محبت صرف دھوکہ ہے
Poet: SAGAR HAIDER ABBASI
By: sagar haider abbasi, Karachi

تم نے تو کہا تھا کے نگاہیں کبھی نہ بدلو گے
ہمارا ساتھ نبھاؤ گے راہیں کبھی نہ بدلو گے
تم نے تو کہا تھا کے آنکھ میں آنسو نہ لاؤ گے
قسمیں وفا کی کھاتے تھے ہم کو نہ بھولاؤ گے
کیا وہ لفظ کتابی تھے؟ کیا وہ لمحات خابی تھے؟
کیا وہ قسمیں جھوٹی تھیں؟ کیا وہ وعدے فریبی تھے؟
ہاں اب مجھ کو ایسا لگتا ہے
کہ وہ لفظ کتابی تھے وہ لمعات خابی تھے
جھوٹی تیری قسمیں تھیں وعدے تیرے فریبی تھے
سنو محبت کے جزیروں پر پگھلتی جب برف دیکھو گے
تو تم کو احساس ہو گا کہ پگھلنا کیا ہوتا ہے
دردِ جدائی کسے کہتے ہیں ؟
غم کی آگ میں جلنا کیا ہوتا ہے؟
تم نے تو کہا تھا کے محبت دلوں کا سودا ہے
غلط تم غلط کہتے تھے محبت جسموٰں کا سودا ہے
ہاں جسموں کا سودا ہے
محبت صرف دھوکہ ہے
محبت صرف دھوکہ ہے

Rate it: Views: 46 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 19 Apr, 2017
About the Author: sagar haider abbasi

Sagar haider Abbasi
.. View More

Visit 210 Other Poetries by sagar haider abbasi »
 Reviews & Comments
amzing lines sagar sahab
By: saima naz, KARACHI on Apr, 22 2017
Reply Reply to this Comment
nice sir boht khoob
By: shamrooz younus, karachi on Apr, 21 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.