آنکھیں نم ہو جاتی ہیں (غزل)
Poet: Sagar Haider Abbasi
By: Sagar Haider Abbasi, Karachi

یہ سورج جیسے ہی ڈھلتا ہے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
جواں ہوتی ہے جو یہ شام آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

سکونِ دل کی خاطر جو تمہارا نام لکھتا ہوں
میں لکھ کر نام پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہٰیں

تری یادوں کے مجھ پر قافلے جب بھی اترتے ہیں
ترے غم سے گزرتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

میں لوگوں سے تو ہنس کر مل لیا کرتا ہوں محفل میں
مٰیں جب بھی خود سے ملتا ہوں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں

کوئی جب پیار سے مجھ کو جو گلے سے لگاتا ہے
مرا دل ٹوٹ جاتا ہے یہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے محبت کے سوالوں پر
کسی سے کچھ نہ جو کہہ پاوں آنکھیں نم ہوجاتی ہیں

کوئی جب پوچھ لیتا ہے تمہارا حال کیسا ہے
میں گر خاموش رہ جاؤں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

میں دن مصروفیت کے جب بہانے ٹال دیتا ہوں
ابھرتی شام ہے یہ جب تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

ابھی باقی ہے جاناں مجھ میں یہ احساس غربت کا
محل جو کوئی گر دیکھوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

ہزاروں دل کو میرے دل کی چاہت ہے مگر ساگر
ترے انداز یاد آہیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہٰیں
 

Rate it: Views: 20 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 17 Oct, 2017
About the Author: sagar haider abbasi

Sagar haider Abbasi
.. View More

Visit 210 Other Poetries by sagar haider abbasi »
 Reviews & Comments
very nice poetry sir g
By: shamrooz, karachi on Oct, 21 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.