مست ہوں میں
Poet: خرم شاہ جی
By: خرم شاہ, مانسہرہ

‎ہر شے میں پیوست ہوں میں مست ہوں میں
‎خود میں بندوبست ہوں میں مست ہوں میں

‎ہفت افلاک ہیں جس کے زیرِ زانو
‎دیوانے کی جست ہوں میں، مست ہوں میں‫‫

‎جیتنے والوں کے چہرے پر حیرت
‎محوِ رقصِ شکست ہوں میں ‫مست ہوں میں

‎یہ جو شرارت تھی ، ہے معصومانہ
‎کس نے کہا بد مست ہوں میں، مست ہوں میں

‎کرتا ہے سب کچھ وہ میرے وسیلے
‎اس کی چشم و دست ہوں میں، مست ہوں میں

‎خرم شاہ کو چھوڑ آیا ہوں دفتر
‎اب بس شاہ الست ہوں میں مست ہوں میں

Rate it: Views: 4 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 05 Dec, 2017
About the Author: خرم شاہ

Visit 2 Other Poetries by خرم شاہ »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.