بہت آئیں گے سمجھانے نہ رونا
Poet: Mazhar Iqbal Samar
By: Mazhar Iqbal Samar, Sattarpura-Kharian city

بہت آئیں گے لوگ سمجھانے نہ رونا
بناتے ہیں سب ہی افسانے نہ رونا

وہ آزما کر بھی راضی نہیں ہے
جو ہم بھی لگے آزمانے نہ رونا

بہت بیتاب ہونگے آنکھوں میں آنسو
مگر تم کسی بھی بہانے نہ رونا

پی کر جام فرقت ہم جا رہے ہیں
ساقی تم نہ رونا مےخانے نہ رونا

بہت ہنس لئے تم اب جا رہا ہوں
ہمیں یاد کر کے زمانے نہ رونا

چلن ہے یہاں کا سب ساتھ چھوڑیں
جو ٹوٹے یارانے پرانے نہ رونا

میں برسوں سے پیاسا اور ہیں چند قطرے
میرے لب پہ آ کر پیمانے نہ رونا

جس راہگزر پہ چلا ہے تو مظہر
کٹھن تو ہے پر دیوانے نہ رونا

Rate it: Views: 11193 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 15 Feb, 2008
About the Author: Mazhar Iqbal Samar

Visit 54 Other Poetries by Mazhar Iqbal Samar »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
boht ajeeb shairee hai khayal accha per andaz munasib nhi.
By: komal, khi on Jul, 31 2008
Reply Reply to this Comment
it was realy good i love thise masoom chahat
By: meer, hyderabad pk on Apr, 18 2008
Reply Reply to this Comment
ur poetri is nice
By: mumal ali, tando adam on Apr, 16 2008
Reply Reply to this Comment
ثمر بھائی السلام و علیکم
زبردست شاعری کہنے پر مجھ ناچیز کی طرف سے بہت خوب۔
بس چند ایک جگھھ پر اوزان کا خیال نہیں رکھا گیا، اور کچھھ لفظ بھی مناسبت اور مطابقت نہیں رکھتے۔
میں اس غزل کی اصلاح آپکی اجازت کے بغیر کررہا ہوں،


تمہیں لوگ آئیں سنانے نہ رونا
بناتے ہین سب ہی فسانے نہ رونا

مجھے آزماکر بھی راضی نہیں ہے
جو ہم بھی لگے آزمانے نہ رونا

بہت ہونگے بیتاب آنکھوں میں آنسو
مگر تم کسی بھی بہانے نہ رونا

پیے جامِ فرقت کو ہم جارہے ہیں
نہ تم ساقی رونا، مئہ خانے نہ رونا

بہت ہنس لیئے اب کے ہم جارہے ہیں
ہمیں یاد کر کے زمانے نہ رونا

چلن ہے یہان کا کہ سب ساتھ چھوڑیں
جو ٹوٹے یارانے پرانے نہ رونا

مین برسوں سے پیاسا اور ہیں چند قطرے
میرے لب پہ آکر پیمانے نہ رونا

کہ جس رہ گذر پہ چلا ہے تو مظہر
کٹھن ہے بہت پر دیوانے نہ رونا

محترم وزن یہ ہے:
فعولن، فعولن، فعولن، فعولن
By: Syed Ehsan, karachi on Apr, 10 2008
Reply Reply to this Comment
بہت خوب۔ مجھے بہت پسند آئ آپکی نظم ۔ سید احسان بھائ یہ فعولن فعولن کا کیا مطلب ہے۔ براۓ کرم اگر گوارہ سمجھے تو اس پر ہمارے علم کے اضافے کیلیے زرا روشنی ڈالیں۔ جس کے لیے میں آپ کا بیحد شکر گزار رہوں گا۔
By: abdul wadood, Topi on Apr, 07 2013
اس غزل کا پہلا شعر جلدی میں غلط لکھا گیا ہے ۔۔برائے مہربانی درست کر لیں۔۔۔

بہت آئیں گے لوگ سمجھانے نہ رونا
بناتے ہیں سب ہی افسانے نہ رونا

شکریہ۔
By: MAZHAR IQBAL SAMAR, kharian city on Mar, 17 2008
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.