یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا
Poet: Jaun Elia
By: rehan, khi

یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا
محبت زک اٹھا کر آئی تھی کیا

نہ کثدم ہیں نہ افعی ہیں نہ اژدر
ملیں گے شہر میں انسان ہی کیا

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں
فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

یہ ربط بے شکایت اور یہ میں
جو شے سینے میں تھی وہ بجھ گئی کیا

محبت میں ہمیں پاس انا تھا
بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا

نہیں ہے اب مجھے تم پر بھروسا
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا

جواب‌ بوسہ سچ انگڑائیاں سچ
تو پھر وہ بیوفائی جھوٹ تھی کیا

شکست اعتماد ذات کے وقت
قیامت آ رہی تھی آ گئی کیا
 

Rate it: Views: 142 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 06 Jul, 2017
About the Author: Owais Mirza

Visit Other Poetries by Owais Mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.