
دلوں میں رکھتی ہیں خدشہ قدیم دیواریں دلوں میں رکھتی ہیں خدشہ قدیم دیواریں
گرا دے اب کے نہ باد نسیم دیواریں
بنا رہے تھے مکیں ہجرتوں کے منصوبے
نگر میں نوحہ کناں تھیں یتیم دیواریں
کھلے محل مین اقامت کا اب جواز نہ ڈھونڈ
حساب مانگ رہی ہیں سلیم دیواریں
بنا رکھی ہیں نگر کے تمام بونوں نے
گھروں کے گرد لحیم و شحیم دیواریں
میں اپنے گھر میں بھی آہستہ بولتا ہوں رفیق
کہ میری بات نہ سن لیں غنیم دیواریں rashid sandeelvi
گرا دے اب کے نہ باد نسیم دیواریں
بنا رہے تھے مکیں ہجرتوں کے منصوبے
نگر میں نوحہ کناں تھیں یتیم دیواریں
کھلے محل مین اقامت کا اب جواز نہ ڈھونڈ
حساب مانگ رہی ہیں سلیم دیواریں
بنا رکھی ہیں نگر کے تمام بونوں نے
گھروں کے گرد لحیم و شحیم دیواریں
میں اپنے گھر میں بھی آہستہ بولتا ہوں رفیق
کہ میری بات نہ سن لیں غنیم دیواریں rashid sandeelvi
اس رات بڑی خاموشی تھی میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات دریچے خالی تھے
اور سڑکوں پر ویرانی تھی
آکاش کے نیلے ماتھے سے
مہتاب کا جھومر غائب تھا
اس رات بڑی خاموشی تھی
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
رستے کے بیچ سمندر تھا
اور اس کے پار پہاڑی تھی
مرے سر پر بوجھ تھا صدیوں کا
اور ہاتھوں میں کلہاڑی تھی
کچھ دور کنارے جوہڑکے
بس مینڈک ہی ٹراتے تھے
اور پیڑ کے پتوں سے کیڑے
اک ساعت میں گر جاتے تھے
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات بڑی خاموشی تھی
rashid sandeelvi
اس رات دریچے خالی تھے
اور سڑکوں پر ویرانی تھی
آکاش کے نیلے ماتھے سے
مہتاب کا جھومر غائب تھا
اس رات بڑی خاموشی تھی
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
رستے کے بیچ سمندر تھا
اور اس کے پار پہاڑی تھی
مرے سر پر بوجھ تھا صدیوں کا
اور ہاتھوں میں کلہاڑی تھی
کچھ دور کنارے جوہڑکے
بس مینڈک ہی ٹراتے تھے
اور پیڑ کے پتوں سے کیڑے
اک ساعت میں گر جاتے تھے
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات بڑی خاموشی تھی
rashid sandeelvi