پھر سے دید و شنید ہو جائے
Poet: ابنِ منیب
By: ابنِ مُنیب, سویڈن

پھر سے دید و شنید ہو جائے
دل سراپا اُمید ہو جائے

دُور ہوتا گیا ہے وہ ہم سے
جیسے ماضی بعید ہو جائے

اُس کی قسمت پہ رشک جو اپنی
جستجو میں شہید ہو جائے

تار بن کر تڑپ اُٹھے ہستی
درد ایسا شدید ہو جائے

آپ کہتے ہیں دل نہیں دیں گے
بات اِس پر مزید ہو جائے؟

حشر تک انتظار کر لیں گے
کوئی وعدہ وعید ہو جائے

زخم دیتے ہوئے کہا اُن نے
عاشقی کی رسید ہو جائے؟

گر بڑھا دیں وہ ہاتھ بیعَت کو
سخت کافر مُرید ہو جائے

لے کے نکلیں وہ ہاتھ میں خنجر
جانثاروں کی عید ہو جائے

شانِ ماضی پہ بیٹھنے والو
ذکرِ عہدِ جدید ہو جائے؟

آنکھ ہو تو حقیقتِ ہستی
چشمِ نم سے کشید ہو جائے

کیا خبر ہے مُنیبؔ تاریکی
صبحِ نو کی نوید ہو جائے

(ساتویں شعر میں "اُن نے" شوقیہ استعمال کیا ہے، کلاسیکی شعراء کی یاد میں)

Rate it: Views: 21 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 08 Jun, 2017
About the Author: Ibnay Muneeb

https://www.facebook.com/Ibnay.Muneeb.. View More

Visit 117 Other Poetries by Ibnay Muneeb »
 Reviews & Comments
wah buhat khoob
shairy ka lutf krta gaya dobala hr naya shair any wala
EXCELLENT
stay blessed Always
By: uzma, Lahore on Jun, 11 2017
Reply Reply to this Comment
Many thanks :) . Aadab.
By: Ibnay Muneeb, Lahore on Aug, 06 2017
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.