دسمبر ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے
Poet: Shaikh Khalid Zahid
By: Shaikh Khalid Zahid, Karachi

تم نے خواب سے نکل کر
نرم، گرم اوڑھنی اور بچھونے سے نکل کر
کبھی درو دیوار کے اس پار
چلنے والی سرد ہواؤں کے تھپیڑے کھائے ہیں
اور ان یخ بستہ تھپیڑوں میں
(کہ جن میں نسوں میں دوڑتا خون بھی جمتا ہو)
کچرا چنتے بچے کے ہاتھوں پر بار بار لگتی
کھروچوں کو محسوس کیا ہے
تم نے دیکھا ہے دسمبر میں
ہمارے نونہالوں کو ،مستقبل کے معماروں کو
بزدل دشمن نے کس طرح سے
بارود سے زخم دئیے تھے
اور وہ زخم جانبر بھی نا ہوسکے تھے
ایک معصوم سی بچی کل میرے پاس سے گزرتے ہوئے
بغل میں چھوٹی سی گڑیا دبائے
اپنی ماں کے ہاتھوں کوسختی سے جکڑے ہوئے(جیسے خوفزدہ ہو)
سہمی سی آواز میں کہتی جا رہی تھی
کہ ماں یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں
اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو موت کی نیند سلایا جاتا ہے
پھر میری سماعتیں سرد ہواؤں کے جھوکوں سے سن ہوگئیں
دھڑکنیں تو جیسے دل میں سمٹنے سے قاصر ہوئے جاتی تھیں
نیلم کی جیسے آنکھوں سے درد بہہتاجا رہا تھا
دسمبر کی سردی تھی
میرے کانوں میں بچی کے الفاظ گونج بن کر جم چکے تھے
ماں کیا یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں۔۔۔۔۔
بچوں کی باتوں سے اب خوف آتا ہے
ہمیں تو دسمبر سے خوف آتا ہے
یہ ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے
دل پر کھروچ لگاتا جا رہا ہے ، دسمبر گزرتا جا رہا ہے

Rate it: Views: 60 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 20 Dec, 2017
About the Author: Sh. Khalid Zahid

Take good care of others who live near you specially... View More

Visit 41 Other Poetries by Sh. Khalid Zahid »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.